پارلیمانی جمہوریت، پارلیمان کی دو سالہ کارکردگی؟

پارلیمانی جمہوریت، پارلیمان کی دو سالہ کارکردگی؟
پارلیمانی جمہوریت، پارلیمان کی دو سالہ کارکردگی؟

  

اسلام آباد سے ہمارے سٹاف رپورٹر کی اطلاع کے مطابق حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان بجٹ اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے مزید اتفاق رائے ہو گیا، جس کے مطابق بجٹ پر بحث 25جون تک سمیٹ لی جائے گی اور 31جون کو ایوان سے بجٹ کی منظوری بھی مل جائے گی۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ایوان کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا، اس میں یہ معاملات طے پا گئے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور جب ایوان میں نوبت ناقابل اصلاح محسوس ہونے لگتی ہے تو بزنس ایڈوائزری کمیٹی معاملات طے کر لیتی ہے۔ اس سے عام آدمی معنی تلاش کرنے لگتا ہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا کہ ایوان میں توتکار اور ہنگامہ آرائی بھی معمول ہے کہ ہر جماعت نے اپنی پالیسی کے مطابق اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو مطمئن کرنا ہوتا ہے اور اکثر بعض جماعتی مفاد کے معاملات پر بھی رعائت حاصل مقصود ہوتا ہے، یا پھر عوامی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے، بہرحال یہ اسمبلیوں میں ہوتا ہی چلا آیا ہے اور یہ واحد منتخب ایوان نہیں جس میں شورشرابا اور ہنگامی آرائی ہوئی ہے۔ ماضی سے یہ سلسلہ جاری ہے تاہم ہمارے لئے حیرت کا باعث موجودہ جاری دور کا دو سالہ ریکارڈ ہے اس میں معمول کے خلاف عوامی بہبود کے ایجنڈے پر کم ہی توجہ دی گئی اور پورا وقت ”ہدف“ پر نشانے لگا لگا کر گنوا دیا گیا ہے۔

ہماری صحافتی پیشہ ورانہ زندگی کے مہ و سال پارلیمانی رپورٹنگ میں گزرے، ہم نے جمہوری اور مبینہ غیر جمہوری ادوار میں بھی رپورٹنگ کی۔ براہ راست عوامی رائے سے منتخب ایوانوں کے علاوہ بنیادی جمہوریت، غیر جماعتی ایوانوں کے ساتھ مجلس شوریٰ کا بھی زمانہ دیکھا اور رپورٹنگ کی، چونکہ ہمارا مرکزی دفتر لاہور ہی میں رہا اس لئے فرائض کی ادائیگی کا وقت بھی پنجاب اسمبلی کا ایوان ہی رہا، اگرچہ کبھی کبھار دعوت پر اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو یہ سرکاری دعوت پر قومی بجٹ کے موقع پر ہوتا تھا۔ کئی بار از خود گئے تو قومی اسمبلی یا سینٹ کا اجلاس بھی دیکھا تاہم رپورٹنگ کے حوالے سے پنجاب اسمبلی ہی ہماری ڈیوٹی کا مرکز رہی، ہم اپنی اس پیشہ ورانہ زندگی کے حوالے سے عرض کر سکتے ہیں کہ کسی بھی ایوان کی کارروائی کے اہم ترین دو حصے ہوتے ہیں، اولیت بہرحال وقفہ سوالات کو حاصل اور قانون سازی دوسرے درجہ کی اہمیت والی کارروائی ہے۔ وقفہ سوالات یوں کہ اس ایک گھنٹے کے دوران اراکین اپنے اپنے علاقے کے حوالے سے خصوصاً اور صوبے کے حوالے سے عموماً سوالات دریافت کرتے جو اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور اس سے اکثر اوقات مسائل حل بھی ہو جاتے ہیں، جبکہ ہم جیسے کورٹس رپورٹنگ کے تجربہ والے رپورٹر اسی میں سے اہم خبریں بھی حاصل کر لیتے ہیں، جہاں تک قانون سازی کا عمل ہے تو یہ جتنا اہم ہے، اتنا ہی کم توجہ حاصل کرتا ہے اور اپوزیشن کی طرف سے بھی تھوڑے امور کو زیر بحث لایا جاتا ہے، اس کے باوجود اس میں بحث ہو ہی جاتی ہے۔ ان دو امور کی نشان دہی کے بعد یہ بھی عرض کر دیں کہ اراکین تحاریک التواء کار اور تحاریک استحقاق میں بڑی دلچسپی لیتے ہیں کہ ہر دو کارروائیوں میں زیر بحث امور کا تعلق ان کی ذات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔

قارئین بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے یہ کیا ”کلاس“ لگا لی اور سبق پڑھانا شروع کر دیا کہ یہ کوئی حیرت انگیز معلومات نہیں ہیں۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہی سب کچھ ہوتا اور ہونا چاہیے، یہ بالکل درست سوچ ہوگی، تاہم یہ سب عرض کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ماضی کے تلخ ایام کے ادوار میں بھی یہ سب ہو ہی جاتا تھا بلکہ ایوانوں میں بہت ہی اعلیٰ معیار کی گفتگو اور تقریریں سننے کو بھی مل جاتی تھیں لیکن موجودہ پارلیمانی جمہوریت کے دو سالوں میں یہ بھی ایک نیا ریکارڈ ہے کہ ان ایوانوں میں ایجنڈے کے مطابق عوامی بہبود کے امور پر وہ توجہ ہی نہیں دی گئی جو مطلوب ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر قومی سطح پر زیادہ قانون سازی آرڈی ننسوں کے ذریعے ہوئی اور وقفہ سوالات کو اس کے مطابق اہمیت ہی نہیں دی گئی، بلکہ ہمارے سامنے تو وقفہ سوالات سے کچھ زیادہ خبریں بھی نہیں آئیں، ایوان تو سوتنوں کے طرز پر ہی چلتا چلا آ رہا ہے۔

یہ شاید واحد ایوان ہو، جو ہر بار جلسہ عام کا منظر پیش کرے کہ حزب اختلاف نے تو روائت کے مطابق اعتراض کرنا ہوتا ہے اور حزب اقتدار کی طرف سے جواب بھی دیا جاتا ہے تاہم اس ایوان کی دو سالہ کارکردگی یہ ہے کہ دونوں طرف سے توہین کی کوشش ہوتی ہے بلکہ حزب اقتدار نے تو ”مراد سعید“ جیسے نوجوانوں کا تقرر بھی کیا ہوا ہے جن کا فرض ہر معاملے پر جواب اور اشتعال دلانا ہے اگرچہ یہ نوجوان بعض معاملات پر تیاری بھی کرکے آتا ہے لیکن اس کی طرف سے ”سوتانہ حملوں“ کا بھی ریکارڈ ہے، اگر ایوان کی دو سالہ کارروائی پر نظر ڈالیں اور ریکارڈ نکلوا کر دیکھ لیں تو جو زبان وہ روز اول سے استعمال کر رہے ہیں، آج بھی اسی کو دہراتے چلے جا رہے ہیں، یوں یہ سلسلہ بجٹ جیسے اہم اجلاس میں بھی جاری ہے اور اسی میں یہ بجٹ منظور بھی ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں قائد ایوان اور حزب اقتدار نے ایوان کو کبھی بھی اہمیت نہیں دی، قائد ایوان کی اس ایوان میں حاضری کو بھی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے، یہ بھی ماضی کی روایات کے خلاف ہے کہ سخت محاذ آرائی میں بھی ایسا نہیں ہوتا تھا، حتیٰ کہ محمد نوازشریف اور محمد شہبازشریف کا بھی حاضری کے حوالے سے ریکارڈ کچھ بہتر نہیں، لیکن دور موجودہ سے تو اچھا ہی تھا، اگرچہ مخدوم یوسف رضا گیلانی اور محمد خان جونیجو کی تعریف کر سکتے ہیں۔

حزب اقتدار کا جو حال ہے سو ہے حزب اختلاف کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں، یہ ایک ایسا موقع تھا جس میں قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بہت زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے تھے کہ ان کے لئے میدان بہت صاف تھا لیکن ان حضرات کا بھی حاضری ریکارڈ کچھ بہتر نہیں، ورنہ انہی ایوانوں نے حاجی سیف اللہ، خواجہ صفدر، سردار بہادر خان، مخدوم زادہ حسن محمود، سید تابش الوری، علامہ ارشد اور رانا اکرام ربانی کے ساتھ ساتھ چودھری پرویز الٰہی کی کارکردگی بھی ریکارڈ کی ہوئی ہے، تاہم جو حال اب ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ وزیراعظم عمران خان تو شاید قابل توجہ نہیں جانتے، رہ گئے شاہ محمود قریشی تو وہ بھی اپنی ”ذاتی پروجیکشن“ کو بھی مدنظر رکھتے ہیں، دو سالہ دور موجودہ نے سارے ریکارڈ ہی توڑ دیئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -