پنجاب بجٹ میں غریب کو کیا ملا؟

پنجاب بجٹ میں غریب کو کیا ملا؟
پنجاب بجٹ میں غریب کو کیا ملا؟

  


گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے پنجاب کا سال19,20کا 23کھرب57کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔ جس میں پنجاب کو این ایف سی میں 1494روپے ملنے کی توقع ہے۔بجٹ میں ٹیکسوں کی بھر مار کر دی گئی ہے جس میں درزیوں،ڈریس ڈیزائنرز،جوتا سازی پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔وکلاء پر ایک ہزار روپے کا ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ بجٹ میں الیکٹرک،گڈز سٹورز،کیبل آپریٹرز،پرنٹنگ پریس،کھاد ڈیلرز،ٹوبیکو وینڈوز اور ہول سیلرز یر ٹیکس دوگنا کر دیا گیا ہے۔ٹیکسوں کی بھر مار کے شکنجے میں نیشنل صوبائی ہائی ویز اور موٹر ویز کے اطراف میں زرعی اراضی کے علاوہ تمام جائیدادوں پر 5فیصد نیا ٹیکس لگا دیا گیاہے۔50لاکھ تک سرمائے والی کمپنی پر پروفیشنل ٹیکس پانچ سے بڑھا کر دس ہزار جبکہ بیس کروڑ والی پر ایک لاکھ ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ہومیو پیتھک، حکیموں،ٹیکس آرکیٹیکس،انجینئرنگ کنسلٹنٹس پر بھی ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔پنجاب بجٹ میں جیولرز،ڈاکٹرز،ڈیپارٹمنٹل سٹورز کے ٹیکسوں میں اضافے کے علاوہ پروفیشنل زرعی اراضی پر ٹیکس ڈبل کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ریونیو اتھارٹی کے دائرہ کار میں پانچ نئی سروسز شامل کی گئی ہیں۔ سیلز ٹیکس آن سروسز پر شرح سولہ سے کم کر کے پندرہ فیصد کی تجویز دی گئی ہے۔

حج اور عمرہ سمیت فضائی ٹکٹ پر پانچ فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔جبکہ بیواؤں،بزرگوں اور معذوروں کے لیے وظائف کا اعلان کیا گیا ہے۔

تنخواہوں میں اضافے کو لیا جائے تو بجٹ میں گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔جبکہ گریڈ 17سے 20تک کی تنخواہیں پانچ فیصد تک بڑھا ئی گئی ہیں۔اس کے علاوہ وزراء اور وزیر اعلیٰ کی تنخواہوں میں دس فیصد تک کمی کا اعلان ہوا ہے،مندرجہ بالا بجٹ کے چیدہ چیدہ اعلانات کے علاوہ وزیر خزانہ نے 90ارب 6کروڑ کا ضمنی بجٹ بھی پیش کیا۔بجٹ آگیا لیکن غریب کی حالت بہتر ہونے کی بجائے ٹیکسوں کی بھر مار نے غریب اور متوسط طبقے پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔جس سے عوام کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور غریب کی آس ٹوٹ گئی ہے۔جہاں تک بیواؤں،معذوروں اور بزرگوں کے لیے وظائف کے اعلان کا تعلق ہے تو یہ تو وقت آنے پر ہی معلوم ہو گا۔کہ غریب کی مدد کیسے ہو پائے گی

یا پھر اعلانات تک ہی بات محدود رہے گی۔لیکن موجودہ صورتحال میں تو بجٹ نے عوام کی بے چینی میں کمی کی بجائے اضافہ ہی کیا ہے۔جس سے صورتحال میں بہتری کی کوئی توقع نہیں ہے۔ترقیاتی بجٹ میں ھکومت نے تعلیم کے لیے 1350ارب 46.9جبکہ صحت کے 47.5ارب مختص کیئے ہیں۔جس پر تعلیمی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ تعلیم کے لیے کم رقم کیوں رکھی گئی ہے۔224ارب واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن،سوشل ویلفیئر ایک ارب،ٹرانسپورٹ 71کروڑ،انصاف بشمول عدلیہ کے لیے 29ارب سترہ کروڑ سولہ لاکھ مختص کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ پروڈکشن،سیکشن میں زراعت،جنگلات،وائلڈ لائف،فشریز فوڈز،لائیو سٹاک اینڈ ڈیری انڈسٹریز اینڈ کامرس، سائنر اینڈ منرلز ٹور ازم کے لیے 345ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔جبکہ پولیس محکمے کے لیے 115 ارب 63کروڑ سے زائد رکھے گئے ہیں۔پنجاب بجٹ پیش کیے جانے کے بعد حکومتی حلقوں نے اسے سراپا اور قائد اپوزیشن حمزہ شہباز نے بجٹ کو زہر قاتل قرار دیا، جبکہ پیپلز پارٹی نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مہنگائی کے طوفان آنے پیش گوئی کر دی ہے۔

مزید : رائے /کالم