صدر ٹرمپ نے مزید ایک ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ پہنچنے کا حکم دے دیا، ایران کے ساتھ جنگ کا خطرہ شدید ہوگیا

صدر ٹرمپ نے مزید ایک ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ پہنچنے کا حکم دے دیا، ایران کے ...
صدر ٹرمپ نے مزید ایک ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ پہنچنے کا حکم دے دیا، ایران کے ساتھ جنگ کا خطرہ شدید ہوگیا

  


واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں خلیج اومان میں دو آئل ٹینکرز کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا تھا، امریکہ و سعودی عرب کی طرف سے اس واردات کا الزام ایران پر لگایا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر سعودی عرب و امریکہ کی ایران کے ساتھ کشیدگی نئے عروج کو چھو رہی ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے مزید 1000امریکی فوجیوں کو مشرق وسطیٰ پہنچنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس حکم نامے کے بارے میں بتایا ہے کہ مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ ایران کے خطرے سے نمٹنے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق مزید فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کے فیصلے کا اعلان امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شینن نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”مزید فوجی بھیجنے کا مقصد خطے میں اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنا ہے۔“ تاہم پیٹرک شینن نے فوجی بھیجنے کے وقت اور ان کی تعیناتی کی جگہ کے متعلق نہیں بتایا۔ دوسری طرف ایرانی حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس کے پاس یورینیم کا ذخیرہ اس حد سے زیادہ ہو گیا ہے جو سابق امریکی صدر باراک اوباما اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں طے پائی تھی۔ اس معاہدے کو صدر ٹرمپ نے آتے ہی بیک جنبش قلم ختم کر دیا تھا۔

ایران کے اس بیان پر وائٹ ہاﺅس کی نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ”صدر ٹرمپ یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ہم ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔“ اس تمام صورتحال کو لے کر امریکہ و سعودی عرب اور ایران کی جنگ چھڑنے کا خطرہ بہت بڑھ چکا ہے اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فریقین کی طرف سے معمولی سی غلطی یا کوئی غلط فہمی بھی بڑھ جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی