فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر454

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر454
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر454

  



جب تک پاندان کھلا رہتا تھا حاضرین کی بے تابی میں اضافہ ہوتا رہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا کہ پان کی گلوری منہ میں رکھے بغیر کہانی کا آغاز کیا جائے۔ سب سے پہلے اماں اپنے لیے پان بناتی تھی۔ اس کے بعد لڑکیوں بالیوں کی فرمائشیں پوری کرتی تھی۔ لڑکوں کو پان کھانے پر ٹوکا جاتا تھا مگر کبھی کبھی پان کا ایک ٹکڑا مل جاتا تھا۔ البتہ انہیں الائچی اور چھالیا کے چند دانے فراہم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔

ہم سب بے تابی سے پاندان بند ہونے کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ جیسے ہی پاندان کا ڈھکنا بند ہوتا سب کی ’’ہوں ہوں‘‘ شروع ہو جاتی کہ اب ضبط کا یارا نہیں ہے۔ کہانی شروع کیجئے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر453 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اماں اس معاملے میں جمہوریت کی قائل تھیں۔ پہلے یہ سوال کرتی تھیں کہ بھئی آج کون سی کہانی سنو گے؟ ہر شخص اپنی فرمائش بیان کرتا تھا لیکن اکثریت کی بات مان لی جاتی تھی۔ کبھی کسی کا دل رکھنے کے لیے اماں کسی فرد واحد کی فرمائش کو فوقیت دے دیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ بھئی یہ کون سی روز روز فرمائش کرتا ہے یا کرتی ہے۔ آج اس کا دل رکھنے کو یہی کہانی سنا دیتے ہیں۔

کہانیاں ہر قسم کی ہوتی تھیں۔ پرانی ادابی داستانیں، طلسم ہوش ربا، الف لیلہ کے قصے، مختلف مشہورتہذیبوں کا خلاصہ، تاریخی واقعات پر مبنی کہانیاں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے حالات زندگی اور اہم واقعات۔ مسلمانوں کی فتوحات اور مسلمان سپہ سالاروں کے کارنامے۔ بعض اوقات وہ کسی تازہ افسانے کو بھی کہانی بنا کر سنا دیا کرتی تھیں مگر یہ وضاحت ضرور کر دیتی تھیں کہ یہ افسانہ یا کہانی کس نے لکھی ہے اور اسکی ادبی یا علمی حیثیت اور مرتبہ کیا ہے۔ اس طرح مصنف کا تعارف بھی ہو جاتا تھا۔

حجاب اسماعیل پراسرار کہانیاں لکھنے کے لیے مشہور تھیں۔ یہ بعد میں حجاب امتیاز علی بن گئی تھیں ۔ان کی کہانیاں اماں نمک مرچ لگا کر اس طرح سنایا کرتی تھیں کہ پراسراریت میں مزید اضافہ ہو جاتا تھا۔ ڈراؤنی کہانیاں سنانے کی فرمائش بھی ہوا کرتی تھی۔ جنوِں بھوتوں اور پریت چڑیلوں کی داستانیں بھی اماں کو یاد تھیں۔ ہم سب ڈرتے بھی رہتے تھے مگر کہانی ختم کرنے پر اصرار بھی نہیں کرتے تھے۔چھوٹے بچے کھسکتے ہوئے بڑوں کے نزدیک اور ہم عموماً اماں کے لحاف کے اندر پہنچ جاتے تھے۔

اماں کی داستان گوئی کے دوران میں سوالات کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ معقول سوال کا جواب تو وہ دے دیا کرتی تھیں مگر بلا وجہ کے بے تکے اور بے معنی سوا ل برائے سوال پر ڈانٹ پڑ جاتی تھی۔ دوسرے سامعین بھی شدید احتجاج کرتے تھے۔ بعض کہانیاں اور بعض موڑ ایسے ہوتے تھے کہ کسی سوال کے ذریعے مداخلت سخت ناگوار گزرتی تھی مگر اماں ایسے سوال کا جواب ضرور دیا کرتی تھیں جس سے پوچھنے والے کی معلومات میں اضافہ ہو۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے ۔ کہانیوں کے موضوعات کا کوئی تعین نہیں تھا۔ یہ لامحدود تھے۔ شیخ سعدی کی حکایتیں۔ خیام کی رباعیوں کے ترجمے۔ خلیل جبران کی کہانیوں کی آسان اور عام فہم تلخیص۔ مرزا غالب کے واقعات اور اشعار۔ فسانہ آزاد، فسانہ عجائب کے واقعات اور کردار۔ ان کے لکھنے والوں کا تعارف ۔ غرضیکہ دنیا کا ہر موضوع کہانیوں کے ذریعے اماں سنا دیا کرتی تھیں پرچھوٹوں کے لیے میاں پودنے کی کہانی۔ سپاہی میاں اور بندر کی داستان، جب انتہائی فاقہ کشی کے عالم میں بندر نے سپاہی میاں کو ایک مٹھی بھنے ہوئے چنے پیش کئے تھے اور اس کے بعد سپاہی میاں کا پیچھا ہی نہ چھوڑا۔ جب سپاہی میاں ان سے جانے کے لیے کہتے تو وہ بندر جواب میں کہتا تھا۔ میں چلا جاؤں گا۔ مگر لاؤ میرے مٹھی بھر چنے۔ سپاہی میاں وہ مٹھی بھر چنے بھلا کہاں سے لا کر واپس کر سکتے تھے۔ اس لیے بندر سے نجات نہ مل سکی۔ پیر تسمہ پاکی کہانی اور اس کی تشریح۔ جل پری کی کہانی۔

گھر سے نکالے ہوئے بے روزگار سپاہی کی داستان جسے بیوی نے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا تھا کہ ’’تم نکھٹو آدمی ہو کچھ کما کر لاؤ گے تو گھر میں آکر منہ دکھانا ورنہ واپس نہ آنا۔‘‘

زاد راہ کے طو رپر بیوی نے ترس کھا کر چار روٹیاں بھی سپاہی کو دے دی تھیں۔ سپاہی میاں قصبوں اور جنگلوں میں مارے مارے پھرتے تھے۔ (اس زمانے میں جنگل زیادہ ہوا کرتے تھے)

جب بھوک نے بہت ستایا تو ہو ایک کنوئیں کی منڈیر پر جا کر بیٹھ گئے کیونکہ وہاں ڈول اور رسی بھی تھی جس کے ذریعے وہ پانی بھی حاصل کر سکتے تھے۔

چاروں، روٹیاں انہوں نے کنوئیں کی منڈیر پر رکھ دیں اور بلند آواز سے خود سے سوال کیا’ایک کھاؤں یا دو کھاؤں۔ تین کھاؤں یا چاروں کو ہی کھا جاؤں؟‘‘

حسن اتفاق سے اس کنوئیں میں چار پریاں رہتی تھیں۔ انہوں نے سپاہی میاں کی آواز سنی تو ڈر کر باہر نکل آئیں۔ ان کا رعب دار خوفناک حلیہ اور تلوار دیکھ کر وہ ڈر گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ خطرناک آدمی انہیں کھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 

انہوں نے ہاتھ باندھ کر درخواست کی کہ آپ ہم پر رحم کریں۔

سپاہی میاں نے کہا’’خاک رحم کروں۔ میں بھوکا اور بے روزگار ہوں۔ بیوی نے گھر سے باہر نکال دیا ہے۔‘‘

پریوں نے انہیں ایک دیگچی تحفے میں پیش کی جس کی یہ خوبی تھی کہ جو فرمائش کریں وہ پکا پکایا کھانا اس میں موجود ہوتا تھا۔ سپاہی میاں نے آزمائش کے طورپر آزمایا اور درست پایا تویہ دیگچی اٹھا کر گھر لے گئے۔

بیوی نے خالی ہاتھ آتے ہوئے دیکھا تو دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔

سپاہی میاں نے دیگچی کے بارے میں بتایا اور ثبوت بھی پیش کیا تو بیوی نے انہیں گھر میں داخلے کی اجازت دے دی۔

یہ دیگچی ان کے بہت کام آئی۔ پڑوسیوں پر بہت رعب پڑا۔ کھانے پینے کے جھنجھٹ سے آزادی مل گئی مگر پھر ایک دن جب وہ ایک سرائے میں مقیم تھے تو سرائے کی چالاک مالکہ نے اسکی خوبی سنی تو ایک ویسی ہی دیگچی کمرے میں لا کر رکھ دی اور اصلی دیگچی غائب کر دی۔ جب دیگچی کی کرامت غائب ہوگئی تو بیوی نے ایک بار پھر سپاہی میاں کو گھر سے نکال باہر کیا۔

سپاہی میاں چار بار کنوئیں پر گئے اور چاروں مرتبہ ایسے ہی نادر و نایاب تحائف پریوں نے ان کی نذر کیے تاکہ اپنی جان تو بچائیں۔ سپاہی میاں نے واپسی پر سرائے میں قیام کیا کیونکہ اس کی مالکہ ان کی بے وقوفی اور افادیت سے واقف ہوگئی تھی اور انہیں گھر جاتے ہوئے مفت میں سرائے میں قیام کرنے کی مستقل پیشکش کر دی تھی۔

سپاہی میاں سادگی میں تحفے کے بارے میں بتاتے تو سرائے کی مالکہ ویسی ہی ایک نقلی چیز ان کے کمرے میں رکھ دیا کرتی تھی اور اصلی تحفہ غائب کر دیتی تھی۔ ظاہر ہے کہ سپاہی میاں کی گھر جانے پر درگت بنتی تھی۔ آخر وہ تنگ آگئے۔ ادھر چاروں پریاں بھی اپنے خصوصی تحائف پیش کرکے تہی دست ہو چکی تھیں۔ بالآخر انہوں نے سپاہی میاں کی مدد کی اور سرائے کی مالکہ کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ آپ کی مجرم ہے۔ اس سے اپنی چیزیں واپس لیں۔ سپاہی میاں لحاظ کے مارے بولے کہ ثبوت کے بغیر کسی شریف عورت کو کیسے الزام دے سکتا ہوں؟

پریوں نے انہیں ایک موٹا سا جادوئی ڈنڈا دے دیا۔ اس کی خصوصیت یہ تھی کہ جو بھی جھوٹ بولتا تھا یہ ڈنڈا خود بخود یعنی(سیلف اسٹارٹ ہو کر) جھوٹے کی مرمت شروع کر دیتا تھا۔ سپاہی میاں یہ ڈنڈا لے کر سرائے میں پہنچے تو وہاں ان کی بہت آؤ بھگت کی گئی ۔مالکہ بھانپ گئی تھی کہ یہ احمق پھر کوئی نایاب تحفہ لے کر آیا ہے۔ اس کے دریافت کرنے پر سپاہی میاں نے ڈنڈے کی خصوصیت بیان کر دی اور پوچھا کہ میرا سامان تم نے غائب کیا ہے؟

سرائے کی مالکن نے صاف انکار کر دیا۔ یہ سنتے ہی جادوئی ڈنڈا حرکت میںآگیا اور سرائے کی مالکہ کی دھنائی کر دی۔ عاجز آکر اس نے حقیقت حال بیان کر دی اور سپاہی میاں کو ان کے تمام جادوئی تحائف لوٹا دیئے۔ سپاہی میاں گھر میں بیوی کے سامنے سرخ رو ہوگئے۔ادھر پریوں کی سپاہی میاں سے جان چھوٹ گئی۔

اس قسم کی دلچسپ داستانیں اماں اس قدر دلکش انداز میں مکالموں کی ادائیگی کے ساتھ اور مختلف کرداروں کے تاثرات کے ساتھ سناتی تھیں کہ ہم سب مبہوت رہ جاتے تھے۔ ہر کہانی کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا تھا اور یہ سبق آموز بھی ہوتی تھیں۔ اماں آخر میں یہ وضاحت ضرور کرتی تھیں کہ اس کہانی سے کیا سبق حاصل ہوتا ہے۔

آج جب ان دنوں کی یاد آتی ہے تو فلمیں اور ٹی وی اس کے سامنے ہیچ نظر آتے ہیں۔ جتنا تنوع اور موضوعات کی رنگا رنگی اماں کی داستانوں میں ہوتی تھی وہ آج ٹی وی کو کہاں نصیب ہے۔ اماں کا مطالعہ بہت زیادہ تھا جسے وہ کہانیوں کی شکل میں ہم سب کو گھول کر پلا دیا کرتی تھی۔بادشاہوں کے انصاف اور ظلم کی داستانیں سنا کر وہ اس طرز حکومت کی برائیوں اور خوبیوں کو واضح کر دیا کرتی تھیں۔ ہمارے علم کی بنیاد ان ہی کہانیوں نے فراہم کی اور سبق آموز اور عبرت ناک باتیں ہمارے ذہن پر نقش ہو کر رہ گئیں۔

دیکھیے۔ فلمی الف لیلہ سے بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ہم یہ بتا رہے تھے کہ اس سلسلے اور خود نوشت کا عنوان فلمی الف لیلہ کیوں منتخب کیاگیا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر455 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...