زندہ دلان لاہور، پلیز مائنڈ نہ کریں

زندہ دلان لاہور، پلیز مائنڈ نہ کریں
زندہ دلان لاہور، پلیز مائنڈ نہ کریں

  

زندہ دلانِ لاہور کو اس بات کا غم نہیں ہو گا کہ آدھا شہر دو ہفتوں کے لئے سیل ہو گیا ہے البتہ انہیں صحت کی صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کے ان ریمارکس پر دلی ٹھیس پہنچی ہے، جو انہوں نے ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کے لاہوریوں کے بارے میں دیئے۔ کوئی دوسرا پاشا وزیر لاہوریوں کو انوکھی مخلوق اور جہالت کا طعنہ دیتا تو زندہ دلانِ لاہور سڑکوں پر نکل آتے مگر کیا کیجیے کہ یہ طعنہ لاہور ہی کی ایک ڈاکٹر اور سیاستدان نے دیا ہے، جو کئی بار لاہوریوں سے ووٹ بھی مانگ چکی ہیں اور یہ دعویٰ بھی رکھتی ہیں کہ لاہوریوں کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا، ایک صاحب نے تو سو شل میڈیا پر بھی لکھا ہے کہ آدھے لاہور کی پیدائش تو ڈاکٹر یاسمین راشد کے ہاتھوں سے ہوئی ہے اس لئے جہالت کی ذمہ داری بھی اب وہی اٹھائیں میں تو سمجھتا ہوں بات اتنی بڑی نہیں جتنا اسے بڑا بنا دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ بلاول بھٹو،زرداری بھی قومی اسمبلی میں اس بیان پر برا کرتے نظر آئے۔ کسی نے کہا تھا کہ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے، یہاں ڈاکٹر یاسمین راشد کو لفظوں کے انتخاب نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ وہ جاہل کا لفظ استعمال نہ کرتیں اور غیر ذمہ داری یا لاپرواہی کو اجاگر کرنے کے لئے کوئی متبادل لفظ استعمال نہ کرتیں تو چائے کی پیالی میں طوفان برپا نہ ہوتا۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ زندہ دلان لاہور کے بارے میں داستانیں ہمیشہ ہی گردش کرتی رہی ہیں“ کیونکہ وہ سب سے وکھرے ہیں، انہوں نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں چھتوں پر کھڑے ہو کر طیاروں کی لڑائی دیکھی اور اپنے پائلٹوں کے حوصلے بڑھائے، دنیا بھر میں جب دشمن کے جہاز آتے ہیں تو لوگ خندقوں میں چلے جاتے ہیں مگر لاہوریئے چھتوں پر چڑھ گئے دنیا حیران رہ گئی کہ یہ کیسی مخلوق ہے، جسے موت کا کوئی ڈر ہی نہیں۔ بسنت پر پابندی سے پہلے اہل لاہور اس موقع پر کیا جتن برپا کرتے تھے، سب کو یاد ہے۔ پھر اس لاہور سے دھاتی ڈور کا کاروبار بھی شروع ہوا سب نے لوگوں کے گلے کاٹنے شروع کر دیئے۔ انہیں بہتیرا سمجھایا گیا دھاتی ڈور استعمال نہ کریں مگر یہ کہاں باز آنے والے تھے، لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے بسنت پر پابندی لگا نا پڑی اور یوں لاہور کا سب سے بڑا تہوار لاہوریوں کی ضد کا شکار ہو گیا۔ زندہ دلان لاہور نے نواز شریف کو بھی اپنی ضد بنائے رکھا۔ ہمیشہ مسلم لیگ ن کو اکثریت دلائی، حتیٰ کہ 2018ء کے انتخابات میں بھی کہ جب تحریک انصاف پنجاب کے کئی شہروں سے کلین سویپ کر گئی، لاہور میں وہ مسلم لیگ ن کا قبضہ ختم نہ کرا سکی۔ یاسمین راشد بھی بڑی کوششوں کے باوجود شکست کھا گئیں اور اسی ضد میں انہیں خصوصی نشست پر رکن صوبائی اسمبلی بنایا گیا۔ اس پس منظر میں اگر ڈاکٹر یاسمین راشد لاہوریوں کو وکھرے ٹائپ لوگ کہہ گئی ہیں، تو اس کا ان کے پاس جواز بھی موجود ہے کہ ایک عرصے تک لاہوریوں کے بچوں کی پیدائش کے لئے دن رات خدمت کرنے کے باوجود انہوں نے ووٹ دینے میں کنجوسی سے کام لیا۔

اب جہاں تک کورونا وباء کا تعلق ہے، لاہوریوں نے اپنی عادت کے عین مطابق اسے بھی سنجیدہ نہیں لیا، کورونا تو پھر نظر نہ آنے والا وائرس ہے، لاہوریئے تو بمبار طیاروں کو دیکھ کر بھی چھتوں پر چڑھ جانے کی تاریخ رکھتے ہیں سو انہوں نے تمام ایس او پیز ہوا میں اڑا دیئے، کیسز بھی بڑھتے چلے گئے اور اموات بھی لیکن زندہ دلان لاہور کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ ایک ہال روڈ پر ہی ان کا جنوں ایسا نظر آتا تھا کہ جیسے وہ میلے کے دنوں میں بازار آئے ہوئے ہیں ڈاکٹروں نے دہائی دینا شروع کی کہ لاہور سب سے زیادہ کرونا کی زد میں ہے، خدارا اسے بچا لو، خود محکمہ صحت نے اپنے معمولی سروے کے بعد یہ رپورٹ جاری کی کہ لاہور میں سات لاکھ سے زائد افراد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں مگر حکومت ٹس سے مس ہوئی اور نہ لاہوریوں نے کوئی اہمیت دی۔

محلے کے محلے کورونا کیسز کی زد میں آ گئے لیکن سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا۔ پنجاب کا دارالحکومت، علم و ادب کا گہوارہ، جس کے بارے میں پطرس بخاری نے کہا تھا کہ لاہور دساور کا شہر ہے کورونا کا شہر بنتا چلا گیا تاہم لاہوریوں کی حس مزاح تب بھی ختم نہ ہوئی ایک دوسرے کو یہی کہتے رہے ”پاء جی اے کورونا دا ڈرامہ کہاں مکے گا۔“ ویسے بھی جب حکومت کی طرف سے یہ کہا جائے کہ کورونا سے گھبرانا نہیں، تو لاہوریئے جو پہلے ہی موت کو سامنے دیکھ کر بھی نہیں گھبراتے، بھلا کیوں گھروں میں بیٹھ جاتے۔ کیوں ماسک پہنتے، کیوں سماجی فاصلہ رکھتے؟انہوں نے اپنی خونہ چھوڑی آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ لاہور کے 61علاقے سیل ہونے کے بعد باقی لاہور کے رہنے والے احتیاطی تدابیر پر عمل شروع کر دیں گے، نہیں جی نہیں، آج بھی آپ ان علاقوں میں جائیں تو آپ کو کہیں بھی احتیاطی تدابیر کا نام و نشان نہیں ملے گا، ہر طرف وہی نفسا نفسی، وہی بے احتیاطی جس نے پہلے ہی لاہور کو کورونا گڑھ بنا دیا ہے، جاری و ساری نظر آئے گی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ تو بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ہر کوئی ان کے بیان کی مذمت کر رہا ہے۔ لاہوریوں کی علم دوستی، دانشمندی اور عقل و فہم کے ڈونگر ے برسائے جا رہے ہیں جو بڑی اچھی بات ہے، لیکن زندہ دلان لاہور اگر مائنڈ نہ کریں تو ان سے یہ سوال پوچھا جائے کہ آخر کیا وجہ ہے، پورے ملک میں لاہور کرونا کے حوالے سے آگے نکل گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں کورونا کا لوکل پھیلاؤ ہواہے، یعنی لاہوریوں نے ایک دوسرے میں کورونا پھیلایا ہے، پھر یہ بات تو گزشتہ ایک ماہ سے کہی جا رہی ہے کہ لاہور میں کورونا کے کیسز تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں پورا میڈیا چیخ چیخ کر یہ بتاتا رہا اور ساتھ ہی ماسک پہننے، سوشل فاصلہ رکھنے اور بھیڑ سے بچنے کی دہائی بھی دیتا رہا، لاہوریوں نے کسی بات پر کان نہیں دھرے، پنجاب کا دارالحکومت صوبے میں سے زیادہ پڑھی لکھی آبادی کا شہر اگر صوبے کے لئے اچھی مثال کی بجائے بری مثال قائم کرتا ہے تو زندہ دلان کو ہوا میں تو تمغہ حسن کارکردگی نہیں دیا جا سکتا۔ لاہور وہ شہر ہے کہ جہاں سے پورے صوبے ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں لوگ سفر کرتے ہیں اگر لاہور کورونا کا گڑھ ہے تو سمجھو پورا لاہور اس کی زد میں آ گیا ہے میں اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ کسی عوامی نمائندے کو پبلک فورم پر آ کر کسی علاقے کے مکینوں کی اجتماعی توہین کا کوئی حق نہیں، تاہم زندہ دلان لاہور اگر مائنڈ نہ کریں تو کچھ اپنی اداؤں پر بھی غور کر لیں تاکہ لوگ کچھ عرض کریں تو شکایت نہ ہو۔

مزید :

رائے -کالم -