قومی اسمبلی میں پھر احتجاج ، زرداری کا پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر ”جیالے“ ارکان کی نعرے بازی، سپیکر کے دفتر کا گھیراﺅ ، دھرنا وزیر اعظم کو جھوٹا کہنے پر حکومتی ارکان کا احتجاج ، اپوزیشن لیڈر تقریر مکمل نہ کرسکے

قومی اسمبلی میں پھر احتجاج ، زرداری کا پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر ”جیالے“ ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکو پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر پھر ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس آج تک ملتوی کردیا ،حکومتی اور اپوزیشن ارکا ن کی جانب سے ایک دوسرے کےخلاف شدید نعرے بازی کی وجہ سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر تا رہا ،پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان ”پروڈکشن آرڈر جاری کرو “کے نعرے لگائے ،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایک مجبوراً اجلاس (آج) منگل کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا اور اس طرح شہباز شریف ایک بار پھر اپنی بجٹ تقریر مکمل نہ کر سکے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قصر نے رائے کے بغیر سابق صدر آصف علی زر داری کے پروڈکشن آرڈر جاری کر نے سے انکار کر دیاسپیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت ایوانِ زیریں کا اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن کی جانب سے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر احتجاج کیا گیا۔اسد قیصر نے بارہا اپوزیشن لیڈر کو بجٹ پر تقریر کا آغاز کرنے کا کہا لیکن شہباز شریف نے ایوان میں خاموشی نہ ہونے کے باعث تقریر شروع نہیں کی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ آپ بات کا آغاز نہیں کریں گے تو سیشن کیسے شروع ہوگا جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ یہ بجٹ سیشن ہے، تمام منتخب ارکان کا استحقاق ہے کہ وہ آکر اپنے مطالبات پیش کریں۔انہوں نے بلا تاخیر پی پی پی شریک چیئرمین آصف زداری اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی چلانا صرف اسپیکر کا کام نہیں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔بجٹ پر شہباز شریف کی تقریر سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے اظہار خیال کی اجازت طلب کی اور بارہا اصرار پر اسپیکر نے انہیں صرف ایک منٹ تک بات کرنے کی اجازت دی۔راجا پرویز اشرف نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کا رول 108 اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ایوان کا جو بھی رکن کسی بھی وجہ سے موجود نہ ہو تو سپیکر کو لازمی طور پر اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رول 108 کے تحت سپیکر کو آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ہیں،اگر آپ ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو آپ کا رویہ جانبدارانہ ہے۔رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہمارے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جارہا، پیپلزپارٹی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جارہا ہے۔جس کے بعد شہباز شریف نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بجٹ عوام کی ضروریات اور ترجیحات کو پیش نظر رکھ کر بنایا جاتا ہے اپوزیشن لیڈر نے عمران خان کو تاریخ کا جھوٹا ترین وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے جھوٹے ترین وزیراعظم نے رات کے اندھیرے میں قوم سے خطاب کیا، ریاست مدینہ میں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی مگر وزیراعظم دن رات جھوٹ بولتا ہے، (ن) لیگی حکومت نے 11ہزار میگاواٹ کے توانائی منصوبے لگائے ،ہم نے معیشت کو پی ٹی آئی کی تمام سازشوں، دھرنوں اور جلاﺅ گھیراﺅ کے باوجود دن رات محنت کر کے ترقی دی ، ہماری حکومت نے مہنگائی کو 12فیصد سے ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 3فیصد پر لائی ، ہماری حکومت نے تعلیم اور صحت عامہ کے میدان میں انقلاب برپا کیا اور پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی سمت پر ڈالا ،ملک میں امن بحال کیا۔۔اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ تاریخ کے جھوٹے ترین وزیراعظم نے رات کے اندھیرے میں قوم سے خطاب کیا، سلیکٹڈ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کو دھمکیاں دیں ، وزیراعظم نے اپنی تقریر میں دو اہم باتیں کیا، وزیراعظم نے ریاست مدینہ کا ذکر کیا ، ریاست مدینہ میں وہ وقت بھی آیا تھا جب ریاست مدینہ میں زکوٰة لینے والا نہیں تھا ، ریاست مدینہ میں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی مگر جھوٹا ترین وزیراعظم اور تاریخ کا جھوٹا وزیراعظم دن رات جھوٹ بولتا ہے ۔۔شہبازشریف نے کہا کہ ہماری حکومت نے چار قومی خدمات سرانجام دیں ، (ن) لیگی حکومت نے 11ہزار میگاواٹ کے توانائی منصوبے لگائے ، ہماری حکومت سے پہلے ملک میں بیس بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی ، مشرف کے زمانے کا بہت بڑا چیلنج نوازشریف کی قیادت میں ہم نے پورا کیا ، ہم نے معیشت جس کا حال برا تھا پی ٹی آئی کی تمام سازشوں اور دھرنوں ، جلاﺅ گھیراﺅ کے باوجود دن رات محنت کر کے معیشت کو ترقی دی ، ہم معیشت کو 3 سے 5.8 تک لے گئے ، مہنگائی جس سے آج لوگ مر رہے ہیں ، ہماری حکومت نے مہنگائی کو 12فیصد سے ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 3فیصد پر لائی ، ہماری حکومت نے تعلیم اور صحت عامہ کے میدان میں انقلاب برپا کیا اور پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی سمت پر ڈالا ، اس ملک میں دہشت گردی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے اور دنیا میں لوگ یہ کہتے تھے کہ پاکستان خطرناک جگہ بن گئی ہے ، میں سلام پیش کرتا ہوں نوازشریف جو جس نے سیاسی فیصلے سے اور ردالفساد، ضرب عضب کے ذریعے ملک کا امن بحال کیا اور دہشت گردی کو ختم کیا۔شہباز شریف کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی اجلاس میں ایک بار پھر شور شرابا شروع ہوا،سپیکر اسمبلی ارکان کو خاموش رہنے کی تلقین کرتے رہے۔اس دوران بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے صدر سردار اختر مینگل بھی اپوزیشن کے احتجاج میں نشست پر کھڑے ہوگئے۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 4 بجے منعقد ہونا تھا تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان کی جانب سے اسپیکر آفس کے سامنے دھرنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا تھااس سے قبل مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا ہے کہ یہ عوام دشمن بجٹ ہے اور پورا زور لگائیں گے کہ بجٹ منظور نہ ہو۔مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی زیرصدارت پارٹی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں اتحادی جماعتوں کے رہ نما بھی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال سمیت اپوزیشن کی احتجاجی حکمت عملی سے نمٹنے کے امور زیر غور آئے جب کہ اجلاس میں پارلیمنٹ سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ یہ عوام دشمن بجٹ ہے، پورا زور لگائیں گے کہ عوام دشمن بجٹ منظور نہ ہو، پارلیمانی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت خود بجٹ پربحث شروع نہیں ہونے دے رہی، حکومت جان بوجھ کر بجٹ پر بحث نہیں ہونے دے رہی۔اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ میرے بارے میں طرح طرح کی افواہیں پھیلانے کیکوشش کی جاتی رہی، نواز شریف سے میری ملاقات ہوئی، ان کا جذبہ بہت بلند تھا وہ ملکی حالات پر بہت پریشان ہیں۔دریں اثناپاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے سپیکر آفس کے باہر دھرنا دے دیا۔پیپلزپارٹی کے ارکان نے اس موقع پرسپپیکر قومی اسمبلی کو ایوان میں جانے سے روک دیا۔دھرنے کے شرکا کی جانب سے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی، اس دوران بلاول بھٹو زرداری، راجا پرویز اشرف، خورشید شاہ، شیری رحمٰن سمیت دیگر رہنما شریک موجود تھے۔۔قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی سے پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ں راجا پرویز اشرف اور خورشید نے ملاقات کی تھی۔ مگر پی پی پی رہنماو¿ں کو آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر سے متعلق مثبت جواب نہیں مل سکا تھا۔ پیپلز پارٹی کی سپیکر کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست کی تھی لیکن آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر آج بھی جاری نہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔بعدازاں پارلیمنٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پیپلز پارٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔۔پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ سپیکر پر وزیراعظم کا دباو¿ ہے، وزیراعظم پر کس کا دباو¿ ہے کچھ کہہ نہیں سکتے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پروڈکشن آرڈر کے اجرا سے متعلق رولز موجود ہیں، آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر سے متعلق بار بار وزارت قانون سے رائے مانگنے کا کہا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے پروڈکشن سے متعلق وزارت قانون سے رائے لینے کی ضرورت ہی نہیں، اس حوالے سے رول 90 موجود ہے

قومی اسمبلی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،آن لائن)سینیٹ میں اپوزیشن نے بجٹ کو غریب دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے ٹیم منگواکر ملک کو بیل آﺅٹ کرنے کی بجائے سیل آﺅٹ کردیا ہے ، ان ڈائریکٹ ٹیکس سے غریب عوام پر ڈائریکٹ بوجھ پڑے گا ،صحت اور تعلیم کے شعبے میں بجٹ کٹ لگانا حکومت کی ملک دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے،بھارت رافیل طیارے خرید رہا ہے اور ہم دفاعی بجٹ میں کمی کرکے ملک دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں،ریاست مدینہ کی بات کرنیوالے سود کا خاتمہ کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں، این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم نہ ہونے پر دستوری حیثیت پر سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں ، حکومت موجودہ بجٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے 30جون تک نیا بجٹ تیار کرے بصورت دیگر بپھرے عوام کو پھر کنٹرول کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں رہے گی ۔سینیٹ میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر چوہدری تنویر نے کہا کہ کل مظاہرے اور دھرنا دینے والا شخص آج صادق و امین بن بیٹھا ہے ،ملک میں ایک سازش کے تحت موجودہ حکومت کو لایا گیا ہے اور میاں نوازشریف کو ہٹا دیا گیا ہے ، میرے مطابق چاروں اکائیوں میں حکومت بنانے والی پارٹی کو ہٹا کر مٹھی بھر قوتوں کو لایا گیا ہے ،نیشنل ایکشن پلان کا کریڈٹ اور ایٹمی قوت بنانے والے لیڈر کو در بدر کیا گیا ، سی پیک جیسے منصوبے اس ملک میں کون لایا ہے ،موجودہ بجٹ کو دیکھا جائے تو آنکھیں کھل جاتی ہیں ، یہ بجٹ آئی ایم ایف کا ہے یا حکومت پاکستان کا ہے ، غریب دشمن بجٹ پر نظرثانی کی جائے ، غربت ختم کرنے والے غریب ہی ختم کرنے پر تلے ہیں، تحریک انصاف نے یہاں بھی حد کردی ہے کہ انیل مسرت نامی شخص پوری کرکٹ ٹیم کو ساتھ لے کر شیشے پی رہا تھا اس کے پیچھے کون تھے ، نوازشریف جب حکومت میں آئے تو 103پٹرول اور ڈیزل108روپے تھا اور جب حکومت چھوڑکر جاتا ہے تو پٹرول88اور ڈیز98روپے چھوڑ گیا ،2013ءمیں آٹے کا توڑا331 روپے تھا اور اب 400روپے سے زائد مل رہا ہے ، پچاس لاکھ گھروں کا منصوبہ کا دعویٰ کہاں گیا ، ایک سال گزر گیا کسی بھی غریب کو ایک مرلہ کمرہ نہیں مل سکا ہے ، حکیم سعید کی کتاب ایک شہادت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کو برباد کرنے کے لئے ایک ٹولے کو لایا جارہا ہے جس کی تعبیر سامنے آچکی ہے ، ہائرایجوکیشن کے بجٹ کے لئے 55ارب روپے مانگے تھے اور حکومت نے اٹھائیس ارب روپے دیئے ، یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت تعلیم کے لئے کتنی سنجیدہ ہے ، ڈیفنس بجٹ پر کٹ لگانا درست نہیں موجودہ حالات میں ڈیفنس بجٹ پر کٹ لگانا نیک شگون نہیں ہے ، وزیراعظم کے غیر ترقیاتی اخراجات میں18.8 فیصد اضافہ کیا گیا ۔سینیٹر سکندر نے بجٹ پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت معاشی حالات پر مہارت رکھتی ہے ، جب سے حکومت سنبھالی گئی ہے بجٹ منی بجٹ اور بجٹ دربجٹ پیش کرکے عوام کی چیخیں نکال دی گئی ہیں ، حکومت یہ عوامی نمائندہ پر موجود معاشی ٹیم فارغ کرکے آئی ایم ایف کے لوگوں کو مسلط کردیا گیا ہے۔ایک جانب بھاری قرض لیے گئے مگر غریب کی روٹی کی قیمت کم نہ کی گئی ہے ،ایکسپورٹ بڑھانے کی بات ہورہی ہے ایک جانب 400 ارب تاجروں کے قرضے روک رکھے ہیں اور کون بے وقوف ہے کہ وہ بنکوں نے 12.5 سود پر بنکوں سے قرضے لے کر کاروبار کرے گا ایسا ممکن نہیں ہے ، موجودہ معاشی ٹیم جب رخصت ہو گی تو معلوم ہوگا کہ موجودہ ٹیم ہمیں بیل آﺅٹ کیا یاسیل آﺅٹ کردیا ہے موجودہ بجٹ پاس نہیں کیا جاسکتا، حکومت کے پاس 30جون تک کا وقت ہے کہ وہ بجٹ پر نظرثانی کرے ، سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ بجٹ پر بہت باتیں سن چکے ہیں کیا ہمیں بتایا جاسکتا ہے کہ اس سے قبل جو بجٹ پیش کیے گئے ان سے کیا برائی ہے لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ آنیوالے دن وں میں ایک اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے بتایا گیا ہے کہ وزن کے حوالے سے حکومت ٹرانسپورٹ کے معاملات پر ری وزٹ کرنا چاہ رہی ہی اگر ایسا ممکن ہوتا ہے کہ تو پھر ٹرانسپورٹ کرایوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا ۔سینیٹر پرویز مشتاق نے کہا کہ اکنامک سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے معاشی بنیادی اہداف حکومت کے حاصل نہیں کیے ہیں ، موجودہ حکومت نے معیشت کو آئی سی یو میں دھکیل دیا ہے اورحالت نزع میں ہے ، مہنگائی اور بے روزگاری کے حل سے متعلق حکومت نے کوئی تجویز نہیں دی ہے ، حکومت نے تین ہزار560ارب روپے کا خسارہ تو پیش کردیا مگر اس خسارہ کو کیسے پورا کیا جائے گا، ان ڈائریکٹ ٹیکس کا 45فیصد اضافہ جبکہ ڈائریکٹ ٹیکس 25فیصد بڑھایا گیا ہے ان ڈائریکٹ ٹیکس سے ڈائریکٹ غریب عوام متاثر ہوتے ہیں ، صحت اور تعلیم کا بجٹ کم کرکے حکومت نے ثابت کردیا ہے وہ غریب دشمن ہے ، بھارت رافل طیارے لے رہاہے اور ہم دفاعی بجٹ کا کٹ لگا رہے ہیں ، مدینہ کی ریاست کی بات کرنیوالے آرٹیکل 38 اےف کے تحت سود کاخاتمہ کرتے ہوئے روڈ میپ دے ، این ایف سی ایوارڈنہ ڈے کر بجٹ کی دستوری حیثیت پر سوالیہ نشان ہے ، لہذا حکومت ڈائریکٹ ٹیکس بڑھاتے ہوئے ان ڈائریکٹ ٹیکس کم کرے تاکہ غریب متاثر نہ ہو۔400 کنال گھر دینے والے وزیراعظم خود ایک ہزار چار روپے ٹیکس دیتا ہے ۔ایمنسٹی سکیم ڈاکہ ہے ، ٹیکس دینے والوں کی توہین ہے ، صنعتی اور زرعی شعبہ کو اٹھائے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے ۔سینیٹر اسد علی خان جونیجو نے بجٹ پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پر کیسی تقریر کی جائے غریب کی تو کم ہی ٹوٹ گئی ہے ، دھرنا دینے والی حکومت کو ہٹانے کے لئے حربے استعمال نہ کیے جائیں ، کیونکہ پانچ سال حکومت پورے کرے گی تو عوام کو پتہ چلے گا کہ موجودہ حکومت کتنی غریب دشمن ہے ، حکومت جس الیکشن کے ذریعے معرض وجود میں آئی کیا وہ الیکشن میرٹ پر تھے ، جب اسے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ ہے تو بجٹ کو کیسے مان لیا جائے ، ہماری درخواست ہے کہ زراعت کے حوالے سے حکومت بجٹ پر نظرثانی کرے ، صحت اور تعلیم کے شعبے میں کٹ لگایا گیا ہے یہ انہونی بات ہے ، بعد ازاں اجلاس آج منگل ساڑھے چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -