کیا پھولوں کی کوئی قیمت ہوتی ہے؟

کیا پھولوں کی کوئی قیمت ہوتی ہے؟
کیا پھولوں کی کوئی قیمت ہوتی ہے؟

  


عام طور پر ایک محاورہ یا جملہ بولا جاتا ہے کہ فلاں کے بچے پھولوں جیسے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ پھول بہت ہی قیمتی چیز ہے۔ پھول خوبصورتی اور محبت کا استعارہ ہیں۔ جب بھی کوئی اپنے محبوب یا کسی پیارے کو ملتا ہے تو اسے پھول پیش کرتا ہے۔ کوئی اچھا کام کرنے پر، عمرہ یا حج کر کے آنے پر لوگ اپنے عزیزوں اور دوستوں پر پھول نچھاور کرتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے گھر اور دامن میں پھول سجانا پسند کرتا ہے۔

پاکستان کے عوام نے اپنے سیاسی لیڈروں پر جتنے پھول نچھاور کیے ہیں اگر سیاستدان ان پھولوں کی قیمت ادا کرتے تو پاکستان ترقی کر جاتا، لیکن سیاستدان شاید پھولوں کی قدر ہی سے واقف نہیں ہیں۔ یا پھر اپنے اوپر پھولوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یعنی وہ پیدا ہی پھولوں کے لیے ہوئے ہیں۔ اور عوام پھول نچھاور اور پھول پیش کرنے کے لیے، آج یہ خاکسار جن پھولوں کی بات کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے آنگن میں پیدا ہونے والے پھولوں کی قدر کے متعلق ہے۔ جب کوئی شے بہت زیادہ پیدا ہو جائے تو پھر اس کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ اور یہی کچھ وطن عزیز میں ہو رہا ہے۔

ہمارے ہاں لوگوں کے آنگن پھولوں سے اٹے پڑے ہیں۔ پھر ہم ان پھولوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر سکتے اور وہ گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر پھول اٹھائے امیر لوگوں کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے منت کر رہے ہوں۔ کہ مجھ سے پھول خرید لو تاکہ میری آج کی روٹی کا انتظام ہو سکے۔ لوگ ان کو حقارت سے دیکھتے آگے گزر جاتے ہیں سوائے ان چند کے جو ان پر ترس کھا کر یا پھر اپنے محبوب کی مخبت میں گرفتار ان سے ایک گلاب یا گلدستہ خرید لیتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بہت سے پھول لوگوں کے پیروں میں مسلے اور روندے جاتے ہیں ہم اکثر بیاہ شادیوں میں بارات کے ساتھ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔کہ باراتیوں پر اور بالخصوص دلہا پر پھولوں کی برسات ہوتی ہے۔ پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں۔ پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں اور گلدستے پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن ان پھولوں اور پتیوں کے خشک ہونے سے پہلے ہی ان رشتوں کی حرمت کو پامال کر دیا جاتا ہے۔ اور لوگ پھولوں کی قدر و قیمت بھول جاتے ہیں۔

نہ اپنے آنگن میں سجنے والے پھولوں کی کوئی قدر ہوتی ہے نہ گلاب کی کوئی قیمت۔ گزشتہ روز ایک ایسا ہی منظر میری آنکھوں نے دیکھا۔ ہمارے محلے کے دو نوجوان بھائیوں کی شادی چند ماہ پہلے ہوئی تھی۔ جس میں پوری کوشش کے باوجود میں شرکت نہیں کر سکا تھا۔ لیکن تین دن پہلے سنا کہ ان میں سے ایک یعنی چھوٹے بھائی کی بیوی نے فیملی کورٹ میں خلع کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور لڑکی والے آج جہیز کا سامان اٹھانے آرہے ہیں۔ ہم نے موقع پر پہنچ کر ہر ممکن کوشش کی کہ یہ رشتہ ٹوٹنے سے بچ جائے لڑکے والا فریق اپنی بدزبانی کے ساتھ ساتھ ہر قیمت پر گھر بسانے پر راضی تھا۔ لیکن لڑکی کی والدہ اور عزیز و اقارب اس کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ سامان اٹھانے والی تین گاڑیاں بھی ساتھ لائے تھے۔ آخر کار ہم نے دو دن کا وقت مانگ لیا کہ شاید کوئی بہتری ہو جائے لیکن دو دن کے بعد بھی وہی ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا۔ لیکن ہم نے فریقین کے لین دین کا معاملہ پنچائت کے طور پر حل کروا کر کم از کم کچہریوں کے دھکے کھانے سے بچا لیا اور لڑکی والوں کو باعزت طریقے سے سامان اٹھوا دیا۔ اور فریقین کو اس بات پر راضی کیا کہ ایک دوسرے سے کسی قسم کی رنجش نہیں رکھیں گے۔

میں سوچتا ہوں کہ جب رشتے کیے جاتے ہیں تب کتنے چاؤ سے ہوتے ہیں۔ شادی کی بڑی بڑی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ جہیز، طلائی زیورات اور قیمتی کپڑوں کے ساتھ ساتھ انواع و اقسام کے کھانے دیئے جاتے ہیں۔ اور کیا کیا کچھ کیا جاتا ہے۔ بارات کا والہانہ استقبال اور پھولوں کی برسات ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اتنی جلدی بھلا دیا جاتا ہے؟ اگر صرف پھولوں کی قدر و قیمت کا احساس کیا جائے تو کبھی یہ رشتے نہ ٹوٹیں۔

ہمارے معاشرے میں اجتماعی طور پر ان مسائل پر سوچنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مل بیٹھ کر اس کا کوئی حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ اور ان عوامل پر غور کریں جو ناچاقیوں اور اختلافات کا باعث بنتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمارے ہاں جس طرح رشتے جوڑے جاتے ہیں۔ خرابی وہیں سے شروع ہو جاتی ہے کیونکہ لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے سے واقف ہوتے ہیں نہ ان کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ دو انسانوں کا آپس میں گھلنا ملنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ پھر ہمارا خاندانی نظام بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ بہرحال جو بھی ہو میاں بیوی کا رشتہ ہی ایسا رشتہ ہے جو آخری عمر تک چلتا ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے اور ان رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں۔اس سے بھی زیادہ ضروری بات یہ کہ پھول آنگن کے ہوں یا گلستاں کے اتنے ہی اگانے چاہیں جن کی پرورش اور قدر ہم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی اپنے پیارے پھولوں کو اس طرح تباہ و برباد اور رلتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ پھولوں کی قدر کرو تاکہ ہمارا وطن گلستاں کی مانند ہو۔

مزید : رائے /کالم