سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 1

سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا ...
سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 1

  


 عربی نسل کا ”اَبلخ گھوڑا “ اپنی پشت پر نقاب پوش سوار کو لئے پوری شان اور طمطراق کے ساتھ میدان میں داخل ہوا۔ یہ ”ادرنہ “ کا میدان حواجز تھا۔ چاروں طرف کی نشستیں تماشائیوں سے بھری تھیں ۔ نقاب پوش گھڑ سوار کے داخل ہوتے ہی پنڈال پر سناٹا چھا گیا۔ آج ترکوں کا سالانہ تہوار تھا۔ اسٹیڈیم میں شمشیر زنی ، نیزہ بازی اور دیگر کھیلوں کے مقابلے ہورہے تھے۔ نقاب پوش گھڑ سوار اپنی دو دھاری البانوی شمشیر کو لہراتا ہوا میدان کے وسط میں آکر رُک گیا اور اگلے لمحے اُس نے اپنے چہرے سے نقاب اُلٹ دی۔

یہ ”سکند بیگ“ تھا ۔ سلطان مراد خان کا چہیتا منہ بولا بیٹا ۔ اُس کے گھوڑے کی پشت پر ایک بار یک چھڑی کے ساتھ ”سلطان بایزید یلدرم“ کا پرچم لہرارہا تھا۔ سکندر بیگ نے میدان میں ایک طرف کھڑے ”ینی چری“ کے سالاروں کو مخاطب کیا۔ یہ سالار اس اسٹیڈیم میں ہونے والے مقابلوں کے منصفین تھے ۔ سکندر بیگ نے کہا ۔

”آلِ عثمان کے جاہ و جلال کی قسم ! پوری سلطنت عثمانیہ میں کوئی جو ان ایسا نہیں جس کے بازوﺅں میں سکندر بیگ کو شکست دینے کی ہمت ہو۔۔۔ اگر ایسا کوئی مردِ میدان اس میلے میں موجود ہے تو میں اُسے قوت آزمائی کی دعوت دیتا ہوں۔ “

سلطنت عثمانیہ کے پُرجلال فرمانروا ”سلطان مراد خان ثانی “ کی چھتری دار نشستیں سکندر بیگ کے بالکل سامنے تھی ۔ سلطان نے سکندر بیگ کی للکار سنی تو فخر سے مسکرایا۔ لیکن سلطان سے چند نشستیں دُور بیٹھی ”مارسی “ کے ماتھے پر سلوٹیں پڑ گئیں ۔ مارسی سکندر بیگ کی شان و شوکت پر بل کھا کر رہ گئی ۔ یہ البانوی حسینہ سکندر کو ناپسند کرتی تھی ۔ سکندر کی تعلی سن کر ینی چری فوج کا ایک نوجوان سالار آغا حسن آگے بڑھا ۔ آغا حسن کو دیکھتے ہی سکندر کے چہرے پر حقارت آمیز مسکراہٹ پھیل گئی ۔ آغا حسن ایک دراز قد ایرانی النسل گھوڑے پر سوار تھا اور اُس کے داہنے ہاتھ میں یمن کی بنی ہوئی بھاری بھر کم تلوار تھی ۔

مقابلے کے دونوں شریک ایک دوسرے کے سامنے آئے تو پورے میدان میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی ۔ تماشائیوں کے چہروں پر جوش و جذبہ دکھائی دینے لگا اور مارسی اپنی نشست پر مچل کر رہ گئی ۔ ایک منصف نے تکبیر بلند کر کے مقابلے کے آغاز کا اعلان کیا تو دونوں سوار اپنے اپنے گھوڑوں کی لگامیں تھامے ایک دوسرے کے بالکل نزدیک آگئے۔ سکندر بیگ نے رعونت آمیر لہجے میں کہا۔

”بہت خوب ۔۔۔! نوجوان ! مجھے تمہارے جرا¿ت دیکھ کر حیرت ہوئی ہے۔ میں تمہیں حملے میں پہلی کی اجازت دیتا ہوں۔ “

آغا حسن ، سکندر سے مرعوب ہوئے بغیر آگے بڑھا اور سکندر پر پوری طاقت سے وار کر دیا۔ سکندر نے بجلی کی طرح پہلو بلد ل کر خود کو بچایا اور مسکرا دیا۔ لیکن آغا حسن پھری تیزی کے ساتھ آگے بڑھا اور سکندر پر پوری قوت سے دوسرا وار کردیا۔ سکندر کا گھوڑا اپنے مالک کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھا۔ گھوڑے نے آنِ واحد میں پینتر ا بدلا اور آغا حسن کا دوسرا وار بھی خالی چلا گیا۔ آغا حسن نے تیسری مرتبہ اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی لیکن اب سکندر اپناارادہ بدل چکا تھا۔ ۔ اُس نے جھکائی دینے کی بجائے تیزی کے ساتھ پے در پے وار کرنے شروع کر دیئے ۔ میدان میں تلواروں کی کھٹکار دور دور تک گونجنے لگی ۔ آغا حسن کو پسپا ہوتا دیکھ کر مارسی کا گلنار چہرہ ایک لخت سفید ہوگیا۔ اُسے جو اُمید بندھی تھی وہ ٹوٹنے لگی ۔ وہ سکندر کی شکست چاہتی تھی ۔ جبکہ سلطان مراد خان فخر سے گردن تانے مسکرا رہا تھا۔ وہ سکندر کے ہر وار پر عش عش کر اٹھتا۔

تھوڑی ہی دیر میں مقابلے کا فیصلہ ہوگیا۔ آغا حسن کی بھاری بھر کم تلوار سکندر کے ایک آہنی وار سے دولخت ہوگئی ۔ پورا اسٹیڈیم تالیوں کی آواز سے گونج اُٹھا۔ سکندر نے حسب سابق پھر مقابلہ جیت لیا تھا۔ سلطان مراد خان کے پہلو میں بیٹھا نوعمر شہزادہ فرط جوش سے اپنی نشست پر اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے تالیاں پیٹ رہا تھا۔ لیکن مارسی بے حد مضمحل تھی۔ اُسے سکندر بیگ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ کیونکہ سکندر اُس پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ مارسی کو سکندر کا کردار بھی ناپسند تھا۔ ۔۔ اور اپنی ماں کا بھی ۔ ادھیڑ عمر ”مارتھا“ مارسی کی ماں تھی۔ یہ عورت البانوی شہزادوں کے ساتھ ”اورنہ “ میں داخل ہوئی تھی۔ سکندر بیگ بھی البانوی شہزادہ تھا۔ اس کا البانوی نام ” جارج کسٹریاٹ“ تھا۔ سلطان مراد خان الثانی نے بہت عرصہ پہلے ”البانیہ “ کے فرمانروا” جان کسٹریات “ کو بزورِ شمشیر اپنا مطیع کر لیا تھا۔ جان کسٹریاٹ نے سلطان سے منت کر کے اپنی ریاست کی واپسی کا مطالبلہ کیا۔ سلطان نے اُس کی درخواست منظور کرلی اور ضمانت کے طور پر البانیہ کے حکمران نے اپنے چار بیٹے سلطان مراد خان ثانی کے حوالے کر دیئے۔ ان شہزادوں کے ہمراہ البانوی محل کی خاص کنیز ”مارتھا “ بھی روانہ کی گئی ۔ مارتھا سلطنت عثمانیہ کے دارالخلافہ” ادر نہ“ میں آئی تو اُس نے بہت جلد اشرافیہ کے طبقہ میں اپنا اثر و رسوخ پید اکر لیا۔ مارسی ، اسی مارتھا کی بیٹھی تھی اور جارج کسٹریات یعنی سکندر بیگ اسی مارتھا کے گھر میں پل کر جوان ہواتھا۔

سکندر بیگ نے ینی چری کی طبیعت کے مطابق عیسائیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن مارتھا ابھی تک اپنے مذہب پر قائم تھی ۔ مارسی کے دل میں اگرچہ اسلام کے لئے بے حد نرم گوشہ تھا لیکن ماں کے خوف سے وہ ابھی تک عیسائی مذہب کی پیروکار تھی۔ مارتھا ایک کٹر مذہبی عورت تھی ۔ اور اسلام کے خلاف بے پناہ تعصب رکھتی تھی ۔ مارسی کو اس وقت بے حد حیرت ہوئی جب اُس کی ماں نے سکندر بیگ کو اسلام قبول کرنے پر کچھ نہ کہا۔ مارسی اپنی ماں کی طرف سے مشکوک تھی ۔ مارسی کو شک تھا کہ اس کی ماں نے سکندر بیگ کو خود مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیاہے۔ وہ اپنی ماں اور اپنے ساتھ پل کر جوان ہونے والے جارج کسٹریات کے طرزِ عمل میں عثمانی سلطنت کے خلاف سازش کی بوسونگھ رہی تھی۔ (جاری ہے)

سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح


loading...