کرکٹ ٹیم کو بھارت کی ٹیم سے پھر شکست!

کرکٹ ٹیم کو بھارت کی ٹیم سے پھر شکست!

پاکستان کرکٹ ٹیم مانچسٹر میں ورلڈکپ کے مقابلوں میں ایک اور میچ میں شکست سے دوچار ہوئی اور اس مرتبہ بھی روائتی حریف سے پہلے چھ ورلڈکپ مقابلوں کے بعد ساتویں ورلڈکپ کا مقابلہ بھی ہار گئی۔ بھارت سے 89رنز کی یہ شکست کروڑوں شائقین کی دل شکنی کا باعث بنی اور یہ احساس ہو گیا کہ اب پاکستان کرکٹ ٹیم سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکے گی۔یہ بہت ہی افسوسناک صورت حال ہے اور شرم کی بات ہے کہ تمام تر دعوؤں کے باوجود بھارتی ٹیم نے کھیل کے تمام شعبوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہرا دیا ہے۔کھیل دیکھ کر اندازہ ہوا کہ بہتر منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرنے والے کھلاڑی جیت گئے اور پاکستان کرکٹ ٹیم ہار گئی کہ نہ صرف منصوبہ بندی درست نہیں تھی بلکہ میدان میں کھلاڑی بھی موثر دکھائی نہیں دیئے۔ صرف ایک بات ہی کافی ہے کہ مانچسٹر میں بارش کی پیش گوئی تھی اور کرکٹ میں بارش کے باعث اس ٹیم کو نقصان ہوتا ہے جو دوسری مدت والی اننگ کھیلتی ہے، خوش قسمتی سے پاکستان ٹاس جیت گیا، بارش کی پیش گوئی موجود تھی اس لئے پاکستان کو پہلے کھیلنے کی ضرورت تھی کہ بارش کے باعث ڈک ورتھ لوئیس فارمولے کا فائدہ بھی اسے ہوتا، جیسے 1992ء میں ساؤتھ افریقہ کے مقابلے میں پاکستان کو ہوا، ساؤتھ افریقہ کی ٹیم بارش کے باعث اس فارمولے کی زد میں آئی اور میچ ہار گئی یوں پاکستان کو سیمی فائنل اور پھر فائنل جیتنے کا موقع مل گیا۔پاکستان ٹیم کے کپتان اور ٹیم انتظامیہ کو یہ سب علم تھا۔ اس کے باوجود نہ صرف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کی بلکہ کارکردگی بھی ناقص رہی، حتیٰ کہ کپتانی بھی غیر معیاری تھی۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ کپتان صاحب نے عامر سے چار اوور کرائے، اس نے صرف نو رنز دیئے اسے تبدیل کرکے سپن باؤلنگ کو ترجیح دی، حسن زیادہ رنز دے رہا تھا، اسے تبدیل نہ کیا۔ شکست سے سیکھنے والے ہم نہیں اور یہ پہلا موقع نہیں کہ ہم نے ہزیمت اٹھائی بہتر ہوتا کہ کپتان، کوچز اور سلیکشن کمیٹی استعفے کا اعلان کر دیتی۔ یہ باعزت طریقہ ہے، شاید ابھی نیوزی لینڈ اور ساؤتھ افریقہ سے بھی ہارنا ہے اور پھر ان سب کو نکالنا پڑے گا۔

مزید : رائے /اداریہ