20فیصد جنگلات چلغوزہ لپر مشتمل، بر آمد سے کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں: سمیڈا

20فیصد جنگلات چلغوزہ لپر مشتمل، بر آمد سے کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں: سمیڈا

  

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان میں جنگلات کا تقریباً 20 فیصد حصہ چلغوزہ کے درختوں پر مشتمل ہے۔ ملک میں 6 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چلغوزے کی پیداوار حاصل ہوتی ہے حو عالمی پیداوار کے 15 فیصد کے قریب ہے۔ چلغوزہ کی عالمی مارکیٹ سالانہ 21 فیصد سے زائد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے۔ سمال اینڈ میڈیم ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویلیو ایڈیشن سے چلغوزہ کی برآمدات سے کئی گنا زائد زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چلغوزہ کے جنگلات خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب سمیت شمالی علاقہ جات، گلگت اور کشمیر میں پائے جاتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے علاقہ سے چلغوزہ کی سالانہ 5 ہزار ٹن تک پیداوار حاصل ہوتی ہے جو ملک کی چلغوزہ کی مجموعی پیداوار کے تقریباً 85 فیصد کے قریب ہے۔ سمیڈا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے دیگر کئی ممالک چلغوزہ کی ویلیو ایڈیشن سے پاکستان کے مقابلہ میں کہیں زیادہ قیمت پر اس کو عالمی مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں۔ سمیڈا نے اپنی رپورٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ اس کی ویلیو ایڈیشن سے چلغوزہ کو آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے جس سے چلغوزہ کے پیداواری علاقوں میں وسائل آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

کامرس -