شیخ صاحب کی شادی جہانگیر خان ترین اوروزیر اعظم عمران خان

شیخ صاحب کی شادی جہانگیر خان ترین اوروزیر اعظم عمران خان
شیخ صاحب کی شادی جہانگیر خان ترین اوروزیر اعظم عمران خان

  

جب عدالت عالیہ سے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ آیا تو جہانگیر خان ترین نے آسمان کی طرف منہ کرتے ہاتھ اٹھائے اور خدا کا شکر ادا کیا ایسے کتنے ہی شکر ہیں جو قیام پاکستان کے بعد ہنوز ہر آنے جانے والی حکومتوں پر ادا کئے گئے اورشائدکئے جاتے رہیں گے۔ ہمارے جاننے والے ایک شیخ صاحب کی شادی کہیں طے ہونی قرار پائی تو میں نے کہا شیخ صاحب آپ تو کسی اور جگہ دلچسپی لیتے تھے اب یہاں شادی کا ارادہ باندھا وہ بھی اپنے شہر سے دور شیخ صاحب گویا ہوئے دیکھئے جہاں میری شادی اب طے پائی ہے وہ لوگ مالی لحاظ سے کچھ بہتر ہیں اور اگر سسرال والوں کی مالی حالت بہتر ہو تو مجھے بھی استحکام ملے گا میں نے شیخ صاحب کی بات سن کرکہا دیکھئے شیخ صاحب آپ یہ بھول گئے ہیں کہ وہ بھی شیخ ہی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جہانگیر خان ترین صاحب پی ٹی آئی کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے اور حکومت بناتے ہو ئے اپنے جہازکا استعمال کرتے شائد یہ بھول گئے کہ آگے بھی عمران خان صاحب ہیں جو روز اول سے کہتے آرہے ہیں کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا لیکن عمران خان صاحب کے کسی کو نہ چھوڑنے کا مفہوم شائد کچھ اور ہے جسے ہم سادہ لوح سمجھ نہیں پائے جیسے گلیاں نالیاں بنانے والے ٹھیکیدار کہیں خستہ شکستہ میٹریل استعمال کرکے کام مکمل ہونے کے بعد کسی دوسری جگہ کام شروع کرنے سے پہلے مزدوروں سے کہتے ہیں سارا سامان سمیٹ لو کوئی شے یہاں رہ نہ جائے ورنہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا یا کوئی ایس ایچ او کسی مقدمے میں مطلوب ملزمان کو پکڑ کر ناحق بے گناہ افراد کو بھی’دانستہ‘ دھر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

کسی گاؤں کا کوئی فسادی مگر با اثر شخص اپنے حواری کو گاؤں کے کسی کمزور شخص کو زچ کرنے کے لئے اس پر کسی بہانے حملہ آورہونے کا کہتا ہے اور جب وہ دوسری جانب سے پٹتا نظر آتا ہے تو با اثر شخص اپنے حواری کو بچانے کے لئے میدان میں کود پڑتا ہے اور با آواز بلند کہتا ہے چھوڑ دو چھوڑ دو ورنہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا لہذا عمران خان صاحب بھی کسی کو نہیں چھوڑرہے صاحب یہ سیاست کی گم گشتہ گلیاں ہیں یہاں سے عوامی الجھنوں کو سلجھا کر نکلنے والا ہی عوام کی آنکھ کاتار ا ہوتا ہے اور دوام پاتا ہے ورنہ اقتدار سے اترتے ہی آپ انہی گلیوں میں کھو کر رہ جاتے ہیں جہاں کوئی آپکو جانتا ہے نہ ہی آپ کو اپنا پتہ ملتا ہے اور آپ گمنامیوں کے مہیب سایوں میں کھو کررہ جاتے ہیں۔ ایک لڑکی جب ماں بنتی ہے تو اللہ تعالی اسے حکمت و دانش کی دولت سے بھی نواز دیتا ہے جس دانش سے وہ اپنے بچوں کے لئے اچھے برے کا ادراک کرتی ہے ایسے ہی ایک سیاستدان جب حکمران بنتا ہے تو اسے ایک ماں کی طرح اپنی دانش سے کام لینا ہوتا ہے۔

عمران خان صاحب نے اقتدار میں آنے کے لئے جو جو جتن کئے عوام سے جو وعدے کئے وہ عوام بھولے نہیں لیکن افسوس ہمارے سیاستدان عوام سے کئے وعدوں کو اقتدار میں آکر یکسر فراموش کر دیتے ہیں اب ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ جناب وزیر اعظم کو کون یاد الائے؟یہ جناب عمران خان ہی تو تھے جو امداد لینے سے خود کشی کو ترجیح دیتے تھے اور کہتے میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلاؤں تو آپ کو کتنا برا لگے گا آپکا تو پتہ نہیں لیکن مجھے تو بہت برا لگے لیکن پھر انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے عذر تراش لئے اقتدار سے پہلے جناب عمران خان صاحب سے ایک ٹی وی انٹرویو میں پوچھا گیا کہ کیا آپ دوسری جماعتوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں گے تو آپ نے فرمایا تھا کہ نہیں ہرگز نہیں پھر میری تحریک میری کوششوں کا کیا فائدہ؟ لیکن پھر حکومت بنانے کے لئے عمران خان صاحب دوسری جماعتوں کے رہین منت ٹھہرے اور دوسری جماعتوں سے بھاگے ہوؤں کو سینے سے لگایا سانحہ ماڈل ٹاؤن پر خان اعظم کیا کیا نہ فرما چکے ہیں لیکن سانحہ ساہیوال پر وہ کتنے بے بس نظر آئے اور انکی یہ بے بسی اب ہر شعبہ تک پھیلی دکھائی دیتی ہے کہیں گراں فروشی کو روکا جا سکا ہے نہ ہی گراں فروشوں کو لگام ڈالی گئی آٹا چینی گھی سے لے کر اشیائے خوردونوش کی ہر چیز کی قیمتوں کو پر لگ گئے کرونا کی خطرناک وبا کے بعد فیس ماسک اور سینیٹائزر اور بھی مہنگے ہوگئے ادویات کی قیمتیوں میں اضافہ ہوگیا گراں فروش حکومت کے لئے ایک چیلنج بن چکے ہیں پبلک ٹرانسپورٹ کا پہیہ تو چل پڑا لیکن حفاظتی انتظامات ندارد۔مارکیٹیں تو کھل گئیں لیکن ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں پٹرول سستا تو ہوا لیکن ساتھ ہی کم یاب بھی ہوگیا شہریوں کو ہنوز پٹرول دستیاب نہیں۔

روزگار کے مواقع میسر نہیں تو کیوں نہ یہ کہا جائے کہ حکمران ناکام ہوچکے سب سے بڑی ناکامی کرونا کنٹرول نہ کرنے کی ناکامی ہے جس کی روک تھام کے لئے حکومت درست اقدامات نہ اٹھا سکی ہمیں یاد ہے جب ڈینگی آیا تو جناب عمران خان صاحب نے اس وقت کے وزیر اعلی شہباز پر کڑی نقطہ چینی کی تھی اس وقت ملک کے ایک صوبے پر عمران خان صاحب کی جماعت کی حکومت تھی اور جب وہاں ڈینگی پھیلا تو عمران خان صاحب پہاڑوں پر جا پہنچے اور اپنے صوبے میں پھیلتے ڈینگی کے سوال پر فرمایا کہ موسم بدلے گا تو یہ ختم ہوجائے گا یعنی خان اعظم کی یہ غیر سنجیدہ طبیعت پرانی ہے ورنہ جناب اگرسنجیدگی سے کام لیتے تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے اور تو اور خان اعظم تو اپنے یو ٹرن کو بھی درست قرار دے چکے ہیں پھر خان صاحب کے ارشادات پہ کیسے یقین کیا جائے کہ جناب اپنے کہے سے پھریں گے نہیں پچھلے سال محکمہ بہبود آبادی کی سینکڑوں ہیلتھ ورکرز نے اپنے معصوم بچوں کے ساتھ چلچلاتی دھوپ میں کئی روز مال روڈ پر دھرنا دیا کہ انہیں ریگولر کیا جائے تمام تر حکومتی وعدوں کے باوجود ابھی تک انہیں مستقل نہیں کیا جا سکا مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہی ورکرز اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر خوف کے ان سایوں میں پھر سے دھرنا دینے کی تیاریاں کررہی ہیں کتنا ہی بہتر ہو کہ انہیں مستقل کرکے حکمران کوئی وعدہ تو وفا کر دیں۔

کل ہی مجھے اپنے علاقے کے قانون دان چوہدری زاہد صاحب کا واٹس ایپ پر وائس میسج موصول ہوا جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے 28مئی یوم تکبیر کے نہ منائے جانے کا شکوہ کیا اور کہا کہ کہ یہ صرف نوازشریف کا پروگرام تو نہیں تھا انہوں نے اس پر مجھے کالم لکھنے کی فرمائش کی تھی جہاں تک اس دن کے نہ منائے جانے کی بات ہے وہ تو کرونا وائرس کی روک تھام یا حفاظتی انتظامات کے پیش نظر ہوا ہوگا وہ معاملہ تو رہا ایک طرف اصل بات تو یہ ہے کہ جس طرح ہمارے سیاستدان اس بات کا کریڈٹ کبھی کسی تو کبھی کسی کو دیتے رہے اصل شرم کی تو یہ ہے کہ اس انتہائی اہم اور حساس موضوع کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا سب جانتے ہیں کہ جناب ذوولفقار علی بھٹو۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان۔ جنرل ضیاء الحق سے لے کر نواز شریف تک سب کا کردار اپنی اپنی جگہ بہت اہم ہے انڈیا کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کی جانب سے چھ ایٹمی دھماکے کئے گئے جو کہ ناگزیر ہوچکے تھے اس میں کسی کے کردار ی نفی نہیں کی جا سکتی فوجی افسروں اور سیاسی قائدین نے اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کہیں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن افسوس یو م تکبیر ایسے اہم دن پر بھی ہمارے سیاستدان منہ کھولے بغیر نہ رہے شیخ رشید صاحب کواللہ صحت عطا فرمائے انہوں نے فرمایا کہ نواز شریف دھماکے نہیں کررہے تھے ان دھماکوں کی حمائیت شیخ صاحب کے بقول راجہ ظفر الحق۔

گوہر ایوب اور خود شیخ صاحب نے کی راجہ ظفر الحق نے فوری طور پر شیخ صاحب کی بات کی تردید کرتے کہہ دیا کہ اس وقت نواز شریف وزیر اعظم تھے سو دھماکوں کے فیصلے کا کریڈٹ نواز شریف کے سوا کسی کو نہیں جاتا شیخ صاحب کا ایک وڈیو کلپ سوشل میڈیا پہ دھوم مچا تا رہا جس میں شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ میں دھماکوں سے قبل ہی ملک چھوڑ کر بھاگ گیا تھا پاکستان میں سیاستدانوں کے ایسے رویوں نے نہ صرف سیاست بلکہ ملک کے وقار کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے لہذا اس وقت پاکستان کو سیاسی بصیرت کے حامل سیاستدانوں کی بہت ضرورت ہے

مزید :

رائے -کالم -