امریکہ کا خلیج فارس مزید گوج بھیجنے پر غور، آبنائے ہر مز میں جہا ز رانی جاری رکھنے کو یقینی بنائیں گے: پینٹا گون

امریکہ کا خلیج فارس مزید گوج بھیجنے پر غور، آبنائے ہر مز میں جہا ز رانی جاری ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں دو جاپانی آئل ٹینکرز پر ہوئے حملوں کا الزام امریکہ ایران پر لگا رہا ہے جبکہ ایران اس کی مسلسل تردید کر رہا ہے، تاہم پینٹاگون نے ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں ایک ایرانی کشتی کو ایک جہاز پر سے نہ پھٹنے والی ایک بارودی سرنگ کو اتارتے ہوئے دکھایا گیا تھا جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران کو اس کارروائی کا ذ مہ دار قرار دیا تھا۔ اب ”سی این این“ ٹی وی نے وائٹ ہاؤس کے دو اعلیٰ حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی سکیورٹی ٹیم کیساتھ مشورہ کر رہے ہیں کہ خلیج فارس میں موجودہ امریکی بحری بیڑے کی فوج اور سازو سامان میں مزید اضافہ کیا جائے یا نہیں۔ یاد رہے امریکی میڈیا میں پہلے بھی اس قسم کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ امریکہ اس خطے میں مزید ایک لاکھ بیس ہزار فوج بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے، تاہم سرکاری حکام سے واضح طور پر اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔ سی این این ے مطابق وائٹ ہاؤس میں اسوقت یہ بحث جاری ہے کہ خلیج فارس میں مزید فوج بھیجی جائے یا پھر اس کی بجائے بحری بیڑے میں مزید پیٹریاٹ میزائلوں اور لڑاکا طیاروں میں اضافہ کیا جائے۔ ا س دوران امریکی محکمہ دفاع کے قائم مقام وزیر پیٹرک شناہان نے اشارۃ" بتایا کہ وہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایران ردعمل کے طور پر اسے مکمل یا جزوی طور پر بند کر سکتا ہے، جہاں سے دنیا کا پندرہ فیصد تیل گزرتا ہے۔ اگر ایسی صورت پیدا ہوئی تو اسے برداشت نہیں کیا جائیگا۔ اس میں جہاز رانی کو یقینی بنانے کیلئے وہ پوری طرح چوکس ہیں۔ گزشتہ ماہ جب ایران کیساتھ کشیدگی میں اضا فہ ہوا تھا تو امریکہ نے فیصلے میں اضافی فوج بھیجی تھی جس کی صحیح تعداد نہیں بتائی گئی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا تھا سنٹر کمانڈ کے انچارج جنرل فرینک میکنزی نے ہزاروں کی تعداد میں فوج کا مطالبہ کیا تھا لیکن وہاں اس مطالبے سے کافی کم فوج بھیجی گئی تھی۔

امریکہ غور

مزید :

صفحہ اول -