پنجاب اسمبلی،معاشی حل نہ نکالا تو آئندہ نسل معاف نہیں کریگی،اپوزیشن 

پنجاب اسمبلی،معاشی حل نہ نکالا تو آئندہ نسل معاف نہیں کریگی،اپوزیشن 

  

لاہور (نمائندہ خصوصی) صوبائی اسمبلی پنجاب کا اجلاس سپیکر اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 18 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ ایجنڈے کے مطابق ایوان میں سالانہ بجٹ 2019-20 پر عام بحث ہے اور یہ بحث 21 جون تک جاری رہے گی۔ اجلاس کے آغاز پر تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولؐ کے بعد وفات پا جانے والے اراکین اسمبلی ڈاکٹر خاور، غیاث الدین اور ڈاکٹر وسیم اختر کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی، جسکے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس کا باقاعدہ آغاز کیا تو اس وقت اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شریف ایوان میں داخل ہوئے تو حکومتی بنچوں کی جانب سے ڈاکو اور شیم شیم کے نعرے لگاء گئے جبکہ اپوزیشن بنچوں کی طرف سے ”شیر آیا، شیر آیا“ کے نعرے بلند ہوئے۔ شور شرابے کا یہ سلسلہ چند منٹ تک جاری رہا تو سپیکر نے دونوں اطرف کے اراکین اسمبلی کو خاموش رہنے کی تنبیہ کی اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بجٹ تقریر کا آغاز کرنے کو کہا تو پھر حکومتی اراکین نے لوٹے لوٹے، اور جھوٹے جھوٹے کے نعرے لگاتے ہوئے حمزہ شہباز کو تقریر کرنے سے روکدیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے گو عمران گو کے نعرے لگنے لگے اور ایوان میں شور شرابہ بپا ہو گیا۔ دوبارہ حمزہ شہباز جب تقریر کرنے کیلئے اٹھے تو چوہدری ظہیر نے کہا کہ تین روز پہلے بجٹ تقریر میں اپوزیشن نے جو ہلڑ بازی کی تھی یہ اس کے جواب میں ردعمل تھا لیکن اپوزیشن کو اس وقت جمہوریت کا حسن نظر نہیں آیا، کم از کم وزیر خزانہ کو سنا جانا چاہیے تھا۔ اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے دونوں اطرف کے رکن اسمبلی کو مداخلت سے روکدیا جس پر ایوان نے بڑے اطمینان اور خاموشی سے ایوان کی کارروائی میں حصہ لیا۔ حمزہ شہباز نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے سے سیاسی اختلافات ہوتے ہیں لہٰذا ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملکی اور معاشی حالات پر کھل کر بات کی جائے۔ آج معیشت کا برا حال ہے غریب آدمی اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی پورے کرنے سے قاصر ہے۔اگر آج معاشی حالات پر سیاست کی حل تلاش نہ کیا صرف الزام تراشی کی تو آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔پہلے سنتے رہے آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں وگرنہ خود کشی کر لیں گے اسد عمر کہتے رہے آئی ایم ایف کے علاوہ دوسری آپشن پرغور کریں گے۔ایمنسٹی سکیم کو کبھی لانا کبھی نہ لانا ایسی غیر یقینی صورتحال تھی کہ کیسے آگے چلنا ہے۔وزیر خزانہ کہتے ہیں ڈالر 172روپے کو چھو رہاہے معیشت کا بحران ہے ڈالر کو کنٹرول نہیں کر سکتا پتہ نہیں یہ کہاں جائے گا۔ حمزہ شہبا زنے کہا کہ تین اعشاریہ چاربلین ارب ڈالر دیں کوئی بات نہیں ہوئی بجٹ سپورٹ پروگرام میں دیں گے۔جب نئی حکومت آئی تو سی پیک کو ریویو کریں گے اس میں خامیاں ہیں کیا یہ باتیں سوچ سمجھ کررہے ہیں۔پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی بھینسوں کی نیلامی کی گئی بلٹ پروف گاڑیوں کی لائن لگائی گئی کفایت شعاری کے نام پر کچھ حاصل نہ ہوا۔حمزہ شہبازنے کہا کہ اگر پچاس ہزار منتخب نمائندوں کاقتل کرناتھا تو الیکشن کا اعلان ہی کردیتے الیکشن کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں لوکل باڈی ختم کرکے باباؤں کو بٹھا دیاگیا ہے۔ پچاس لاکھ گھروں کیلئے چار ارب روپے رکھاگیا ہے پانچ سالوں میں کیا وہ آسمان پر بنیں گے سنگ بنیاد زمین پر رکھ دیاگیاہے۔ جنوبی پنجاب کاصوبہ بناناہے ایک سال ہو گیا جنوبی پنجاب صوبے کا کچھ پتہ نہیں بلکہ جنوبی پنجاب صوبے کے فنڈز میں پچاس فیصد کٹوتی کر دی گئی۔ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ بیس روپے میں طلبہ نرسز اور غریب سب میٹرو پر سفر کرتے ہیں اب وہ کہاں جائیں گے۔ہماری حکومت نے سو ارب روپے کی مدد سے تین میٹرو بنائی گئیں۔ کے پی میں سو ارب روپے کی مدد سے میٹرو اب تک نامکمل ہے۔فرانزک ایجنسی کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایاگیاجس سے ملک کو فائدہ ہوا۔دودھ،چینی اور آٹے پر ٹیکس لگا دئیے گئے ہیں غریب کاجینا مشکل ہے۔ وہ وقت آ گیا ہے سڑک پر چلنے اور سانس لینے پر بھی ٹیکس لگے گا۔چھ ارب روپے کی آئی ایم ایف کو دی جائے گی اور ان سے قرض لینے کے بعد وہ ہر بات منوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں جب عمران خان تین بار مودی کو خط لکھتاہے اور وہ کہتا ہے پہلے اپنے ملک سے دہشت گردی ختم کرناہو گی۔ اللہ کرے غلط ثابت ہوں جس طرح غریب کے منہ سے روٹی چھین کی گئی عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے سٹاک مارکیٹ زمیں بوس ہو چکی ہے۔اگر سنجیدگی سے معاشی حل نہ تلاش کیا سیاست سے اجتناب نہ کیا تو ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی اللہ ہمیں ان بحرانوں سے باہر نکالے۔ کنٹینرزکی سیاست چھوڑ کر ملک کی مفاد کی سیاست کریں۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے حمزہ شہباز کی تقریر کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس صوبے کو آگے لے کر چلنا ہے بھینیس کیا اور کچھ بھی بیچنا لڑا تو بیچیں گے۔پچاس کروڑ روپے کا بل بھی پنجاب ہاؤس کا ادا نہیں کیاگیا۔اسی صوبے کو چاٹتے رہے پھر کہتے ہیں خزانہ خالی ہے۔حکومت ریکوری کرے تنخواہیں رکوائی جائیں اب پنجاب ہاؤس کے پچاس کروڑ روپے اداکریں۔ صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ ہم پنجاب ہاؤس کے پچاس کروڑ روپے کی واجب الادا لسٹ الیکشن کمیشن کو بھجوائیں گے۔نہ تعلیم مفت تھی نہ ادویات لیکن اب سب مفت ملے گا۔خوف ایک بات کا ہے جس نے گاجریں کھائیں ان ہی کے پیٹ میں درد ہوگا۔پیٹرول ڈیزل کی بات کی گئی مرکز والے خود جواب دیدیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو پیٹرول پمپ ماہانہ پانچ ہزار روپے پر لئے گئے اس کو فروخت کرکے کروڑوں روپے خزانے میں جمع کروایاگیا۔جس نے ملک کو بیدردی سے لوٹا اسے جواب دینا پڑتاہے۔ہم نے دس ماہ میں نوے فیصد بجٹ خرچ کیا۔اپوزیشن بجٹ کو بڑھا چڑھاکر پیش کرتی لیکن خرچ نہیں کرتی تھی۔ راجہ بشارت نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ سابقہ حکومت نے غیر ضروری منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے گئے۔پنجاب اسمبلی کی زیر تعمیر بلڈنگ پر جواب دے دیتے۔صوبے میں اب کمیشن بنے گا کہ بدنیتی پر منصوبے بنا کر صوبے کا نقصان کیوں کیاگیا۔وفاق کی طرح پنجاب میں بھی قرضوں کی چھان بین کے لئے صوبائی تحقیقاتی کمیشن بنایاجائیگا۔ رکن اسمبلی ڈاکٹر افضل نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار اور صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے رواں مالی سال 2019-20 کا بجٹ دے کر اہم فریضہ سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے صوبے کا مستقبل اچھا نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا نہیں کیا۔ میرا حلقہ چوہلستان ہے۔ جناب سپیکر آپ کے دور 2002ء میں ہمارے علاقے میں واٹر سپلائی کی لائنیں بچھائی تھیں جبکہ گزشتہ دس سالوں کے درمیان ان کی مرمت کا کام نہیں ہوا جس کے باعث ہمارے لوگوں کو پانی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، اسی طرح جو 250 کیوسک پانی نہروں کے ذریعے ملتا تھا وہ بھی گزشتہ ادوار میں بند کر دیا گیا۔ ہماری استدعا ہے کہ ہمارے علاقے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے اور مسائل حل کیے جائیں۔ رکن اسمبلی شاہین رضا نے بھی کہا کہ ہم اپنے وزیراعظم عمران خان کے ویژن پر چلتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں کی بہتری کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ جس کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے اجلاس آج سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا۔ 

پنجاب بجٹ پر بحث

مزید :

صفحہ آخر -