شاعر ناظم پانی پتی کی 21ویں برسی آج منائی جائے گی

شاعر ناظم پانی پتی کی 21ویں برسی آج منائی جائے گی

  

لاہور(فلم رپورٹر)برصغیر کے معروف فلمی شاعر اور کہانی نویس ناظم پانی پتی کی 21ویں برسی آج منائی جائے گی۔انہوں نے فلمی کیرئیر کا آغاز 1939میں کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے 300سے زیادہ فلموں کے گیت، مکالمے اور کہانیاں تحریرکیں۔انڈیا میں ان کی مقبول فلموں میں خاندان، خزانچی، دلا بھٹی، شیریں فرہاد، شالیمار اور پاکستان میں لخت جگر، سہیلی، بیٹی، آئینہ اور انسانیت تھیں۔بھارتی گلو کارہ لتا منگیشتر نے اپنا پہلا فلمی گیت ناظم پانی پتی کا لکھا ہوا گایا تھا۔جو 1948میں بننے والی فلم مجبور کے لیے ریکارڈ کیا گیا اور جس کے بول تھے ”دل میرا توڑا مجھے کہیں کا نہ چھوڑا تیرے پیار نے“ناظم صاحب نے اداکار جونی واکر، اداکارہ وجنتی مالا اور ہیلن کو بھی متعارف کرایا جبکہ پاکستان میں گلوکار احمد رشدی اور نیرہ نور نے اپنا پہلا گیت انہی کا لکھا گایا تھا۔1949میں انڈیا میں بننے والی پنجابی فلم "لچھی"کے گیت جسے ناظم صاحب نے لکھا اور محمد رفیع نے گایا،نے پورے ہندوستان میں دھوم مچادی جس کے بول تھے ”جگ والا میلہ یار و تھوڑی دیر دا ہنسد یاں رات لنگے پتا نئیں سویر دا“پاکستان میں ان کی فلم لختِ جگر کی لوری،”چندا کی نگر سے آجاری نندیا“ اور فلم بدنام کی لوری، آتجھ کو سناؤں لوری، حالات سے چوری چوری“ بہت مقبول ہوئیں۔

ناظم پانی پتی برصغیر کے نامور فلمساز اور ہدایتکار ولی صاحب کے چھوٹے بھائی، پی ٹی وی کے سابق چیف کیمرہ مین، جہانگیر پاشا اور کالم نگار و ڈرامہ نگار محمد جا وید پاشا کے والد تھے۔

مزید :

کلچر -