کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

  


اقبال کا ایک شعر ہے:

دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اٹھتے

نہ ہوں پیدا نظر میں جب تلک انداز، افلاکی

اقبال کے اس شعر میں ایک ایسی ’آفاق گیر حقیقت‘ پنہاں ہے جس سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں …… یوں تو دنیا کے پانچوں براعظموں میں سمندری اقوام موجود ہیں جنہیں انگریزی میں Sea Faring Nations کہا جاتا ہے لیکن ماضی ء قریب میں جو قوم چار صدیوں تک سپرپاور بنی رہی، وہ ایک جزیرہ تھی۔ انگلستان، آئرلینڈ،ویلز اور سکاٹ لینڈ کو ملا کر جزائر برطانیہ کہا جاتا ہے۔ ماہرینِ علومِ انسانی نے اس سوال کے سلسلے میں بہت دوررس اور بیش قیمت ریسرچ کی ہے کہ وہ واحد وجہ کیا تھی جو جزائر برطانیہ کو برطانیہ عظمیٰ اور ایک عالمی سپرپاور بنا گئی۔ کیا وہ جمہوریت تھی، برطانوی پبلک ایجوکیشن سسٹم تھا یا یکے بعد دیگرے ایسے باکمال منتظم وہاں جنم لیتے رہے جنہوں نے ایک بہت طویل عرصے تک عالمی امامت سنبھالے رکھی؟ ان میں ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ جو ملک چاروں طرف سے سمندروں سے گھرا ہوا ہو اس کے باسیوں کا اندازِ نظر آفاقی ہوتا ہے۔ وہ لوگ جدھر بھی نکلتے ہیں، ان کو سمندر کی وسعتیں نظر آتی ہیں اور دور بہت دور، آسمان اور سمندر ملتے نظر آتے ہیں۔ وہ اس مقامِ ملاپ کو بچشمِ خود مجسم دیکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ سمندری قوت ان کو ان بحور کی پہنائیوں میں لے جاتی ہے۔ کولمبس، واسکو ڈے گاما اور کیپٹن سکاٹ وغیرہ کے نام لئے جاتے ہیں کہ انہوں نے نئی دنیائیں دریافت کیں۔ یہ سب لوگ ایسے ممالک میں رہتے تھے جو عظیم سمندروں کے کناروں پر واقع تھے…… علاوہ ازیں سرزمینِ عرب کو بھی دیکھیں کہ خاتم المرسلینؐ کا مولد تھا۔ حالی نے سچ کہا تھا:

عرب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا

جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا

جغرافیائی اصطلاح میں جزیرہ نما، اس بڑے زمینی قطعے کو کہا جاتا ہے جس کے تین اطراف پانی ہو اور ایک طرف خشکی ہو۔ عرب جس طرف نکلتے تھے ان کو خلیج فارس، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ عرب (خلیج عمان) نظر آتا تھا اور نگاہوں میں اس کی تسخیر کے ولولے جنم لیتے تھے۔ ماہرین کی یہ تحقیق بھی ہے کہ عرب اگر زمینوں کے ساتھ ان سے منسلک سمندروں کو بھی اپنے تصرف میں لانے کی کوشش کرتے تو ان کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہ ہوتا۔بعد کے مورخوں نے بھی یہی لکھا کہ برٹش ایمپائر ایک ایسی گلوبل سلطنت تھی جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ مغربی یورپ کو دیکھ لیجئے۔ برطانیہ، فرانس، پرتگال، سپین، اٹلی، سکینڈے نیویا(ناروے، سویڈن ڈنمارک) سب کے سب سمندر کنارے واقع ہیں، اسی لئے سمندری قوت تھے یا آج بھی ہیں۔ دونوں تینوں امریکاؤں (شمالی امریکہ، وسطی امریکہ اور جنوبی امریکہ) کی تو تخلیق ہی انہی اقوام کی مرہونِ احسان ہے جن کو ’سمندری اقوام‘ کہا جاتا ہے۔

خلافتِ اسلامیہ کے زوال کے اور اسباب بھی ہوں گے لیکن ایک بڑا سبب بحری قوت کی ڈویلپمنٹ کا فقدان بھی تھا۔ اس فقدان کا ایک اور ثبوت منگولوں کی عالمی ترک تازیوں میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک بدو، وحشی اور وابستہ بہ زمین (Land Locked) قوم نے خوارزم شاہیوں کی عظیم اسلامی سلطنت کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ لیکن پھر خود بھی بہت جلد انحطاط پذیر ہو گئی اور اس کی وجہ بھی وہی تھی کہ اس کا کوئی بحری بیڑا نہ تھا۔ امریکہ (شمالی امریکہ) میں جس شخص نے اس راز کو طشت ازبام کیا اس کا نام ایڈمرل الفرڈ ماہن تھا۔اس مختصر سے کالم میں صرف اس کے نام کا حوالہ ہی دیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی قاری نے امریکی ملٹری قوت کا اصل راز دریافت کرنا ہو تو وہ ایڈمرل ماہن کی سوانح کا مطالعہ کریں اور اس کی شہرۂ آفاق تصنیف ”بحری قوت کا عالمی قوت پراثر“ کا مطالعہ کریں۔ یہ کریڈٹ امریکی قوم کو دیا جانا چاہیے کہ اس نے اپنے مشرقی اور مغربی ساحلوں سے نکل کر ماہن کی تھیوری کو عملی جامہ پہنایا۔

امریکی بحری قوت، برطانوی بحری قوت کے بعد ایک دوسرا ثبوت تھی کہ جب تک نگاہوں میں افلاکی انداز پیدا نہیں ہوتے، دلوں میں تسخیرِ ارض کی امنگ انگڑائیاں نہیں لے سکتی۔ برسبیل تذکرہ براعظم یورپ کے انتہائی مغرب میں اگر جزائر برطانیہ واقع ہیں تو ایشیا کے انتہائی مشرق میں جزائر جاپان واقع ہیں۔ جاپانیوں کی عسکری قوت و عظمت کا اندازہ لگانا ہو تو جنگ عظیم دوم کی تاریخ کے آخری ایام کا مطالعہ کیجئے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ اگر امریکہ (صحرائے نوادا میں) جولائی 1945ء میں ایٹم بم کا کامیاب تجربہ نہ کرتا اور پھر اگست 1945ء میں جاپانی شہروں پر جوہری حملے نہ کرتا تو ہزاروں لاکھوں امریکی ٹروپس جاپان کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہو جاتے…… اور ایک اور جملہء معترضہ یہ بھی ہے کہ اس دوسری عالمی جنگ میں جو سمندری اقوام، شکست سے دوچار ہوئیں (جرمنی،اٹلی، جاپان) وہ جنگ کے ختم ہونے کے بعد ایک نہایت مختصر عرصے میں دوبارہ دنیا کی عظیم اقتصادی قوتیں بن گئیں۔

حضرت علامہ نے جب درج بالا شعر کہا تھا تو تب دوسری جنگ عظیم ”برپا“ نہیں ہوئی تھی۔ لیکن اس وقت تک جتنی بھی جنگیں (یا مشہور لڑائیاں) ہو چکی تھیں ان سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی تھی کہ جو قوم ”افلاکی نقطہء نظر“ کی حامل نہیں ہوتی، وہ تادیر بساطِ عام پر غالب نہیں رہ سکتی۔ سٹرٹیجک موضوعات پر غور و فکر کے لئے سٹرٹیجک فکر کی بنیادی ضرورت سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔

پاکستان پر اللہ کریم کا بڑا احسان ہے کہ اس کے جنوب مغربی حصے میں سینکڑوں میلوں تک پھیلا ساحلِ بحر موجود ہے۔ گوادر اور CPEC کے پس منظر اور پیش منظر کو نگاہ میں رکھئے۔ اگر پاکستان نے ایک عظیم قوم / ملک بننا ہے تو اس کو اپنے بحیرۂ عرب سے پیمانِ وفا استوار کرنا ہو گا۔ الحمدللہ اس منصوبے پر بڑی شد و مد سے کام جاری ہے۔ ہم نے اپنے دشمن نمبر ایک سے جو چار چھوٹی جنگیں لڑی ہیں ان کا فوکس 80% برّی،13%فضائی اور 7%بحری قوت پر تھا۔ جنرل مشرف کے دور تک پاک بحریہ کو خاطر خواہ طور پر ڈویلپ نہ کیا گیا۔ ہمارے دفاعی بجٹ میں سب سے کم بجٹ بحریہ کو ملا کرتا تھا۔ لیکن آج ہم کو معلوم ہو رہا ہے کہ سمندر کی اہمیت کیا ہے اور آنے والے دور میں کیا ہو گی۔

آپ اسے دور کی کوڑی کہہ لیں تو آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن آج کے پاکستانی سیاسی افق پر جس طرح کی ٹیکٹیکل تنگ نظری چھائی ہوئی ہے اس کے مناظر ہمارے سامنے ہیں۔ میں آج صبح کے اخبار دیکھ رہا تھا۔ ان انگریزی اور اردو قومی اخباروں میں جو موضوعات شہ سرخیاں اور سرخیاں بنائے گئے ہیں، ان کی یہ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:

1۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ڈی جی ISI تعینات

2۔حکومت جاتی ہے تو جائے، بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے۔(بلاول/ مریم کا مشترکہ اعلامیہ)

3۔ پاکستان، انڈیا سے ورلڈکپ میں شکست کھا گیا۔

4۔ٹڈی دل کا حملہ کپاس کی فصل کو تباہ کرنے کے درپے۔

5۔بلاول اور مریم ”یومِ والد“ (Father`s Day)پر اپنے اپنے والد صاحبان کی کرپشن چھپانے کے لئے جاتی امرا محل میں اکٹھے مل بیٹھے ہیں (فردوس عاشق اعوان)

بندہ پوچھے ڈی جی آئی ایس آئی کی پوسٹنگ کو شہ سرخی بنانے کی بھلا کیا تُک تھی؟…… یہ تو آرمی کی ایک نارمل پوسٹنگ ہے۔ساتھ ہی لکھا تھا کہ جنرل فیض حمید کے پیشرو، جنرل عاصم منیر کو گوجرانوالہ کور کا کمانڈر تعینات کر دیا گیا۔ عامر عباس کو کوارٹر ماسٹر جنرل، ساحر شمشاد مرزا کو ایڈجوٹنٹ جنرل اور معظم اعجاز کو انجینئر ان چیف تعینات کر دیا گیا؟…… یہ توضیح کرنی بھی ضروری سمجھی گئی کہ فیض حمید اس سے قبل آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ کے سربراہ تھے!…… یہ تو خیر جرنیلوں کی پوسٹنگ کا معاملہ ہے۔ اگر آپ الیکٹرانک میڈیا کے ریگولر ناظر اور سامع ہیں تو وہاں تو پولیس کے ایس پی ز، ڈی ایس پی ز بلکہ تھانہ انچارجوں کے نام اور ان کی پوسٹنگ سے بھی پاکستانیوں کی ”معلوماتِ عامہ“ میں اضافہ کرنے کی لَت عام ہو چکی ہے۔ کیا میڈیا سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس کے ہاں ISIکیوں زیادہ اہم ہے؟ اور QMG، AG اور Engr-in-Chief کی پوسٹنگ کو سرفہرست قرار دینا کیوں اہم نہیں؟

مریم اور بلاول کی ملاقات کو کئی دنوں سے موضوع بحث بنا کر اس پر ٹاک شو کا سلسلہ چلایا گیا اور اب آنے والے ایام میں بعد از ملاقات کی صورت حال پر تبصروں کا ایک ”نیا موسم“ شروع ہونے والا ہے…… اگر فوج اور سیاست سے نکل کر سپورٹس کا رخ کریں تو گزشتہ سارا ہفتہ سارے نیوز چینل ”باجماعت“ اسی موضوع پر تبصرے کرتے رہے اور اپنی اپنی بڑ ہانکتے رہے۔ کئی ”قدیم کرکٹر“ جو اپنے دور کے ہیرو سمجھے جاتے تھے ان کو ٹاک شوز میں بلا کر ان کی آراء سے ناظرین و سامعین کو مستفید کیا جاتا رہا۔ تین روز سے ٹی وی خبر نامے میں پہلی خبر اسی ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کی ہوتی تھی۔برطانوی کرکٹ گراؤنڈ کو پانی پت اور ترائن کا میدان (گراؤنڈ) بنا دیا گیا اور اتنی ہائپ پیدا کی گئی کہ خود وزیراعظم کو بھی اس میں لپیٹ لیا گیا۔

جب پچھلے برس (اگست 2018ء میں) عمران خان نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا تو انڈین میڈیا بالخصوص اور عالمی میڈیا بالعموم، جب بھی عمران خان کی کوئی خبر نشر کرتا تو ان کو ”کرکٹر ٹرنڈ پی ایم“ (Crickter Turned PM) لکھتا اور بولتا رہا تھا۔ جب خان صاحب وزیراعظم بن گئے تھے تو کیا ضرورت تھی کہ ان کے ماضی کا لیبل بھی ساتھ ہی لگایا جاتا اور کہا جاتا کہ وہ کرکٹر پہلے ہیں اور وزیراعظم بعد میں۔ خدا خدا کرکے ان کے نام سے اب ”کرکٹر“ کا سابقہ ہٹایا جا چکا تھا لیکن وزیراعظم نے خود ٹویٹ کرکے ٹیم کے کپتان سرفراز کو ”ہدایات“ دیں کہ اگر ٹاس جیت لو تو پہلے بیٹنگ کرنا تاکہ بھارتی ٹیم تمہارے ٹوٹل کا تعاقب (Chase) کر سکے…… لیکن پاکستان ٹیم کے کپتان نے عین ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ وزیراعظم کی ہدایت کے برعکس پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا…… یعنی حکم عدولی (یا ہدائت عدولی) کی اور اس کی سزا پائی۔ لیکن شکر ہے پاکستانی قوم کا وہ بخار تو اترا جو ایک ہفتے سے چڑھا ہوا تھا…… خس کم جہاں پاک!

جس قوم کا نقطہ ء نگاہ ایسا ”آفاقی“ ہو اس کے سینے میں اگر ”آفاق گیری کے ولولے“ نہیں اٹھیں گے اور کیا ہو گا؟……

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ، فضا دیکھ

مزید : رائے /کالم