اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنا،تنقید کو برائے اصلاح لینا حکومت وقت کا فرض ہوتا ہے

اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنا،تنقید کو برائے اصلاح لینا حکومت وقت کا فرض ہوتا ہے

  

مرکزی صدرجے یو پی پیر اعجاز ہاشمی نے کہا ہے یہ تو حکومت کا فرض بنتا ہے وہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلے ان کی بجٹ پر تنقید کو تنقید برائے اصلا ح کے طور پر لے اور جو تجاویز اپوزیشن کی طرف سے سامنے آئیں ان کو بجٹ کا حصہ بنائے جو اس کی اولین ذمہ داری ہونا چاہئے اور اگر اپو ز یشن کی تجاویز کو مسترد کرکے زور زبردستی حکومت نے بجٹ پاس کروابھی لیا تو پھر ایسا بجٹ متفقہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف کا بجٹ کہلائے گا جس کو عوام بھی قبول نہیں کریں گے۔ایشو آف دی ڈے میں گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا ابھی بھی حکومت کے پاس وقت ہے وہ اپنے روئیے میں تبدیلی لائے، لچک پیدا کرے اور اپوزیشن کیساتھ محاذ آرائی کی بجائے اپوزیشن کو زیادہ سے زیادہ موقع دے ان کی تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنا کر اس کو متفقہ طور پر منطور کروانے کیلئے اپوزیشن کیساتھ بیٹھ کر بات کرے اسی میں حکومت اور عوام کی بھی بہتری ہے وگرنہ اس بجٹ کی وجہ سے عوام میں جو غم و غصہ پایا جاتا ہے وہ حکومت کیخلاف ایک بڑی احتجاجی تحریک کا نکتہ آغاز بن سکتا ہے۔

پیر اعجاز شاہ

مزید :

صفحہ اول -