اب افغان مہاجرین کو واپس جانا چاہئے

اب افغان مہاجرین کو واپس جانا چاہئے

پاکستان میں چالیس سال سے مقیم افغان مہاجرین کی مدت قیام ماہِ رواں کی تیس تاریخ کو پوری ہو رہی ہے، اگرچہ امکان تو یہی ہے کہ ان مہاجرین کے قیام کی مدت میں ایک بار پھر کم از کم چھ ماہ کی توسیع کر دی جائے گی اور نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے، توسیع کا سلسلہ بھی سال ہا سال سے جاری ہے اور جونہی توسیع شدہ مدت پوری ہونے لگتی ہے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور توسیع دے دی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے رضا کارانہ وطن واپسی کے پروگرام کے تحت تین ماہ کے دوران 1683 رجسٹرڈ افغان مہاجرین واپس گئے یہ تعداد 430 خاندانوں پر مشتمل ہے۔

1979ء کی ایک سرد رات کو جب سوویت یونین کی افواج دریائے آمو عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوئیں تو افغان مہاجرین کے قافلے پاکستان اور ایران کی جانب نقل مکانی کرنے لگے جن کی سرحدیں ملتی ہیں، ویسے تو افغان پاوندے صدیوں سے سردی کے موسم میں متحدہ ہندوستان اور بعد ازاں پاکستان آتے رہے لیکن روسی حملے کے بعد جتنے افغان مہاجرین پاکستان آئے اس کی نظیر نہیں ملتی، چالیس برس میں افغان مہاجرین پاکستان میں کیمپوں تک محدود ہو کر نہیں رہ گئے بلکہ وہ تیزی کے ساتھ پورے ملک میں پھیل گئے اور چھوٹے موٹے کاروباروں سے لے کر ایسے بہت سے کاروبار بھی شروع کر دیئے جس کے لئے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اسلام آباد، کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں اب بہت سے افغان بڑے بڑے کاروبار کرتے دکھائی دیتے ہیں بعض علاقوں میں تو مخصوص قسم کے کاروباروں پر ان کی اجارہ داری ہے جہاں تک پشاور کا تعلق ہے جہاں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد اب بھی مقیم ہے ٹرانسپورٹ کا سارا کاروبار افغانوں کے پاس ہے، قالین فروشی کے وسیع کاروبار بھی افغانوں کی ملکیت ہیں، افغان روایات کے مطابق دلہنوں اور خواتین کے آرائش جمال کے جدید سیلون پشاور شہر میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں، اسی طرح اور بھی بہت سے کاروبار ایسے ہیں جو افغانوں نے سنبھال رکھے ہیں اور تو اور ہزاروں افغان باشندے پاکستانی پاسپورٹ بنوا کر بیرون ملک جا چکے اور وہاں ملازمتیں اور کاروبار کر رہے ہیں، پاکستان کے اندر جائز و ناجائز ہر قسم کا کاروبار افغان مہاجرین کرتے ہیں کراچی میں یہ اتنی زیادہ تعداد میں ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے تو اقتدار سنبھالتے ہی انہیں شناختی کارڈ دینے کا حکم بھی دے دیا تھا جس پر خاصا ردعمل ہوا تو پھر غالباً اس پر عملدرآمد رک گیا، لیکن اس میں شبہ نہیں افغان مہاجرین پاکستان میں جتنی آزادی سے رہ رہے ہیں اور انہیں نقل و حرکت اور کاروبار کی جتنی آزادی یہاں میسرہے شاید ان کے اپنے ملک میں بھی انہیں حاصل نہ ہوتی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنا وطن چھوڑ کر نقل مکانی کیوں کرتے۔

افغان مہاجرین، پاکستان اور ایران میں ایک ہی وقت میں داخل ہوئے تھے لیکن دونوں ملکوں میں انہیں مختلف قسم کے حالات کا سامنا رہا ایران میں ان کی نقل و حمل کیمپوں تک محدود رہی اور بہت کم انہیں شہروں کی طرف جانے دیا گیا اگر کبھی کسی وقت مخصوص حالات میں کسی کو شہر جانے کی اجازت دی بھی گئی تو کڑی نگرانی میں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایران میں ان مہاجرین کو وہ آزادیاں میسر نہ آ سکیں جن سے وہ پاکستان میں لطف اندوز ہوتے رہے اور اب تک ہو رہے ہیں ان مہاجرین میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک تو وہ ہیں جو پاکستان کے ممنون ہیں کہ اس نے انہیں یہاں قیام کی اجازت دی اور کاروبار کے مواقع بھی ان کے لئے کھلے رکھے، ایسے بھی افغان ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے، یہیں تعلیم پائی اور کرزئی دور میں افغانستان واپس جا کر وہاں وزارتی ذمے داریوں پر بھی فائز ہوئے ایسے لوگوں کو ہم نے پاکستان کی محبت میں رطب اللسان دیکھا لیکن افغان مہاجرین کی ایک کلاس وہ ہے جو پاکستان کی ممنون نہیں بلکہ موقع بے موقع پاکستانیوں کو بُرا بھلا کہتے بھی پائی جاتی ہے، بعض نے تو تمام حسنِ سلوک کو نظر انداز کر کے پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیاں شروع کر دیں اور دہشت گردی کی بہت سی وارداتوں میں ان کا ہاتھ دیکھا گیا، مقامی سہولت کاروں کے تعاون سے دہشت گرد افغان سرحد پار کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیل گئے اور یہاں دہشت گردی کی بڑی بڑی وارداتیں کیں، پاکستان کے وزرائے اعظم اور فوج کے سربراہوں نے وقتاً فوقتاً افغان حکومت کو ایسے ثبوت مہیا کئے کہ افغانستان سے آنے والے شہری دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ہیں لیکن ان شکایات کا ازالہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی دہشت گردوں کی آمد کا سلسلہ رک سکا، تنگ آ کر پاکستان نے اس کا حل یہی نکالا کہ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ حفاظتی باڑ اور سرحدی چوکیاں بنا دی جائیں یہ باڑ اور چوکیاں سرحد کے اندر پاکستانی علاقے میں ہیں لیکن ابتداء میں افغان سیکیورٹی فورسز نے یہ سلسلہ روکنے کے لئے فائرنگ بھی کی جس میں پاکستانی فوجیوں کی شہادتیں بھی ہوئیں، ایک بار چمن میں مردم شماری کرنے والے عملے پر فائرنگ کی گئی، دہشت گرد تو چوکیوں کو اکثر نشانہ بناتے اور باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ان تمام کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ سلسلہ رک جائے کیونکہ باڑ کی وجہ سے افغانستان سے آمد و رفت بہر حال محدود ہو گئی ہے اور سفری دستاویزات کے بغیر کوئی بھی افغان باشندہ پاکستان نہیں آ سکتا، غیر روایتی راستوں سے تاروں کو نقصان پہنچا کر آنے ولے اب بھی کوشش کرتے ہیں جنہیں ناکام بنایا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں اب ضروری ہو گیا ہے کہ افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجا جائے اور ان کے قیام میں مزید توسیع نہ دی جائے، اقوام متحدہ کا رضا کارانہ واپسی کا پروگرام ناکام ہو چکا ہے اول تو بہت کم خاندان واپس گئے ہیں جو گئے ہیں ان کا مقصد بھی بظاہر یہی ہوتا ہے کہ وہ امدادی رقم لے کر پھر واپس آ جائیں اور ایسا ہوتا رہتا ہے کہ جانے والوں کی چند دن تک تصویریں چھپیں اور وہ پھر خاموشی سے واپس بھی آ گئے یہی وجہ ہے کہ کیمپوں اور شہروں میں مقیم افغان مہاجرین کی تعداد کم نہیں ہو رہی اب بھی اگر توسیع کی جائے گی تو یہ سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوگا اس لئے یہ ضروری ہے کہ افغان مہاجرین کو پاکستان میں مزید قیام کی اجازت نہ دی جائے اور جتنی جلدی ممکن ہو انہیں واپس بھیجا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ