قومی اسمبلی کا اجلاس شور شرابے کی نذر ہو کر ملتوی

قومی اسمبلی کا اجلاس شور شرابے کی نذر ہو کر ملتوی
قومی اسمبلی کا اجلاس شور شرابے کی نذر ہو کر ملتوی

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں آج ایک بار پھر شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی جس کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے جیسے ہی تقریر شروع کی تو حکومتی اراکین کی جانب سے شور شرابا شروع ہو گیا۔ڈپٹی سپیکر نے ایوان میں موجود اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آج تیسرا روز ہے شہباز شریف کی تقریر ختم نہیں ہو رہی۔

شہباز شریف نے کہا کہ کل اور پرسوں کی تقریر سے میرے الفاظ حذف کر دیئے گئے، دروغ گوئی اور غلط بیانی کے الفاظ حذف نہیں کر سکتے۔رہنما ن لیگ نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں 20، 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اور معیشت کا برا حال تھا، ہم نے 5 سالوں میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا اور معیشت کو بہتر کیا۔ڈپٹی اسپیکر نے خواتین اراکین اسمبلی کو موبائل فون سے ویڈیو بنانے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں موبائل فون سے ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہے، ڈپٹی اسپیکر نے خواتین اراکین کے موبائل فون منگوانے کے احکامات جاری کر دیئے۔پیپلز پارٹی کے اراکین نے ایک بار پھر سابق صدر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید : قومی