ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے جرائم پر کنٹرول

ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے جرائم پر کنٹرول

  

لاہور شہرہمیشہ سے امن کا گہوارہ رہا ہے تاہم ملک دشمن عناصر نے 08مئی 2019ءکو دربارحضرت داتا علی ہجویریؒ کے باہر خودکش دھماکہ کر کے داتا کی نگری کا امن برباد کرنے کی بزدلانہ کوشش کی۔اس خود کش حملے میں ایلیٹ فورس کے 05 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب صرف دو روز پہلے لاہور پولیس آپریشنز ونگ کی کمان ڈی آئی جی اشفاق خان کو سونپی گئی تھی۔ اشفاق خان کا شمارپنجاب پولیس کے انتہائی منجھے ہوئے ،پروفیشنل اور کرائم مینجمنٹ کے ماہر افسران میں ہوتا ہے ۔وہ اس سے قبل بہاولپور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں پولیس کی کمانڈ کر چکے ہیں۔ لاہور میں بم دھماکہ کے بعدشہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقراررکھنا اوردشمن کی کسی ایسی مزید بزدالانہ کاروائی کے آگے بند باندھنااشفاق خان کے لئے تعیناتی کے بعد سب سے بڑا چیلنج تھا کیونکہ دہشت گردی کے خطرات اور خدشات بدستور موجود تھے۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان کو اس اہم ترین عہدے پر تعیناتی کے حوالے سے کوئی ہنی مون پیریڈ نہیں ملا اور انہیں چارج سنبھالنے کے فوراََ بعد ہی لاہور کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے میدان میں آنا پڑا۔ اشفاق خان نے ذاتی دلچسپی اور فیلڈ میں خود نکل کر انتہائی پیشہ ورانہ اقدامات کے ذریعے دشمن کے ممکنہ ناپاک عزائم کی راہ میںفول پروف سکیورٹی کی وہ دیوار کھڑی کر دی جسے وہ بوجہ کوشش بھی عبور نہ کر سکا اور الحمد اللہ پورا رمضان المبارک اور عید الفطر نہایت پر امن اورپر سکون گزرے۔ رمضان المبارک کے دوران یوم شہادت حضرت علیؓپر مرکزی جلوس کی سکیورٹی یقینی بنانا بھی کسی چیلنج سے کم نہ تھا جس سے نبردآزما ہونے میںمو جودہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ان کی ٹیم کامیاب و کامران رہے۔یوم شہادت حضرت علی ؓ اللہ کے فضل و کرم، لاہور پولیس کی شب و روز کی محنت اور شہریوں کے بھرپور تعاون سے پر امن گذرا۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان اور اُنکی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے جنہوں نے سانحہ داتا دربار کے بعد لاہور کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اور پائیدار لائحہ عمل تشکیل دیا۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہورسانحہ دربار حضرت علی ہجویریؒ کے شہید ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل کے اہل خانہ سے تعزیت کے لئے ان کے آبائی گھر گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہراں ورکاں کے گا¶ں متاں کلاں گئے۔انہوں نے شہید ہیڈ کانسٹیبل سہیل کے والد صابر حسین،بیوہ آسیہ سہیل،شہید کے بچوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کی اورمحمد سہیل کی شہادت پر ورثا کے غم میں شریک ہوئے۔انہوں نے شہید کے ورثا کو آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز کی طرف سے بھرپور تعاون اور دیکھ بھال کا پیغام بھی پہنچایا ۔ اشفاق خان نے لاہور پولیس کا مورال بلند کرنے کے لئے سانحہ داتا دربار کے بم دھماکے کے شہید ایلیٹ فورس کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے قربان لائن میں ایلیٹ فورس کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے ساتھ روزہ بھی افطار کیا۔ رمضان المبارک میں بین المذاہب یک جہتی کے فروغ ، بھائی چارے اور تحمل و برداشت کے رویوں کو فروغ دینے کے لئے ضلعی امن کمیٹی سمیت تاجروں ، علاقائی نمائندوں اور معززین شہر کے اجلاس منعقد کر کے امن و امان قائم رکھنے کے لئے بھرپور مشاورت کی گئی۔ مساجدو امام بارگاہوں ، مذہبی عبادت گاہوں، مزارات اور دیگر اہم مقامات کی سکیورٹی بڑھائی گئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور انکی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر نماز تراویح سمیت مختلف اوقات میں گاہے بگاہے سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات افسران اور ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لیتے اور انہیں اس ضمن میں ضروری ہدایات دیتے رہے۔کرائم کنٹرول کے لئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے تعیناتی کے فوراََ بعد شہر کے مختلف تھانوں کے اچانک دورے بھی کئے جو تاحال جاری ہیں۔ انہوں نے تھانوں کے عملہ کو شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کی ۔ تھانوں کا ماحول خوشگوار بنانے کےلئے کلین اینڈ گرین پولیس سٹیشنز کے نظریہ کا پرچار کیا۔لاہور پولیس کے نئے کمانڈر اشفاق خان کا شمار پروفیشنل اور کرائم مینجمنٹ کے ماہر افسران میں ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک نفیس اور نرم دل رکھنے والے انسان بھی ہیں۔ اشفاق خان اپنے ماتحت افسران و اہلکاروں کی کارکردگی بہتربنانے کیلئے سزا کی بجائے حوصلہ افزائی کرنے کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔

لاہورایک کروڑ دس لاکھ سے زائد آبادی کا شہر ہے جسکی آبادی اقوام متحدہ کے 122 رکن ممالک سے بھی زائد ہے۔ یہاں جرائم کی روک تھام اوران کا انسداد ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لئے سائنسی بنیادوں پر استوارپولیس کا نظام اشد ضروری ہے۔لاہور پولیس کی موثر حکمت عملی اور جدید میکانزم و انتظامی اصلاحات متعارف کروانے کے نتیجہ میں آج جرائم کی شرح میں واضح کمی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی ایک واضح وجہ وہ موثر اقدامات ہیں جو جرائم کنٹرول کرنے اور لاہور پولیس کو انتظامی حوالے سے بہتر بنانے کے لئے کئے گئے ہیں۔ جرائم کی روک تھام اور انسداد کے لئے اختیار کی گئی حکمت عملی کا اصل محور یہ جدید نظام وضع کرنا ہے تاکہ جرائم میں کمی کا ہدف مستقل بنیادوں پر حاصل کیا جا سکے اور لاہور کو خطے کا پر امن ترین میگا سٹی بنایا جا سکے۔

کرائم کنٹرول کیلئے اقدامات کے پیش نظر سب سے پہلے لاہور شہر کے تمام تھانو ں کے جرائم کی شرح میں اتار چڑھا¶ کا حقیقی جائزہ لے کر مختلف کیٹیگریز بنائی گئی ہیں۔اس مقصد کے لئے جدید آئی ٹی سہولیات کو بروئے کار لایاگیا ہے۔تجزیہ کے مطابق لاہور میں اے کیٹیگری کے35 تھانوں میں شہر کا 69فیصد کرائم سرزد ہوتا ہے،بی کیٹیگری کے 25تھانوں میں شہر کا 23فیصد جبکہ سی کیٹیگری کے 24تھانوں میں 08فیصد کرائم موجود ہے۔لہذا لاہور پولیس کی جانب سے مربوط حکمت عملی اپناتے اور حقیقت پسندانہ اقدامات کرتے ہوئے 69فیصد جرائم والے اے کیٹیگری کے 35تھانوں میں نفری کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا گیاہے ۔کرائم بیٹس اور کرائم ہاٹ سپاٹس کی تشکیل نو کی گئی ہے۔جدید دنیا کی پولیسنگ کو سامنے رکھ کر ڈولفن سکواڈ اور پولیس رسپانس یونٹس کی ایک موثر کرائم فائٹنگ فورس کے طور پر تنظیم نو کی گئی ہے ۔ڈولفن سکواڈاور پولیس رسپانس یونٹس کی تعیناتیاں مخصوص اوقات میں زیادہ جرائم کی شرح والے علاقوں میں نئے سرے سے کی گئی ہیں۔ان اقدامات کی مانیٹرنگ کی سہولت اب ہر ڈویژنل ایس پی کے آپریشن روم میں بھی میسر ہے۔زیادہ کرائم شرح والے تھانوں کے ایس ایچ اوز اور سٹاف کو ہر قسم کی سکیورٹی اور لاءاینڈ آرڈر ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دیاگیا ہے۔ماڈرن پولیسنگ کے تحت آبادیوں اور جرائم کی شرح کو بنیاد بنا کرہر تھانے کی ضروریات کا حقیقی بنیادوں پرتعین کر کے وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔تھانہ جات کو اضافی نفری ، موٹر سائیکل و دیگر ضروری سازوسامان بھی دیا گیا ہے۔باقاعدہ جرائم کے تجزیے کے بعد 03ہزار اضافی نفری تھانوں کو دی گئی ہے جبکہ گشت کے لئے 400موٹرسائیکل مزید دیئے جا رہے ہیں ، 200نئی بیٹس بنائی جا رہی ہیںتاکہ گشت کوموثر بنایا جا سکے اور کرائم کنٹرول ہو ۔

لاہور پولیس کے سکیورٹی ڈویژن کو مزید مستحکم ، مربوط، خود مختار اور زیادہ منظم و موثر بنایا گیاہے۔لاءاینڈ آرڈر کے لئے سکیورٹی ونگ کو علیحدہ سے نفری فراہم کی گئی ہے ۔جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کے لئے150سپیشل آپریشن ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں۔جرائم کی ایف آئی ار درج نہ کرنے کی حوصلہ شکنی کے لئے ریسکیو 15کی کال کوکرائم میپنگ اور کارکردگی کا جائزہ لینے کی بنیاد بنایا گیاہے۔یاد رہے کہ لاہور میں 15کی کالزپنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے آئی سی تھری سیکشن میں موصول ہوتی ہیں اور ان کا تمام ڈیٹا خود کار نظام کے تحت مرتب ہوتا ہے۔ 15کی کالز پر ایف آئی آر کے اندراج کو یقینی بنایا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ مستند اعداد شمار کے مطابق ایف آئی آرز کے انداراج میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ نومبر 2018سے اس سال اب تک پراپرٹی سے متعلقہ کرائم میں ایف آئی آرز کی رجسٹریشن کی شرح 52فیصد ہے۔جس سے سائلین کی ایف آئی آرزدرج نہ ہونے کی دیرینہ شکایات کا خاتمہ بھی ممکن ہوا ہے۔بغیر نمونہ اور ممنوعہ نمبر پلیٹس والی موٹر سائیکلوں کو بڑی تعداد میں تھانوں میں بند کیا گیا ہے۔موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کے نظام کو مزید موثر بنایاگیاہے۔قانون کی خلاف ورزی پر اوسطا 400موٹر سائیکلوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے ۔ناکوں پر اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف(AVLS)کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔عادی اور سنگین جرائم میں ملوث اشتہاری و عادی مجرمان اور موٹر سائیکل چوروں کو پکڑنے کے لئے20ہزار افراد پر مشتمل مفصل فہرستیں تشکیل دی گئیں ہیں جبکہ ٹاپ 700مجرمان کی گرفتاری کے لئے بھی مربوط انتظامات کئے گئے ہیں۔لاہور پولیس کے جدید اصلاحات پر مبنی اقدامات کی بدولت عمومی کرائم 50فیصد جبکہ پراپرٹی کے خلاف ہونے والا کرائم کا گراف 23فیصد نیچے آیا ہے ۔ورلڈ کرائم انڈیکس 2019ءکی رپورٹ کے مطابق لاہور میں جرائم کی شرح میں گزشتہ سال کی نسبت واضح کمی واقع ہوئی ہے اور لاہور کو آج پہلے سے زیادہ محفوظ شہر قرار دیا جا رہا ہے ۔بین الاقوامی سروے کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور ادارہ جاتی اصلاحات اور جعدید سائنسی ٹیکنالوجی کے ذریعے امن و امان کو بہتر بنانے اور کرائم کنٹرول کے لحاظ سے گذشتہ سال کے 138 ویں نمبر کے مقابلے میںاس سال 174 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ورلڈ کرائم انڈیکس کے سروے میں کسی بھی شہر کی درجہ بندی بڑھنے کا مطلب اس شہر میں کرائم کی شرح میں کمی ہے ۔ ورلڈ کرائم انڈیکس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق لاہور میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے اورلاہور گزشتہ سال کی نسبت مزید محفوظ ہوگیاہے ۔ورلڈ کرائم انڈیکس کی ویب سائیٹwww.numbeo.comپر لاہور شہر کے حوالے سے سروے رپورٹ کے نتائج دیکھے جا سکتے ہیں۔گذشتہ سال 2018ءمیں ورلڈ کرائم انڈیکس کی سروے رپورٹ کے مطابق جرائم کی شرح کے اعتبار سے لاہور138 ویں نمبر تھا۔ تاہم سال 2019ءمیںلاہور پولیس کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے اوررواں سال لاہور جرائم کی شرح کے اعتبار سے 174 ویں نمبر پر آگیا۔ انڈیکس رپورٹ کے مطابق شہر میں ڈکیتی،راہزنی اور رشوت ستانی کے حوالے سے سرزد ہونے والے جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔شہر میں نسلی تعصب کی وجہ سے ہونے والے جرائم میں بھی واضح کمی ہوئی ہے۔ 2018ءکی نسبت رواں سال دن کے اوقات میں جرائم کی شرح میں15% جبکہ رات کے وقت شہر میں ڈکیتی کی وارداتوں میں 18%کمی ہوئی۔ سروے رپورٹ میں کراچی کا جرائم کی شرح کے حوالے سے بہتری آنے پر اس سال61 واںنمبر ہے جبکہ2014ءمیں کراچی چھٹے نمبر پر تھا ۔لاہور میں جرائم کی شرح میں کمی کےلئے مختلف اقدامات میں تھانوں میں نفری پوری کرنا ، وسائل کی فراہمی ، اشتہاری و عادی مجرمان کی گرفتاریاں ، ڈولفن اور پولیس رسپانس یونٹس کی پٹرولنگ کو مزید موثر بنانا شامل ہیں۔تجزیاتی رپورٹ کے مطابق شہر کے زیادہ کرائم والے 35تھانوں میں جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 43فیصد کمی واقع ہوئی۔یہ تما م اعداد شمار پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے شعبہ آئی سی تھری میں موصولہ 15کی کالز پر مبنی ہیں جس کے مطابق لاہور شہر میں جرائم کے وقوع پذیر ہونے کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔پولیس کاردگی میں بہتری لانے کے لئے مختلف یونٹس کا انتظامی ڈھانچہ بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے ۔شخصی کارکردگی کی بجائے ادارہ جاتیSystematicطریقے سے جرائم کی بیخ کنی کے لئے مربوط حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں12ماڈل تھانے بنائے جا رہے ہیں جہاں ایک ہی چھت تلے تمام جدید سہولیات شہریوں کو مہیا ہونگی ۔ تھانہ نولکھا اور تھانہ بادامی باغ کی سٹیٹ آف دی آرٹ عمارات کو فنکشنل کیا جا چکا ہے ۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے لئے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں ، انفارمیشن پول بنایا گیاتاکہ منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جا سکے ۔ لاہور پولیس نے رواں سال ٹاپ 50فیصد منشیات فروش بھی گرفتار کر لئے جن میں سے متعدد غیر ملکی ہیں، ان کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔لاہور پولیس کے افسران اور اہلکاروں کو شہریوں خاص طور پر سائلین اور ماتحتوں کے ساتھ بہتر رویہ اپنانے کی تلقین کی جا رہی ہے ۔ بدسلوکی اور بد اخلاقی کرنے والے پولیس افسران اور ملازمین کے خلاف سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔لاہور پولیس میںانٹرنیشنل مینجمنٹ سٹینڈرزکو لاگو کیا جا رہا ہے اورجدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کرائم مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ لاہور پولیس آپریشن ونگ کے نئے کمانڈر کی قیادت میں شہر میں امن و امان کے قیام اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے لاہور پولیس کی طرف سے کئے جانے والے ان موثر اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونگے تاہم معاشرے میں امن کے قیام کے لئے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہو گااور دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ان پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ اس حوالے سے شہریوں کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -