لداخ میں چین اور بھارت کی تازہ جھڑپ

لداخ میں چین اور بھارت کی تازہ جھڑپ

  

بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان مشرقی لداخ میں جھڑپ کے نتیجے میں انڈین آرمی کے کرنل سمیت 20اہل کار ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے، امکان ہے کہ یہ قیدی بنا لئے گئے ہوں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لچیان نے کہا ہے کہ بھارتی فوجی دستوں نے دو مرتبہ در اندازی کی اشتعال انگیزی کی اور چینی اہلکاروں پر حملہ کیا جس پر دونوں فوجوں کے درمیان لداخ کی متنازع وادی میں دست بدست لڑائی ہوئی غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان لاتوں اور مکوں سے لڑائی ہوئی ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا گیا دو جوہری طاقتوں کے درمیان 45سال میں یہ پہلا خونی تصادم ہے اس سے قبل کسی تصادم میں کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی بھارتی فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ دونوں فوجوں کے درمیان اسلحہ استعمال نہیں ہوا، ابتدائی طور پر بھارت کی جانب سے ایک افسر سمیت 3فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد میں بھارتی فوج نے بیس فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی چین کے سرکاری اخبار ”گلوبل ٹائمز“ کا کہنا ہے کہ جھڑپ میں چینی فوج کا بھی جانی نقصان ہوا ہے لیکن اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں چین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے کی جانے والی تعمیر متنازع علاقے میں ہو رہی ہے تاہم بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ سب کچھ اپنی سرحد کے اندر کر رہا ہے۔

لداخ کے علاقے گلوان وادی میں حقیقی لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) میں کئی ہفتوں سے کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے چین کا الزام ہے کہ بھارتی فوجیں متنازع علاقے میں تعمیرات کرتی ہیں چین نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی اشتعال انگیز کارروائی کا جواب نہیں دیا تازہ جھڑپ میں بھی حیران کن حد تک کوئی آتشیں اسلحہ استعمال نہیں ہوا دست بدست لڑائی ہوئی یا پتھراؤ کیا گیا۔ کیلوں والے ڈنڈوں کے استعمال کی بھی اطلاعات ہیں بیس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر اس موقع پر چھوٹے ہتھیار بھی استعمال ہوتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہوتا، چین اور بھارت کے درمیان اس علاقے کا تنازع دیرینہ ہے لیکن اگر بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرے تو یہ ایسا لاینحل مسئلہ بھی نہیں بات چیت کے ذریعے طے ہو سکتا ہے اور بالآخر اس پر حتمی سمجھوتہ بھی ممکن ہے لیکن بھارتی قیادت کے دماغ میں فوجی بالا دستی کا جو سودا سمایا ہوا ہے اور دنیا بھر سے جدیدا سلحے کے حصول اور بھارتی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے چوبیس گھنٹے اسلحے کے ڈھیر لگانے کی وجہ سے غالباً یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ کامیابیوں کا انحصار جدید اسلحہ پر ہی ہوتا ہے حالانکہ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ آہنی عزم کے ساتھ جدید اسلحے سے لیس افواج کی جارحیت کا منہ موڑ دیا گیا، اگر اسلحہ ہی سب کچھ ہوتا تو دنیا میں ہمیشہ سپر طاقتیں ہی ظفر مند ہوتیں، نصف صدی پہلے ویت نام اور حال ہی میں افغانستان یہ ثابت کر چکا ہے کہ فتح و نصرت کے لئے اسلحے کے علاوہ بھی بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں، بھارت نہ تو سپر طاقت ہے اور نہ ہی اس کی افواج ہی کسی ایسی مہارت سے بہرہ مند ہیں کہ وہ چین کا مقابلہ کر سکیں، 62ء میں یہ بات ثابت ہو چکی جب بھارت میں وہ قیادت ابھی زندہ تھی جس نے آزادی کی جنگ لڑی تھی اس نے چند روزہ جنگ سے سبق سیکھ لیا تھا اور بعد میں کبھی چین کے ساتھ چھیڑ خانی کی کوشش نہیں کی ویسے بھی چین کی پالیسی یہ ہے کہ وہ کسی تصادم میں الجھے بغیر اپنی اقتصادی کامیابیوں اور کامرانیوں کے سفر پر تیز رفتاری سے دوڑا چلا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ان دانشوروں کی کمی نہیں جن کا خیال ہے کہ بہت جلد وہ وقت آ جائیگا جب چین اقتصادی کمالات میں امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ کورونا کے حالیہ بحران میں بھی امریکی حکومت کی الزام تراشیوں کے باوجود چین نے اپنا سفر کھوٹا نہیں کیا چینی قیادت کسی تنازعے میں الجھے بغیر اپنے اہداف پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

بھارت کے ساتھ کشیدگی کے باوجود چینی قیادت نے ضبط و تحمل کا جو مظاہرہ کیا اس کا جواب تو یہی تھا کہ بھارت بھی اشتعال انگیز کارروائیوں سے گریز کرتا اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر رکھتا چین تو کھلے دل سے بھارت کو اپنی اقتصادی سرگرمیوں میں شریک کرنا چاہتا تھا، بھارت میں چین نے بھاری سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے لیکن مودی حکومت ہوا کے جس گھوڑے پر سوار ہے وہ ان زمینی حقیقتوں کو نظر انداز کر کے اگر اندرون ملک کشمیریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہی ہے اور بھارتی انتہا پسند مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے تو اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے مودی جب سے برسر اقتدار آئے ہیں پاکستان کے ساتھ ان کا رویہ جارحانہ ہے جس کا اظہار کشمیر کی کنٹرول لائن پر جاری گولہ باری سے ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع نہ ہو لیکن بھارت کی اشتعال انگیزی کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آ رہی پاکستان کی فوج اس سیکٹر میں مناسب جوابی کارروائی تو کرتی ہے پوری کوشش کی جاتی ہے کہ بات بڑھنے نہ پائے لیکن مودی نے نہ جانے کس لمحے چین کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کا فیصلہ کر لیا کئی ہفتوں سے جاری لداخ کی کشیدگی بالآخر ایک بڑی جھڑپ کی شکل میں سامنے آ گئی ہے اب بھی بھارت کے لئے وقت ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے، اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی مودی کو مشورہ دیتی رہتی ہیں کہ وہ فوج کو چین کے ساتھ خواہ مخواہ نہ الجھائیں لیکن اس مشورے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جا رہی تھی اب لگتا ہے اس تازہ جھڑپ کے بعد بھارت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔

بھارت کو پاکستان سمیت اپنے چھوٹے ہمسایوں کے ساتھ بھی تعلقات درست کرنے چاہئیں بھارت کو اس امر کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے اور اگر چین کے ساتھ محاذ آرائی جاری رہی تو اس تنظیم کے اقتصادی ترقی کے اہداف نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں گے چین اور روس کوشش کرتے رہے ہیں کہ بھارت تنظیم کے مقاصد کو اہمیت دے اور پاکستان کے ساتھ بھی اپنے تعلقات درست کر لے تاکہ دونوں رکن ممالک شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیابیوں میں اپنا کردار ادا کر سکیں، بھارت نے نہ صرف اس جانب توجہ نہیں دی بلکہ سارک ممالک میں شامل نیپال کے ساتھ بھی اپنے تعلقات خراب کر لئے، سارک کے کئی دوسرے ملک بھی بھارت کی ریشہ دوانیوں کی زد میں ہیں اور ان پر کسی نہ کسی طرح دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس تنظیم میں صرف پاکستان ایسا ملک ہے جو بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، بھارت اگر جارحانہ پالیسی ترک کر دے تو خطے کے ملک کامرانیوں کی نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں، لداخ میں تازہ جھڑپ سے بھارت کو سبق سیکھنا چاہئے اور جارحیت کا راستہ چھوڑ کر امن وا ٓشتی کی راہ پر چلنا چاہئے اس میں بھارت اور خطے کا وسیع ترمفاد پوشیدہ ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -