سیاسی ڈیڈلاک، حالات کس طرف جا رہے ہیں؟

سیاسی ڈیڈلاک، حالات کس طرف جا رہے ہیں؟
سیاسی ڈیڈلاک، حالات کس طرف جا رہے ہیں؟

  


مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی نئی قیادت نے بجٹ کو اپنا ہدف بنا لیا ہے۔ اکثر بجٹ میں ترامیم کرائی جاتی ہیں، جو عوام مخالف ٹیکس ہیں، انہیں ختم کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن بجٹ کی منظوری میں روڑے نہیں اٹکائے جاتے، کیونکہ بجٹ سے ملکی نظام چلتا ہے۔ اب یہ کہنا کہ حکومت جاتی ہے تو جائے، بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے، ظاہر کرتا ہے کہ آپ حکومت کو تکنیکی بنیادوں پر گھر بھیجنا چاہتے ہیں، وگرنہ اصل میں آپ کے پاس عوامی حمایت ہے اور نہ کوئی ٹھوس وجہ جس کی بنیاد پر حکومت کو چلتا کریں۔ مقام حیرت ہے کہ بجٹ پر بحث کئے بغیر اپوزیشن اسے مسترد کر چکی ہے۔ عوام کو بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ کس وجہ سے بجٹ کو منظور نہیں کیا جا رہا۔ عوام دشمن بجٹ ہے، غریب کش ہے، عوام کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لیا ہے، وغیرہ وغیرہ جیسے جملے سننے کو مل رہے ہیں۔ کوئی متبادل تجاویز بھی تو پیش کی جائیں کہ ملک کو کیسے چلایا جائے۔ پیسہ کہاں سے آئے اور دیوالیہ ہونے سے بچنے کی تدبیر کیسے نکالی جائے۔

بلاول اور مریم نواز کے درمیان یہ دوسری ملاقات ہوئی ہے۔

پہلی ملاقات میں تو آصف زرداری بھی موجود تھے، تاہم اس ملاقات میں صرف نئی قیادت ملی اور جو مناسب سمجھا اس پر اتفاق کیا۔ اب اگر اطلاعات کی مشیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان یہ کہتی ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے صدر کا ملاقات میں موجود نہ ہونا، ن لیگ کے اندرونی انتشارکو ظاہر کرتا ہے تو اس میں بھی جان ہے، کیونکہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد اب وہی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ یہ درست ہے کہ شہباز شریف سینئر ترین پارٹی رہنما ہیں،تاہم بہ لحاظِ عہدہ ان کے ہم پلا بلاول بھٹو ہی ہیں۔ البتہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شہبازشریف نے یہ مناسب سمجھا ہو کہ پارٹی کی اس نئی قیادت کو آگے آنا چاہیے، تاکہ مستقبل کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دی جا سکے۔ یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ پاس نہ ہونے دینے کی بابت جو بیانیہ اختیار کیا ہے، کیا اسے شہبازشریف اور قومی اسمبلی میں موجود مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی کی سپورٹ بھی حاصل ہے، مریم نواز تو اسمبلی میں نہیں قائد حزب اختلاف تو شہبازشریف ہیں۔کیا وہ چاہیں گے کہ بجٹ کے معاملے پر انتشار اتنا بڑھے کہ نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جائے۔ بلاول و مریم ملاقات کے اعلامیے میں جو سخت موقف اختیار کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے، چاہے حکومت ہی ختم ہو جائے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی غیر آئینی تبدیلی آئے گی۔ یا ان ہاؤس تبدیلی کا آپشن استعمال کیا جائے گا۔ ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں کیا ضمانت ہے کہ بجٹ منظور ہو جائے گا۔ اتنی تعداد تو پی ٹی آئی کے پاس بھی ہے، جتنی اپوزیشن رکھتی ہے تو کیا یہ بحران کسی سنگین آئینی حادثے پر منتج نہیں ہوگا۔

غور کیا جائے تو اس وقت اپوزیشن بُری طرح ابہام کا شکار ہے۔ ہر روز اس کی حکمتِ عملی تبدیل ہو رہی ہے، تاہم کوئی بھی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو رہی۔ عید کے بعد تحریک چلانے کا بڑا شور تھا، لیکن بات ابھی تک مشاورت اور تجاویز سے آگے نہیں بڑھی۔ مولانا فضل الرحمن اس تحریک کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں، لیکن مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی یہ رسک لینے کو تیار نہیں۔ بلاول مریم ملاقات میں پھر یہ کہا گیا کہ حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے ملاقات کی جائے گی۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں تو یہ خود ہیں۔ باقی اپوزیشن تو اسمبلی میں بہت کم نمائندگی رکھتی ہے۔ یہ دونوں کوئی بڑا فیصلہ کیوں نہیں کرتیں، کیوں صرف گول مول سا ابہام زدہ موقف اختیار کیا جاتا ہے۔

اصل قصہ یہ ہے کہ اپوزیشن فی الوقت عوام کو سڑکوں پر لانے میں بڑی طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔ احتجاج کی کال دے کر دیکھ لیا گیا ہے کہ ان تلوں میں ابھی تیل نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی سالگرہ پر نواب شاہ سے تحریک شروع ہوگی۔ جلسوں کو تحریک کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ نواب شاہ میں تو عوام بی بی کے نام پر اکٹھے ہو جائیں گے، باقی سندھ میں کیا ہو گا۔ اسی طرح جب وہ پنجاب میں آئیں گے تو انہیں اندازہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کو کس طرح زمین سے لگا دیا گیا، ہاں یہ ممکن ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نوازشریف مشترکہ طور پر جلسوں سے خطاب کریں تو عوام اس تحریک کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ کیا اس کی اجازت مریم نواز کو ملے گی۔ کیا وہ چاہیں گی کہ اپنا سیاسی تشخص چھوڑ کر بلاول کے ساتھ کنٹینر پر آ جائیں۔ پھر وہ ماضی کی یادیں جن میں یہ دونوں نئے رہنما ایک دوسرے کے بڑوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ مریم نواز نے یہ کہا تھا کہ جس نے آصف زرداری کو ووٹ دیا سمجھو اس نے عمران کو ووٹ ڈالا، کیونکہ دونوں بھائی بھائی ہیں۔ اب یہ اتنا بڑا یوٹرن ہوگا کہ یہ دونوں رہنما مشترکہ طورپر عمران خان پر تنقید کر رہے ہوں۔ یہ ظالم سیاست اسی کا نام ہے۔ وقت پڑنے پر دشمن کو بھی گلے لگانا پڑتا ہے، البتہ دیکھ بھال کے۔

بلاول بھٹو زرداری کو تو پیپلزپارٹی میں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں نہ ہی کوئی رہنما یا گروپ ان کی چیئرمین شپ کے خلاف ہے۔ سینئر ترین پارٹی رہنما بھی ان کے پیچھے لائن بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب سے آصف علی زرداری کو گرفتار کیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری کی اہمیت کلیدی ہو گئی ہے۔مریم نواز کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں۔ نوازشریف کے جیل جانے کے بعد مریم کو فوری فائدہ اسی لئے نہیں ہوا کہ وہ خود بھی ابتدا میں جیل گئی تھیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ(ن) میں قیادت کا دعویدار شہبازشریف خاندان بھی ہے۔ اس لئے مریم نواز کو بہت زیادہ فری ہینڈ حاصل نہیں۔ شہبازشریف کو فی الوقت بائی پاس کرنا ممکن نہیں۔ پارٹی کے اندر ان کی مضبوط ساکھ موجود ہے اور اسمبلی کے اندر بھی وہ توانا آواز رکھتے ہیں۔ بلاول کے فیصلوں کو تو پیپلزپارٹی والے سب مانیں گے، مگر مریم نواز کے فیصلوں پر اعتراض ضرور اٹھ سکتے ہیں۔ مثلاً بجٹ پاس نہ ہونے دینے کا معاملہ، میرا نہیں خیال کہ شہبازشریف اتنا آگے جائیں گے۔اگر بجٹ پاس نہیں ہوتا تو یکم جولائی سے امورِ مملکت چلانا مشکل ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے یہ الزام کوئی اپنے سر نہیں لینا چاہے گا۔ اس معاملے میں شہبازشریف کیا سوچ رہے ہیں اور کیا حکمت عملی اختیار کریں گے، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم وہ ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ نظام ڈی ریل ہو۔ سو انہیں بہرحال بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی حکمت عملی میں مداخلت کرنا پڑے گی۔

ملک اس وقت بے یقینی کی فضا سے گزر رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام صاف نظر آ رہا ہے۔ پارلیمنٹ چل نہیں رہی اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان ملک چلانے کے لئے کم سے کم نکات پر اتفاق رائے بھی موجود نہیں۔اسے بدترین ڈیڈلاک کہا جا سکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اورمریم نواز اس وقت جذباتی سوچ کے زیر اثر ہیں۔ دونوں کے والد گرامی صاحبان حراست میں ہیں۔ حکومت پر دباؤ کا کوئی حربہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا،جبکہ نیب بھی کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ یہ دونوں جماعتوں کی سینئر قیادت کا فرض ہے کہ وہ حالات کو پوائنٹ آف نو رٹرن تک جانے سے روکے اور درمیان کا کوئی ایسا راستہ ڈھونڈے جو نظام کو بھی بچا لے اور کسی کو دیوار سے بھی نہ لگنے دے۔

مزید : رائے /کالم