آمریت کی عدالت میں جمہوریت دم توڑ گئے، مصر کے سابق منتخب صدر محمد مرسی کا کٹہرے میں انتقال

آمریت کی عدالت میں جمہوریت دم توڑ گئے، مصر کے سابق منتخب صدر محمد مرسی کا ...

  

قاہر ہ، لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک آئی این پی)مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں انتقال کرگئے،ان کی عمر 68برس تھی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق محمد مرسی عدالت میں موجودہ تھے کہ اچانک بے ہوش ہوگئے،عدالتی سماعت کے دوران  انہیں کمرہ عدالت میں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ہسپتال منتقل  کرنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ گئے۔محمد مرسی 30 جون 2012ء سے 3 جولائی 2013ء تک مصر کے صدر رہے۔ عرب ٹی وی  کے مطابق محمد مرسی پر قطر کیلئے جاسوسی کا الزام تھا۔محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے لیکن صرف ایک سال کے اندر ہی 2013 میں مصری فوج نے ان کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔اس کے بعد محمد مرسی سمیت ان کی سیاسی جماعت اخوان المسلمین کے متعدد رہنماؤں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ 2011 میں عرب بہار کے نتیجے میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا جس کے بعد محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے۔ وہ اخوان المسلمون کے پلیٹ فارم سے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن ایک سال بعد 2013 میں ایک اور فوجی بغاوت کے نتیجے میں ان کے اقتدار کا خاتمہ کرکے انہیں جیل میں ڈال دیا گیا جبکہ ان کی جماعت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔اقتدار سے علیحدہ کیے جانے کے بعد محمد مرسی پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے 2011 میں اسلامی شدت پسندوں کو جیل سے بھاگنے میں مدد کی جس پر انھیں سزائے موت دینے کا حکم جاری کیا گیا جسے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ختم کر کے ان پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔محمد مرسی کے خلاف دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے ایک جاسوسی کے مقدمے کی کارروائی جاری تھی۔محمد مرسی 1951 میں ضلع شرقیا کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔اخوان المسلیمن نے 2012 میں اپنے پسندیدہ امیدوار کے صدارتی امیدوار کی دوڑ چھوڑنے پر مجبور کیے جانے کے بعد محمد مرسی کو اپنا صدارتی امیدوار چنا۔ انتخاب میں کامیابی کے بعد محمد مرسی نے تمام مصریوں کا صدر بننے کے عزم کا اظہار کیا۔ البتہ ان کے نقادوں کا الزام تھا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور انھوں نے اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقعے فراہم کیے اور وہ ملکی معیشت کو اچھی طرح چلانے میں ناکام رہے۔محمد مرسی کے اقتدار میں ایک سال مکمل ہونے پر لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مصر کی فوج نے 30 جون 2013 کو محمد مرسی کو برطرف کر کے انھیں جیل میں بند کر دیا تھا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سابق امیر سید منورحسن،سیکرٹری جنرل امیر العظیم،لیاقت بلوچ،راشد نسیم،اسد اللہ بھٹو،میاں محمد اسلم،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ،عبد الغفار عزیز،پروفیسر محمد ابراہیم،ڈاکٹر معراج الھدیٰ صدیقی،حافظ محمد ادریس،سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے مصر کے منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسیکے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ہے۔سینیٹر سراج الحق نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ عالم اسلام اور امت مسلمہ آج ایک عظیم رہنما محروم ہوگئی ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے پاکستانی قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ کل پورے ملک میں مرحوم محمد مرسی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں۔مرکز جماعت اسلامی منصورہ میں محمد مرسی  کی غائبانہ نماز جنازہ کل بروز منگل بعد نماز عصر ادا کی جائے گی۔

محمد مرسی

مزید :

صفحہ اول -