انصاف مانگتے مانگتے مر جانا ہی مقدر ہے،طاہر القادری

 انصاف مانگتے مانگتے مر جانا ہی مقدر ہے،طاہر القادری

  

لاہور (نمائندہ خصوصی) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شہدائے ماڈل ٹاؤن کی 5ویں برسی کے موقع پر مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ قرآن خوانی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حصول انصاف کے لیے پانچ سال پہلے جہاں کھڑے تھے وہیں آج کھڑے ہیں،سپریم کورٹ میں کیس لڑ کر نئی جے آئی ٹی بنوائی،جے آئی ٹی کو تمام ذمہ داروں کے فون کالز کا(بقیہ نمبر15صفحہ12پر)

 ڈیٹا اوراہم شواہد مہیا کئے جن کی بنیاد پر جے آئی ٹی نے نواز شریف، شہباز شریف اور دیگر ذمہ داروں کے بیانات قلمبند کیے، کوئی بھی فون کالز ڈیٹا سے انحراف نہیں کر سکتا، جب جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا تو ایک ملزم پولیس افسر کی درخواست پرجے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک دیا گیا، اس ملزم پولیس افسر کا موقف تھا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل سے میری حق تلفی ہوئی یعنی اس نظام میں قاتلوں کو حقوق حاصل ہیں،اس نظام میں تڑپنا اور انصاف مانگتے مانگتے مر جانا ہی مقدر ہے، انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی مقدمات بنا کرکارکنوں کوقید با مشقت سنا دی گئی، یعنی جنہوں نے قتل کیے وہ آزادانہ گھوم رہے ہیں اور جنہوں نے ظلم کے لیے آواز بلند کی انہیں سزائیں سنا دی گئیں، یہ ہے نظام اور اس کا اصل چہرہ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ظلم پر اللہ اور میڈیا کے سوا کوئی ہمارے ساتھ نہیں تھا،  اگر ان عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو ایک عدالت اللہ کی ہے وہاں سے ضرور انصاف ملے گا،انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے سیکنڈ لائن لیڈر شپ حکومتی لیڈر شپ سے رابطے میں رہتی ہے، لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں 8کے قریب اپیلیں زیر سماعت ہیں، ان پر فیصلوں کے منتظر ہیں۔ دریں اثناء کل دوپہر ایک بجے عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے کارکنان اور شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء مرکزی سیکرٹریٹ پہنچے جہاں شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کی گئی، اس موقع پر خرم نواز گنڈاپور، بریگیڈیئر(ر) اقبال احمد خان، جواد حامد، نوراللہ صدیقی، انوار اخترایڈووکیٹ، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ،سیدالطاف حسین شاہ، جی ایم ملک،مظہر محمود علوی، چودھری عرفان یوسف، حافظ غلام فرید، اشتیاق حنیف مغل،قاسم منصور اعوان ودیگررہنما موجود تھے۔ 

طاہر القادری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -