مظلومیت یا بے حِسی؟

مظلومیت یا بے حِسی؟
مظلومیت یا بے حِسی؟

  

امریکہ میں نسلی فسادات کے دوران اْٹھائے گئے ایک پلے کارڈ نے ابھی تک اہل فکر کے ذہنوں میں طوفان مچا رکھا ہے۔ اس پلے کارڈ پر جو عبادت درج تھی اْس میں بڑی دل سوز اور دلخراش حقیقت درج تھی جس میں لکھا تھا کہ“ ہم عرب نہیں ہیں کہ تم ہمیں قتل کرو اور ہم خاموش رہیں“ یہ الفاظ پوری امت مسلمہ کے مْنہ پر ایک ایسا زور دار طمانچہ ہیں کہ جس کی تپش پوری دنیا کے مسلمانوں نے نہ صرف اپنے چہرے پر محسوس کی ہو گی بلکہ اس پلے کارڈ کے پیچھے منہ چڑھاتے طعنے اور طنز نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کر دیا ہے۔میں تو ابھی تک محو حیرت ہوں کہ پلے کارڈ پر لکھی اس حقیقت کو مسلمانوں کی مظلومیت سے تشبیہ دوں یا پھر بے حسِی سے تعبیرکروں۔

تاریخ کے بے رحم تھپیڑوں نے بہت سے مظالم رقم کیئے مگر چند ایک انتہائی قابل سوز ہیں کہ جو اْس دور کی حیوا نیت اور بربریت کے باعث تاریخ کے سینے میں ظلم اور جبر کی انَ گنت داستانیں چھوڑ گئے۔مسلمانوں پر ظلم اور جبر کا یہ سلسلہ عراق کے تپتے ریگستانوں سے۱۶ ہجری میں کربلا کے مقام سے شروع ہوا کہ جب یزید کے ہا تھوں نواسہ رسول (ص) پر ظلم و استبداد برپا کیا گیا اورپھر اہل بیت پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے اور پھر تاریخ نیاآسمان کو خون سے نہائے اور زمین کو لہو سمیٹتے ہوئے دیکھا۔ قربانیوں کا یہ سلسلہ ان لازوال داستانوں کے بعد ظلم کی پْر آشوب اور دل گرفتہ وادیوں سے ہوتا ہوا یورپ کے اْن سفاک حاکموں تک بھی جا پہنچا کہ جن کی تلواروں کی نوک پربہت سے مظلوم مسلمانوں کا خون اب بھی دکھائی دیتا ہے یہاں تک کہ ہزاروں مسلمانوں پر ظلم و جبر بھی کیا گیا اور ان کے سر تن سے جدا کر کے ان کو دیواروں میں چنوایا گیا جن کے نشانات آج بھی اْس دور کے کلیسا میں پائے جاتے ہیں۔ وہ کلیسا کہ جس کو آج بھی کیپیلا ڈوسو سو س کے نام سے پکارا جاتا ہے جو پرتگال کے شہر;ایوارا; میں واقعہ ا یک ہیبت و حسرت کی ماری ہوئی عمارت ہے،جس کو کچھ ہی عرصہ پہلے سیاحوں کے لیے کھولا گیاہے کو پوپ:فرانسس کانی :نے سو لھویں صدی میں تعمیر کیا۔ اس کو 1495 میں ختم ہونے والی صلیبی جنگوں کے دوران اندلس میں مارے گئے مسلمانوں کی ہڈیوں سے تعمیر کیاگیا۔ وہ اندلس کہ جو ہسپانیہ، پرتگال اور جدید فرانس پر مشتمل ایک پورپی اسلامی ریاست تھی۔ اس کی دیواروں پر آج بھی دو خشک لاشیں لٹک رہی ہیں جن کو گلہ گھونٹ کرقتل کیا گیا پھران کی لاشوں کو اس ظلم کی عمارت کے باہر لٹکا دیا گیا کہ جہاں انسانیت آج بھی محوِ رقصاں ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس عمارت کو بنانے کیلیے 5ہزار مسلمانوں کی ہڈیوں کے ڈھانچوں کو استعمال کیاگیا جن کو اندلس پر قبضے کے بعد نصرانیت قبول نہ کرنے پرقتل کیاگیاتھا۔ مجھے یہ ظلم نصرانیوں کے بجائے مسلمانوں کی اپنی کمیوں کوتاہیوں اوراقتدار کی ہوس کا نتیجہ محسوس ہوتا ہے۔

اس کے بعد گیارہویں اور بارہویں صدی میں ہی چنگیز،ہلاکو اور اباقا خان کے ہاتھوں ایران، شام،مصر میں تباہی و بربادی اور عراق کے مسلمانوں کے لہو سے دریا ئے فرات کو سرخ کر دیا گیا۔ ہزاروں مسلمانوں کی کھوپڑیوں سے مینار بنائے گئے اور پھر انگریزوں کی لارنس آف عربیہ اور ہمفرے سے مل کر سازشیں، ہندوستان پر قبضہ، پھردور جدید میں پچیس سال تک افغا نستان میں روسی استعمار، سترہ سال سے افغا نستان میں نیٹو اور امر یکی افواج کا نا جا ئزہ قبضہ، شام کی حالیہ تباہی، لیبیا میں انار کی اور کرنل قدافی کی حکومت کا خاتمہ،عراق میں صدام کی حکومت کا خاتمہ ظلم و بر بریت، یمن کے مسلمانوں پر قیامت صغرا، فلسطینی مسلمانوں اسرائیلی استعمار اور ظلم، پھر موجودہ مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ اور پھر اخوان کی حکومت کی پسپاہی اور وہاں کے مسلمانوں پر ظلم قید و بند کی صعو بتیں، سوڈان اور صومالیہ کے مسلمانوں کی نصف صدی سے تباہی اور بربادی، سانحہ میانمار جہاں مسلمان ہونے کے جرم کی پاداش میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ چیچن مسلمانوں پر ظلم، بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی، ہندوستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا۔ دہلی میں مسلمانوں کو اینٹوں، پتھروں، ڈنڈوں، لاٹھیوں اور بر چھوں سے موت کے گھٹ اْ تار دیا گیا،مسجد جلا کر قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اور دو سو کے قریب مسلمانوں کو شدید زخمی کیا گیا۔ مگر مسلمان حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اْسی طرح برقرار رہی۔

انیس سو بانوے میں بابری مسجد کی شہادت 2002 میں گجرات میں نسلی فسادات جن میں تقریباً 1926 مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا‘ یہاں تک کہ کانگرس کے ایم پی احسان جعفری کو اس کے خاندان سمیت اس کے گھر میں ہی زندہ جلا دیا گیا‘ 2007ء میں پاکستان آنیوالی سمجھوتہ ایکسپریس میں 70 افراد کو زندہ جلا دیا‘ 2001ء سے 2014ء تک گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو 63 سے زیادہ مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں 24 مسلمان قتل اور 124 زخمی ہوئے۔ 5 اگست 2019 میں ہندوستان میں دفعہ 370 کو آئین سے حذف کرکے کشمیر کی آزاد حیثیت کو ہمیشہ کیلئے ختم کرکے ان کو لاک ڈاؤن میں ڈال دیا گیا۔

ابھی تک دنیا بھر میں مسلمانوں کو ایسے ظلم کا نشانہ بنایا گیا کہ جیسے ان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں مگر اس ظلم اور استبداد کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے والے صرف چند لوگ تھے باقی سب مسلمان حکمران اس قتل عام کو ایسے دیکھتے رہے کہ جیسے کوئی مجنوں یا ملنگ دین و دنیا سے بے بہرہ کسی مزار کی رکھوالی پر کھڑا ہو اور رکھوالی بھی ایسی کہ کوئی سب کچھ بھی لے جائے تو کوئی فکر نہیں۔ کیا کہوں اس برداشت کو مظلومیت یا بے حسی؟ دنیا بھر کے مسلمان چاہے خاموش رہیں اور اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹیں یا اپنی بے حسی پر ماتم کریں مگر میرا یقین ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے اور اپنے وقت پر اس کا ضمیر ضرور جاگے گا۔ جیسے چند روز قبل اسرائیل میں عوام حکومت کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے فلسطین پر قبضے کے خلاف نعرے لگائے اور ان کو فلسطینیوں کے حقوق واپس دینے کا مطالبہ کیا جو کہ ایک تاریخ ساز واقعہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت ابھی بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔ انسانیت کی جہدوجہد کو دنیا بھر میں نیا رنگ ضرور ملے گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ یہ ظلم اور بربریت صرف یہاں پر ختم نہیں ہوئی گزشتہ کئی مہینوں سے کشمیر میں کرفیو، حیوانیت، درندگی اور کم ظرفی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مگر میں اس کو مسلمانوں کی مظلومیت لکھو ں کہ بے حسی اس کا فیصلہ آپ خود کریں۔ یہ مسلمانوں کے لیے واقعی ایک لمحہ فکریہ ہے، وہ اب اس بات پر ضرور سوچیں کہ اْن کی موثر آواز انسانی حقوق کے ایوانوں تک کس طرح پہنچے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک غائب سے مسلمانوں کی مدد فرمائے اور ان کو خواب خرگوش سے بیدار کرئے۔ اس بے حسی سے نکالے کہ جو ان کے روزوشب کا خاصہ بن چکی ہے اور غیرت ملی کو بھی بیدار کرئے کہ جس کی اس وقت شدید ضرورت ہے تاکہ مسلمان اس طرح دوسری قوموں کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -