وزیراعظم کے خطاب میں خلل، فردوس عاشق اعوان نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا

وزیراعظم کے خطاب میں خلل، فردوس عاشق اعوان نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا
وزیراعظم کے خطاب میں خلل، فردوس عاشق اعوان نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا

  


اسلام آباد(ویب ڈیسک) معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے خطاب میں خلل میری ناکامی ہے اور ہم تو وزیراعظم کے خطاب کو اس رات نہیں چلانا چاہتے تھے۔

اسلام آباد میں جاوید لطیف کی زیر صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کا اجلاس ہوا جس میں معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے بھی شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی جاوید لطیف نے کہا بتایا جائے کہ وزیراعظم کے خطاب کو کیا پیمرا نے سنسر کیا یا ٹیکنیکل مسئلہ تھا، وزیراعظم نے صحابہ کرام ؓ کے بارے میں جو بولا، پیمرا کو اسکو سنسر کرنا چاہیے تھا، عمران خان کووہ بات نہیں کرنی چاہیے جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچے۔سید امین الحق نے کہا کہ وزیراعظم نے خطاب میں جو دینی بات کی اسکو نظرانداز کیا جائے، ہمیں مذہبی انتہاپسندی کی نفی کرنا ہوگی، وزیراعظم کی تقریر میں خلل ناقابل برداشت ہے، خلل کے ذمہ داران سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم وزیراعظم کے خطاب کو اس دن نہیں چلانا چاہتے تھے، ہم نے میڈیا پر نہیں دیا تھا کہ وزیراعظم کا خطاب سوا نو بجے چلے گا، مگر جب ٹی وی پر چلا کہ سوا نو بجے وزیراعظم کا خطاب ہوگا تو وزیراعظم نے حکم دیا خطاب آج ہی نشر کیا جائے، ورنہ ہم رات کے اندھیرے میں وزیراعظم کا خطاب نہ چلاتے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جو دینی بات کی اس میں وہ الفاظ کا چناوٴ ٹھیک نہیں کرسکے، وہ بات قرآن و حدیث سے باہر نہیں تھی، الفاظ کے چناوٴ میں غلطی ہوسکتی ہے،اس متعلق زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے۔

مزید : اسلام آباد