اراضی ریکارڈ سنٹر چشتیاں ،غیر منظور شدہ ہاﺅسنگ کالونیوں کی فردیں جاری کرنیکا انکشاف ،عملہ مالا مال

اراضی ریکارڈ سنٹر چشتیاں ،غیر منظور شدہ ہاﺅسنگ کالونیوں کی فردیں جاری ...

  

چشتیاں(نمائندہ پاکستان)چشتیاں اراضی ریکارڈ سنٹر میں رشوت کا بازار گرم ‘ انچار ج محمد رضوان نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر منظور شدہ کالونیوں کی رجسٹری کیلئے فردیں چلت کروادیں ۔مذکورہ انچارج عرصہ پانچ سال سے ہوم اسٹیشن پر تعینات ہے ۔اراضی ریکارڈ سنٹر میں جائز(بقیہ نمبر54صفحہ12پر )

 کاموں کیلئے آنے والے شریف سائلین کو کئی روز تک چکر لگواکر انہیں ذلیل وخوار کرنے کا سلسلہ معمول بن چکا ہے ۔ان خیالات کا اظہار چک نمبر116مراد کے رہائشی خادم حسین باجوہ نے میڈیانمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ غیر منظور شدہ کالونیوں کی رجسٹری کیلئے فرد کے اجراءپر پابندی ہونے کے باوجود چشتیاں اراضی ریکارڈ سنٹر کے انچارج محمدرضوان کی اجارہ داری ، ملی بھگت سے غیر منظورشدہ کالونیوں کی فرد کے اجراءکاسلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور ”چمک“ کے بغیر مذکورہ کالونیوں کی فرد کے اجراءکا سلسلہ روک دیا جاتا ہے ۔انہوں نے ایک ثبوت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ اراضی ریکارڈ سنٹر کے کاﺅنٹر نمبر5 اور 7سے مورخہ 22-05-2019 کو انچارج محمد رضوان نے قانون کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے غیر منظورشدہ صدیق کالونی میں مربع نمبر 20کھاتہ نمبر19 مےں سعید احمد ، ارشاد احمد اور دیگر 5/6 افراد کو اپنے حکم سے فرد جاری کی ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ عام سائلین گھنٹوں تک لائن میں کھڑے ٹوکن حاصل کرنے کے انتظار میں رہتے ہیں لیکن ان کا نمبر نہیں آتا جبکہ مذکورہ انچارج سے جو ڈائریکٹ بات کرتے ہیں ان لوگوں کی فرد کے اجراءو دیگر کام کے فوری کرنے کیلئے ماتحت عملہ کو بذریعہ میسیج بتادیا جاتا ہے ۔جس کے سبب دیگر سائلین کی حق تلفی کی جاتی ہے ۔ مذکورہ آفیسر کی ہٹ دھرمی اور من پسند لوگوں کو نوازنے کا سلسلہ خلاف قانون ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ مذکورہ انچارج کا آفس آنے کا کوئی ٹائم مقرر نہیں ہے ۔ دو ماہ قبل سے موصوف کی حاضری ٹائم کا ریکارڈ بائیومیٹرک تصدیق و کیمروں کی مدد سے تمام حقائق سامنے آسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آفس ٹائم صبح 9بجے سے شام 4بجے تک ہے اور مذکورہ انچارج کی حاضری 10/11 بجے لگتی ہے ۔ جبکہ انتقال /تملیک /وراثت کا مرحلہ اس کا کاﺅنٹر پر پہلے سے شروع ہوتا ہے لیکن موصوف اپنی پرائیویٹ ایکٹیویٹیز میں مصروف دکھائی دیتا ہے جس سے لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ تاخیر کی وجہ سے بنک ٹائم ختم ہوجاتا ہے اگلے روز سخت گرمی میں لوگ میلوں دور سفر طے کرکے موصوف کے پاس دوبارہ آتے ہیں جس کی وجہ سے سائلین کو سخت ذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ تحصیلدار آفس /قانونگو دفتر سے مذکورہ آفیسر کے دفتر میں جو رجسٹریاں آتی ہیں ان رجسٹریوں میں صرف انہی رجسٹریوں کا انتقال کیا جاتا ہے جن کے ساتھ موصوف کی ڈیل ہوتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ میری زمین کا انتقال قانونگو سے مذکورہ آفیسر کے دفتر تابع ڈسپیچ نمبر291 مورخہ 14-05-2019 وثیقہ 616(خادم حسین ولد غلام علی بحق ساجد علی ولد محمد اشرف چک نمبر116مراد ) میں گیا جو کہ مذکورہ آفیسر خود وصول کنندہ ہے لیکن میرا وہ انتقال پاس نہیں کیاگیا جبکہ دیگران جو مجھ سے بعد انتقالات کی بابت دستاویزات گئے ہیں ان کا انتقال پاس ہوگیا ہے ۔ اس سلسلہ میں انکوائری اسٹینڈ کی جانی ضروری ہے تاکہ مذکورہ آفیسر کی کرپشن سامنے آسکے ۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار شکایت سیل ، وزراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، ڈپٹی کمشنر بہاولنگر اور اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ کرپٹ اور راشی آفیسر انچارج اراضی سنٹر چشتیاں کے خلاف حقائق کی روشنی میں حسب ضابطہ کارروائی کی جائے اور موصوف کو فوری معطل کیا جائے اور مذکورہ انچارج کی مقامی اسٹیشن پر اس کی تعیناتی پر پابندی عائد کی جائے اور اراضی ریکارڈ سنٹر میں دیانتدار ،فرض شناس اور عوام دوست آفیسر تعینات کیا جائے تاکہ مذکورہ اراضی ریکارڈ سنٹر کے سائلین مزید ذلیل و خوار ہونے سے بچ سکیں اور فوری طور پر عملی اقدامات کئے جائیں ۔

ریکارڈ سنٹر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -