فضل الرحمن سے شہباز شریف بلاول بھٹو زرداری کی ملاقاتیں، حکومت کیخلاف تحریک کیلئے اپوزیشن کی اے پی سی رواں ماہ بلانے پر اتفاق

فضل الرحمن سے شہباز شریف بلاول بھٹو زرداری کی ملاقاتیں، حکومت کیخلاف تحریک ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)مسلم لیگ (ن)،پیپلز پارٹی اورجمعیت علماء اسلام (ف) نے موجودہ حکومتی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر سخت تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ جلد سے جلد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلائی جائے گی جس میں تمام مسائل زیر غور آئیں گے اور اجتماعی بصیرت اور مشاورت سے فیصلے ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی سربراہی میں لیگی وفد نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ وفد میں راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، رانا تنویر،مرتضیٰ جاوید عباسی، احسن اقبال، مریم اورنگزیب شامل تھیں جبکہ جمعیت علماء اسلام کی جانب سے مولانا عبدالغفور، مولانا واسع، مولانا اسعد محمود اور دیگر شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے حکومتی بجٹ اور قومی اسمبلی کی کارروائی پر بریف کیا۔ملاقات کے بعد مو لانا فضل الرحمن کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں ملکی معاشی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ملاقات میں طے پایا ہے کہ جلد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ حکومت عوام دشمن بجٹ لائی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اس سے جھوٹا سلیکٹد وزیراعظم نہیں دیکھا،جس کی وجہ سے پوری دنیا میں رسوائی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی آئینی راستہ ہے۔میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے گزارش کی ہے کہ اے پی سی کی تاریخ پر نواز شریف سے بھی مشاورت کی جائے۔مو لانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ جو اے پی سی کا فیصلہ ہوگا وہ سب کو قبول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل تب محفوظ ہوگا جب اس قسم کے نااہل حکمران سے نجات دلائیں گے۔قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی مولانا فضل الرحمن سے وفد کے ہمار ملاقات کی۔دونوں جماعتوں نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کیلئے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس جون کے آخرمیں بلانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہاہے کہ کٹھ پتلیوں کی حکومت میں سیاسی ومعاشی نقصان ہورہے ہیں مل کر کو قوم کو نقصان سے بچائینگے۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان گزشتہ روز ملاقات ہوئی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے اوراپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلانے،آئندہ مالی سال کے بجٹ اور موجودہ حکومت کی کار کر دگی سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔ملاقات کے بعد بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ملاقات میں اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک اور اے پی سی پر مشاورت ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف)کے نظریات الگ ہیں لیکن تاریخ میں اکٹھے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہاکہ کٹھ پتلیوں کی حکومت میں ہمارے سیاسی و معاشی نقصان ہورہے ہیں،ہم مل کر قوم کو اس نقصان سے بچائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ بجٹ ایک عالمی ادارے کے حکم پر بنا ہے،ہماری پوری کوشش ہوگی کہ عوام دشمن بجٹ پاس نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں،پورا یقین ہے عوام کو اس بجٹ سے بچا سکیں گے۔ بلاول بھٹونے کہاکہ مولانا صاحب اور ہمارے موقف میں تھوڑا سا فرق ہے،مولانا صاحب کہتے ہیں حکومت جائے، ہم کہتے ہیں پارلیمان اپنی مدت پوری کرے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے کہتی آئی ہے نظام چلتا رہے۔ انہوں نے کہاکہ ان ہاؤس تبدیلی ہو تو پارلیمان اپنی مدت پوری کرے گی۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ہم دھاندلی شدہ بجٹ کو روکنے کی پوری کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ نیا آئی ایس آئی چیف لگ گیا ہے ان کو مبارکباد دیتے ہیں،نئے آئی ایس آئی چیف کو تمغہ امتیاز اور پروموشن پر مبارکباد دیتے ہیں،آئی ایس آئی چیف تعینات کرنا وزیراعظم کا اختیار ہے،امید ہے یہ فیصلہ وزیراعظم نے ہی کیا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم اس بات پر متفق ہیں جعلی الیکشن ہوئے اور ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری کی باتوں کی مکمل تائید کرتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نمائندے نے بجٹ بنایا ہے، ہمیں معاشی غلام بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈالر 157 پر چلا گیا ہے عام آدمی کہاں جائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں اتنے قرضے نہیں لیے جتنے اس حکومت نے لیے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کا خاتمہ ہی موجودہ صورتحال سے نجات کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہاکہ جون کے آخری عشرے میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فیصلہ وہی ہوگا جو اے پی سی میں طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی ایم، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے بجٹ میں ووٹ کم کرنے کیلئے پروڈکشن آرڈر نہیں جاری کررہے۔

ملاقاتیں

مزید :

صفحہ اول -