پولیس جدید تفتیشی وسائل کو بروئے کار لا کر ملزمان کو گرفتار کر سکتی ہے

پولیس جدید تفتیشی وسائل کو بروئے کار لا کر ملزمان کو گرفتار کر سکتی ہے

  

ملک میں کمسن بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے ہسپتالوں سے نومولود بچوں کے اغوا کی وارداتیں آئے روز رونما ہوتی ہیں گلی محلوں سے بھی کھیلتے ہوئے کمسن بچے اغوا کر لیے جاتے ہیں کمسن بچوں کے اغوا کے بعد والدین پر کیا قیامت ٹوٹتی ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے یہ موت سے بڑا صدمہ ہے اگر پولیس بروقت کاروائی کرے تو ان اغوا کاروں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے سانحہ قصور اس کی واضع ترین مثال ہے جہاں پر ایک جنسی درندے نے درجنوں کمسن بچیوں کو اغوا کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا بعض بے اولاد بھی بھاری بھر کم رقم دیکر ہسپتالوں سے نومولود بچے اغوا کراتے ہیں کمسن بچے کو تو یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا کہ اسکے والدین کون ہیں اور نہ ہی وہ اپنا اتا پتہ بتا سکتے ہیں صرف واقعاتی شہادت کے پیش نظر اسکا سراغ لگایا جاتا ہے گجرات کے علاقہ لالہ موسی کے محلہ قصبہ میں بھی چند یوم قبل ایک اوورسیز پاکستانی کا تین سالہ بچہ اغوا کر لیا گیا اس واقعہ کے بعد اہل خانہ پر قیامت ٹوٹ پڑی کمسن بچے کی والدہ نے ٹکریں مار مار کر اپنا حال برا کر لیا تو والد پر غشی کے دورے طاری ہو گئے اہل خانہ سبھی پر قیامت ٹوٹ پڑی واقعہ کی اطلاع فوری طور پر تھانہ سٹی لالہ موسی کو دی گئی جنہوں نے حالات اور واقعات کی نزاکت کے پیش نظر ڈی پی او پروفیسر سید علی محسن کاظمی کو بچے کے اغوا کے بارے میں بتایا یہ دکھ کوئی والد‘ والدہ‘بہن یا بھائی ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ لخت جگر جسے دیکھ کر آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون آتا ہے وہ اغوا کر لیا جائے تو اہل خانہ جیتے جی مر جاتے ہیں پروفیسر سید علی محسن کاظمی نے اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر سب سے پہلے ماضی کی طرح اللہ کے حضور سر بسجود ہو کر بچے کی سلامتی کی دعا مانگی‘اور پولیس کو حکم دیا کہ انہیں ہر حال میں اغوا کیا جانے والا بچہ زندہ چاہیے تمام ضلع کی پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا مغوی بچہ تابش نوید جس کی عمر پونے تین سال تھی کے داداسکندر خان کی رپورٹ پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے اسکی تلاش شروع کر دی تو دوسری طرف ڈی پی او پروفیسر سید علی محسن کاظمی بھی چین سے نہ بیٹھے اور انہوں نے فوری طور پر ڈی ایس پی لالہ موسیٰ سرکل کی زیر نگرانی، ایس ایچ او تھانہ سٹی لالہ موسیٰ عامر سعید،انچارج آئی ٹی سیکشن اور تجربہ کار پولیس افسران پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی اور افسران کو ہدایت کی کہ بچے کی بازیابی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اغواکاروں کو جلد ازجلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اپنے کمانڈر کی ہدایت پر خصوصی ٹیم بچے کی بازیابی کیلئے متحرک ہوئی پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا اس دوران کئی مشکوک افراد کو حراست میں لیکر شامل تفتیش کیا گیا سرچ آپریشن شروع ہوتے ہی گرفتاری کے خوف سے اغوکاروں نے بچے کو ویرانے میں چھوڑا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے پولیس نے بچہ کو تحویل میں لیکر والدین کے سپرد کر دیا ملزمان کی تلاش جاری ہے ڈی پی او گجرات پروفیسر سید علی محسن کاظمی نے بروقت ایکشن اور بچے کی بازیابی پر ٹیم کے افسران کو تعریفی اسناد سے نوازا ہے گجرات پولیس کو یہ کامیابی کیسے ملی اسکی تو ایک لمبی داستان ہے تاہم ڈی پی او پروفیسر سید علی محسن کاظمی جو ایک اعلی تعلیم یافتہ کرائم فائٹر اور خلق خدا کی خدمت سے سرشار ہیں نے اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے پولیس کو ایسی ہدایات جاری کیں جس سے اغوا کاروں کو بچہ لیکر فرار ہونے کا موقع نہ ملا جنسی جنونیت کے مریض وسیع پیمانے پر گرفتار ہوئے تو گھیر ا تنگ دیکھ کر کوئی اغوا کار بچے کو چار یوم بعد اسی گلی میں چھوڑ گیا گجرات پولیس کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے مقدمات کی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے پروفیسر سید علی محسن کاظمی کی زیر صدارت ماہانہ پولیس پراسیکیوشن کوارڈینیشن کمیٹی کی میٹنگ رکھی جاتی ہے جس میں پولیس اور پراسیکیوشن کے کام‘ مقدمات کی پیش رفت سمیت دیگر معاملات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر بابر جاوید،اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر سید ظہیر عباس اور ڈی ایس پی لیگل اختر محمود گوندل اس حوالے سے بطور ممبر کمیٹی ڈی پی او گجرات کی معاونت کرتے ہیں تفتیشی افسران کو سنگین نوعیت کے جرائم کا سراغ لگانے اور نیشنل ایکشن پلان کے زمرے میں آنیوالے جرائم سے نمٹنے کیلئے خصوصی تربیت کا سلسلہ بھی جاری ہے اس سلسلہ میں مختلف مواقع پر ورکشاپس کرائی جاتی ہیں تربیتی ورکشاپس کے نتیجہ میں چالان میں پائے جانیوالے نقائص ختم اور تفتیش کا معیار مزید بہتر ہوا ہے تفتیشی افسران کی مرحلہ وار تربیت کیلئے ماہر تفتیشی افسران‘ سینئر ججز‘ پراسیکیوشن برانچ کے افسران،ماہر وکلاء اور ریٹائرڈ پولیس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تربیتی ورکشاپوں سے پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے تفتیش اور شہادتوں کے اکٹھا کرنے کا معیارمزید بہتر ہوا ہے اور چالان میں پائے جانے والے نقائص بھی دور ہوئے ہیں ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر بابر جاوید کی سربراہی میں پراسیکیوشن برانچ بہترین طریقے سے کام کررہی ہے پولیس اور پراسیکیوشن برانچ کے مابین مثالی تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -