بجٹ میں مجوزہ الگ صوبے کیلئے فنڈز کہاں گئے‘ سرائیکی رہنماؤں کا احتجاج

    بجٹ میں مجوزہ الگ صوبے کیلئے فنڈز کہاں گئے‘ سرائیکی رہنماؤں کا احتجاج

  

 ملتان (سٹی رپورٹر)سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنماؤں خواجہ لام فرید کوریجہ، پروفیسر شوکت مغل، ظہور دھریجہ، مہر مظہر کات، اجالا لنگاہ، مسیح اللہ خان جام پوری، رانا ذیشان نون، شریف خان لاشاری، عابد سیال، غلام عباس ملنہاس، وزیر خان کچالا، حاجی عید احمد دھریجہ، افضال بٹ، غلام جیلانی خان دھریجہ ایڈووکیٹ، نور تھہیم ایڈووکیٹ اور طارق خان جتوئی ایڈووکیٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا(بقیہ نمبر52صفحہ12پر)

ہے کہ نئے جج بھرتی ہو رہے ہیں، وسیب کو آبادی کے مطابق 50 فیصد کوٹہ دیا جائے حکمرانوں نے وسیب سے لولی پاپ کا نہیں صوبے کا وعدہ کیا مگر اس مقصد کیلئے کام نہیں ہوا، کہاں گئیں صوبہ کمیٹیاں؟ کیا کوئی ایک اجلاس بھی ہوا؟ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی طرح پنجاب کے صوبائی بجٹ میں بھی وسیب کے مجوزہ الگ صوبے کے صوبائی سیکرٹریٹ کیلئے فنڈز نہیں رکھے گئے۔ سب سول سیکرٹریٹ دور دور تک آثار نظر نہیں آ رہے،کہا جاتا رہا کہ یکم جولائی کو سب سول سیکرٹریٹ کام شروع کر دے گا، کہاں شروع کرے گا؟ ابھی تک کسی کو کچھ معلوم نہیں۔سب سول سیکرٹریٹ کے ایشو کو سرائیکی وسیب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، سب سول سیکرٹریٹ ملتان ہوگا، لودھراں یا بہاولپور، سب سول سیکرٹریٹ کے اختیارات کی آئینی پوزیشن کا بھی ابھی تک کسی کو علم نہیں، انہوں نے کہا ہم سب سول سیکرٹریٹ کے ڈھونگ کو سرائیکی صوبے کے قیام کو روکنے کا حربہ سمجھتے ہیں ہمارا مطالبہ سیکرٹریٹ صوبہ سرائیکستان ہے۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ روز کے اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ صوبہ بھر میں ماتحت عدلیہ کیلئے 600سول جج بھرتی کئے جا رہے ہیں، وکلاء سے 29 جون تک درخواستیں مانگی گئی ہیں، خبر میں کہا گیا کہ سول ججوں کے بعد 300 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھرتی کئے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ تحریک ”انصاف“کے دور میں ”انصاف“ کے ادارے سے سرائیکی وسیب کو کتنا انصاف ملتا ہے؟ ججوں کی ملازمتوں میں سرائیکی وسیب کو 50 فیصد کوٹہ دیا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو وسیب کے لوگ احتجاج کریں گے۔

فنڈز کہاں گئے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -