فطرت سے پیار کریں

فطرت سے پیار کریں
فطرت سے پیار کریں

  


آج انسانی ترقی تیز رفتاری کی حدوں کو چھو رہی ہے۔آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کی دُنیا پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ انسان کی ابتدا سے لے کر اس وقت تک جتنی ترقی ہوئی تھی ان پچاس برسوں کی ترقی اس سے بھی زیادہ ہے۔ خصوصاً کمپیوٹر کی ایجاد نے اسے برق رفتاری دے دی ہے۔ اس ترقی کے بے پناہ فوائد سے انسان پوری طرح مستفید ہو رہا ہے۔اس نئی ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر پہلو کو کچھ نہ کچھ نیا دیا ہے۔صرف موبائل فون ہی دیکھ لیں۔ کمپیوٹر ہی کی ایک شکل ہے۔یہ فون ہے،اس کی ڈائریکٹری بھی ہے،ٹائپ رائٹر ہے، گھڑی ہے، سٹاپ واچ ہے، ڈاک کا ایک شانداراور پورا جدید نظام ہے، سینما ہے، لائبریری ہے، ڈائری ہے، آپ کا ڈاکٹر ہے۔ آپ کا مشورہ دینے والا ساتھی ہے، آپ کا رہبر ہے اور پتہ نہیں کیا کچھ ہے۔

بلکہ اب تو آ پ کو اچھے اور برے کی تمیز بتا کر فیصلہ بھی سنا دیتا ہے۔ اتنے بے شمار فوائد کے باوجود اس نے آج دُنیا کے اہل ِ فکر کو، ماہرین تعلیم کو اور سائنس دانوں کو پریشان کر دیا ہے۔لوگ فطرت سے دور ہو رہے ہیں۔ فطرت اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان نے نہیں بنائی،جو اللہ کی عطا ہے…… جیسے ہوا، پانی، موسم، دھوپ، روشنی، پھل، پھول، چرند، پرند وغیرہ۔ ہماری نسل نو کو ان چیزوں کی افادیت کا پتہ ہی نہیں۔ کمپیوٹر جیسی صرف ایک چیز کی مدد سے ایک ہی جگہ اتنی بہت سی سہولتوں نے سب کو انتہائی سست اور دُنیا سے بے گانہ کر دیا ہے۔ ہم نے خود کو ایک دو کمروں تک محدود کر لیا ہے۔ہم باہر نکلتے ہی نہیں، ہمیں فطرت کے بے پناہ فوائد کا پتہ ہی نہیں۔ فطرت سے دوری نے ہم سے بہت سی خوبیاں اور صلاحیتیں چھین لی ہیں۔

آج ہم ہر کام کے لئے کمپیوٹر کے محتاج ہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ رب العزت کا عطا کردہ انسانی ذہن سب سے ہونہار ہے، سب سے ذہین ہے۔ کمپیوٹر اسی انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی ساری چیزیں انسانی ذہن ہی کی ایجاد کی ہوئی ہیں۔ آج ہر کام میں کمپیوٹر کے عمل دخل نے انسانی ذہن کو، انسانی سوچ کو اور انسان کی دماغی کاوشوں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ سوچ اور فکر میں اگر انسان سے کوئی برتر ہے تو وہ فطرت ہے۔ ہم نے برتر چیز کو چھوڑ کر ایک کم تر چیز کو گلے لگا لیا ہے۔اس سے جو نقصان ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ماہرین تعلیم کوشش کر رہے ہیں کہ کم از کم سکول کی حد تک بچوں کو کمپیوٹر سے دور رکھا جائے تاکہ انہیں ذہن پر زور ڈالنااور اپنی عقل وفہم سے مسائل کا حل تلاش کرنا آ جائے۔امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اس سلسلے میں بہت تحقیق ہو رہی ہے۔بہت سے ملکوں میں ابتدائی کلاسوں میں بچوں کے کمپیوٹر کے استعمال پر پابندی لگ چکی ہے۔ سائنس دان پریشان ہیں کہ 1970ء کی دہائی میں جب ٹی وی نیا نیا تھا تو وہ بچے جو ٹی وی دیکھنا پسند کرتے تھے ان کی اوسط عمر چار سال تھی۔

آج وہ اوسط عمر فقط چار ماہ ہے۔ماں باپ پیدا ہونے والے بچے کو آئی پیڈ اور ٹیب پر لگا دیتے ہیں۔ماہرین طب پریشان ہیں کہ فطرت سے دوری بہت سی بیماریوں کا باعث بن رہی ہے، جس کا لوگوں کو احساس ہی نہیں۔ آپ دھوپ میں نہیں نکلیں گے تو آپ کا جسم وٹامن ڈی سے محروم رہے گا۔ وٹامن ڈی آ پ کی ہڈیوں کی افزائش کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اس کا نہ ملنا ہڈیوں کی بیماری کا باعث ہو گا۔آپ بھاگیں گے نہیں، سیر نہیں کریں گے آپ کو پسینہ نہیں آئے گا،جو آپ کے جسم سے بہت سے فاسد مادے دور کرنے کا فطرت کا ایک خود کار نظام ہے۔ وہ فاسد مادے نہیں نکلیں گے توبیماری نکلے گی۔ذہنی پریشانیاں بڑھیں گی۔ آپ جب سیر کرتے ہیں تو اس کے تین فائدے ہوتے ہیں:

1۔ سٹریس کم ہوتی ہے۔ پودوں کودیکھنے سے انسانی ذہن پر ایک ایسا مثبت اثر ہوتا ہے،جو Stress reduction cell پیدا کرتا ہے۔

2۔ اردگرد سبزے کی موجودگی سے انسانی مزاج خوشگوار ہوتا ہے۔

3۔ انسان کی Cognitive Performance بہتر ہوتی ہے۔ Cognitive کے لغوی معنی ہیں علم رکھنے والا۔ انسان کی آٹھ Cognitive Skills ہوتی ہیں، سوچنا، پڑھنا، سیکھنا، یاد رکھنا، دلیل دینا،مل جل کر کام کرنا، توجہ دینا اورذہانت۔فطرت کے ساتھ انسان کا تعلق ان skills کو بہتر کرتا ہے۔

میرا اور میری نسل کا بچپن بہت بھرپور گزرا ہے۔ وہ کتنے خوبصورت دن تھے۔ہم پڑھتے تھے، وہ پڑھائی ہمیں سوچ دیتی تھی، ہمارے پاس کمپیوٹر نہیں تھا،ہم دماغ پر زور ڈالتے تھے کہ ہم نے کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے اور کیوں کرنا ہے؟ نئی نئی باتیں ذہن میں آتی تھیں۔ ہم کہانیاں سنتے ہی نہیں، کہانیاں بنا بھی لیتے تھے۔ہم آپس میں ملتے تھے، اپنے مسائل کے لئے بات چیت کرتے تھے۔ ایک دوسرے سے مشورہ کرتے اوربہتر حل کی تلاش میں رہتے تھے۔ ہم آپس میں مذاق کرتے اور مذاق کی باتوں میں جدت تلاش کرتے تھے، لیکن کسی کی تضحیک نہیں کرتے تھے۔ ہم آپس میں کھیلتے تھے، کھیل میں جہاں جیتنے کا حوصلہ ہوتا تھا، وہاں ہار قبول کرنے کی ہمت بھی ہوتی تھی۔ وہ کھیلیں فزیکل ہوتی تھیں۔ان میں بھاگ دوڑ ہوتی تھی۔ اس بھاگ دوڑ میں ہمیں نہ دھوپ کی شدت کچھ کہتی اور نہ ہی برستی بارش۔ یہ بھاگ دوڑ ورزش کا کام بھی کرتی تھی، چست اور توانا بھی رکھتی تھی۔ ہم صبح کسی پارک میں چہل قدمی کرتے تھے، تازہ ہوا کے جھونکے طبیعت میں تروتازگی اور فرحت لاتے تھے۔

دوستوں اورعلاقہ مکینوں سے صبح صبح ملاقات میں ایک دوسرے ہی کی نہیں،بلکہ علاقے بھر کے مکینوں کی خبر ہو جاتی تھی۔صبح کی سیر ذہنی دباؤ کم کرتی تھی۔کہتے ہیں بند گھر میں ہوا کی کثافت گھر کے باہر کی ہوا سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے، گھر سے باہر کسی پارک میں ہماری موجودگی ہمیں تازہ ہوا فراہم کرکے آسودگی مہیا کرتی تھی۔ آج ہماری نئی نسل فطرت کی گو نا گوں خوبیوں سے بے خبر ہے۔ کمپیوٹر نے اسے فطرت سے دور کر دیا ہے،اسے فطرت کی عنایات کا احساس ہی نہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو فطرت سے، ماحول سے، بدلتے موسموں سے اور اللہ کی عنایت کی ہوئی نعمتوں سے روشناس کرائیں۔ انہیں بند کمروں کے گھٹے گھٹے ماحول سے نکال کر فطرت سے پیار کرنا بتائیں۔اسی میں ان کی بھی اور ہماری بھی بھلائی ہے۔ نسل نوکی بھلائی ہے۔ہمارے ملک،ہماری زمین اورہماری کائنات کی بھلائی ہے۔خود بھی فطرت سے پیار کریں اور دوسروں کو بھی اس سے پیارکرنے کا بتائیں۔

مزید : رائے /کالم