ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر دراصل کیوں گر رہی ہے؟ بالآخر سٹیٹ بینک نے بھی خاموشی توڑدی

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر دراصل کیوں گر رہی ہے؟ بالآخر سٹیٹ بینک نے بھی ...
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر دراصل کیوں گر رہی ہے؟ بالآخر سٹیٹ بینک نے بھی خاموشی توڑدی

  


کراچی(آن لائن، صباح نیوز) گورنراسٹیٹ بینک رضا باقرنے کہا ہے کہ روپے کی قدرجون کی ادائیگیوں کی وجہ سے کم ہورہی ہے، آئی ایم ایف کوملکی فائدے کیلئے استعمال کروں گا، آئی ایم ایف میں کام کرچکا ہوں، آئی ایم ایف معاہدہ معیشت کیلئے معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے آج یہاں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ بیرونی اورمالیاتی خسارے میں کمی آناشروع ہوگئی،ملک میں غیریقینی کی صوتحال کو ختم کرنے کیلئے لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا، کیونکہ ملک میں کافی حد تک استحکام آنا شروع ہوگیا ہے، ہم اپنے معاشی مستقبل سے پرامید ہیں۔ہمارا ایکسچینج ریٹ کافی عرصے تک فکسڈ رہا، ایکسچینج ریٹ کومارکیٹ سے منسلک کرنے سے برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ ترسیلات زر بڑھنے سے ایکسچینج ریٹ میں کمی آتی ہے۔عید سے پہلے ترسیلات بڑھنے سے ایکسچینج بہترہوا۔ ایکسچینج ریٹ متحرک ہونے کے بعد خسارہ کم ہوا ہے۔ مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ صنعت کو تحفظ دیتا ہے۔

رواں مالی سال کیلئے حکومت اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لے گی۔ماضی میں حکومتیں اسٹیٹ بینک سے قرض لیتی تھیں۔ حکومتی کفایت شعاری بجٹ خسارہ کم ہوگا۔بجٹ میں مالیاتی خسارہ کنٹرول کیا جائے گا۔ شرح سود پر بتایا کہ شرح سود کے حوالے سے تین باتیں دیکھی جاتی ہیں کہ مہنگائی، مالیاتی صورتحال مستحکم ہے، گروتھ کو پروموٹ کیسے کیا جائے؟ اچھے بینک ان تینوں چیزوں کو لے کرچلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو مہنگائی ہوچکی ہے اس کو نہیں اب مستقبل کو دیکھنا ہے۔ رضا باقرنے کہا کہ آئی ایم ایف سے ہمیں 6 ارب ڈالر ملیں گے۔ ہمارا اصلاحاتی پروگرام کو بین الاقوامی کمیونٹی سپورٹ کررہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے۔آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ تین جولائی کوہوگی۔ ہماری طرف سے تمام شرائط پوری کردی گئی ہیں۔

پریس کانفرنس میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقرکا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی ٹیم معاشی پلان پر عمل درآمد کررہی ہے، اس پلان سے معیشت میں کافی حد تک استحکام آیا ہے اور استحکام کی وجہ سے مڈل کلاس اور غریب طبقہ کا فائدہ ہوگا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان میں معاشی عدم استحکام کی دو اہم اور بنیادی وجوہات تجارتی خسارہ اور مالیاتی خسارہ ہیں، ماضی میں مرکزی بینک پر قرضوں کے انحصار سے افراط زر اور روپے کی قدر پر اثر پڑا، روپے کی قدر ایک جگہ رہنے سے جاری کھاتے کا خسارہ بڑھتا رہا اور زرمبادلہ کے زخائر کم ہوئے، روپے کی قدرکو آزاد چھوڑنا معیشت کے لیے بالکل مناسب نہیں، جب کہ مرکزی بینک کے براہ راست حکومت کو قرضہ دینے سے افراط زر بڑھتا ہے، اب یہ یہ دونوں مسائل کنٹرول ہورہے ہیں۔

رضا باقرکا کہنا تھا کہ بیرونی اورمالیاتی خسارے میں بہت حد تک کمی آنا شروع ہوگئی ہے، کافی حد تک معاشی استحکام آچکا ہے، ہم اپنے معاشی مستقبل کے لیے پرامید ہیں، معیشت کا مستقبل بہت روشن ہے، ہمارا سب سے بڑا مخالف بے یقینی ہے، ہمیں عوام کو اعتماد دینا ہوگا۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی