’’لڑکیاں اپنا نام رخسانہ کیوں رکھتی ہیں ؟‘‘یہ رخسانہ کون تھی ، ایک ایساانکشاف کہ ہر کوئی دنگ رہ جائے گا

’’لڑکیاں اپنا نام رخسانہ کیوں رکھتی ہیں ؟‘‘یہ رخسانہ کون تھی ، ایک ...
’’لڑکیاں اپنا نام رخسانہ کیوں رکھتی ہیں ؟‘‘یہ رخسانہ کون تھی ، ایک ایساانکشاف کہ ہر کوئی دنگ رہ جائے گا

  


لاہور(ایس چودھری)ایک زمانے میں بچیوں کا نام ’’رخسانہ‘‘ رکھنے کا بہت رواج تھا ۔اگرچہ ابھی بھی پاکستان ،ایران اور انڈیا میں رخسانہ نام رکھا جاتا ہے لیکن اسکو سب سے زیادہ مقبولیت یونان میں حاصل ہے۔ اس نام کی خوبصورتی اور دلکشی پر کئی فلمیں بن چکیں اور ناول و فسانے بھی لکھے جاچکے ہیں جس سے ’’رخسانہ‘‘ نام کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہواہے ۔ ماضی میں ’’رخسانہ‘‘نام رکھنا رواج بھی تھا اور فیشن بھی کیوں کہ پچھلی ایک صدی کے دوران یہ نام ایران سے پاک وہند میں نیا نیا وارد ہوا تھا۔

رخسانہ کا مطلب ہے خوبصورت گالوں والی ۔دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ ’’رخسانہ‘‘ قدیم یونان اورقدیم ایران میں ایسی لڑکیوں کا نام رکھا جاتا تھا جو قدرتی طور پر خوبصورت گالوں کی مالک ہوتی تھیں اور ان کا ملکوتی حسن دیکھنے والوں کو گھائل کردیتا تھا ۔اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’رخسانہ ‘‘ عظیم فاتح سکندر اعظم کی محبوبہ کا نام تھا جس کے بعد رخسانہ کا نام ایسا معروف ہوا کہ آج بھی اسکی شہرت میں کمی واقعی نہیں ہوئی ۔

سکندر اعظم کی محبوبہ ’’رخسانہ ‘‘(Roxana) ایرانی شہزادی تھی جسکے عشق نے سکندر اعظم کو اس سے شادی پر مجبور کردیا تھا ۔وہ تیس سال کی عمر میں مرگئی تھی۔تاریخ کے مطابق وہ 340 قبل مسیح میں پیدا ہوئی اور 310 قبل مسیح میں اسکو اسکے بیٹے الیگزنڈر چہارم کے ساتھ زہر دیکر ماردیا گیا تھا ۔

رخسانہ کی داستان فسانوں سے بھری ہوئی ہے۔اس پر ہالی ووڈ نے بھی درجنوں فلمین بنائی ہیں۔وہ سکندر اعظم کی واحد بیوی تھی جس نے اولاد نرینہ کو جنم دیا تھا ۔سکندر اعظم نے اس سے شادی کیوں کی ؟ یہ بھی بڑی دلچسپ داستان ہے ۔رخسانہ کی عمر اس وقت تیرہ سال تھی ۔اس کا باپ قدیم ایرانی سلطنت باختر کا شہنشاہ تھا ۔یہ ریاست ہندوکش کے کنارے واقع تھی اور اسکا رقبہ اور عملداری موجود ایران ،افغانستان،ترکمانستان ا ورازبکستان تک پھیلی ہوئی تھی۔

سکندر اعظم جب مقدونیہ سے نکلا تو رخسانہ کے باپ وخشارد(Oxyartes) نے اس کا مقابلہ کیا لیکن سکندر اعظم نے اسکو شکست دی ،قبل اس کے کہ وہ وخشارد اور اسکے عمائدین و سالاروں کو تہہ تیغ کردیتا ،رخسانہ کے حسن کا جادو اس پر چل گیا اور وہ اسکے دام عشق میں ایسا گرفتار ہوا کہ فاتح ہونے کے باوجود اس نے اسکے باپ سے صلح کی ۔جب سکندر اعظم ہندوستان کی جانب گامزن ہوا تو اس نے رخسانہ کے والد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسکو ہندوکش کا گورنر بنادیا۔

سکندر اعظم کی موت کے بعد رخسانہ نے اسکے بیٹے الیگزنڈر چہارم کو جنم دیا اور اسکی دادی کے پاس پناہ لیکر اسکی تربیت شروع کی ۔رخسانہ کو یقین تھا کہ سکندر اعظم کو اسکی دوسری بیویوں نے زہر دیکر مارااس لئے وہ سکندر کی نشانی کو بچا کر اسکو مقدونیہ کا شہنشاہ بنانے میں مصروف ہوگئی لیکن دوسری جانب رخسانہ پر ہی سکندر اعظم کے قتل کا الزام لگا کیونکہ اس کے پیچھے اسکا انتقام تھا۔سکندر اعظم نے اسکے والد کی سلطنت تباہ کرکے اسکی شہنشاہیت ختم کردی تھی ۔

محقیقین کے مطابق سکندر اعظم کی موت کے بعد کاساندر نے امور سلطنت اپنے ہاتھوں میں لے لئے تھے ۔وہ اورسکندر اعظم دونوں ہی ارسطو کے شاگرد تھے۔کاساندر کے حکم پر رخسانہ اور اسکے بیٹے کو قتل کردیا گیا تھا لیکن سکندر اعظم کی طرح رخسانہ کو بھی زمانے نے اپنی داستانوں میں آج بھی یاد رکھاہے اور کوئی کاساندر نامی مقدونیہ کے شہنشاہ کو نہیں جانتا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...