لداخ میں انڈین آرمی کی تازہ ہلاکتیں

لداخ میں انڈین آرمی کی تازہ ہلاکتیں
 لداخ میں انڈین آرمی کی تازہ ہلاکتیں

  

کل بھارتی ہندو عوام پر یہ خبر شائد بجلی بن کر گری ہو گی کہ لداخ میں اس کے 20فوجی، چینی فوجیوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ اس خبر میں کسی جھوٹ کا شائبہ اس لئے نہیں ہو سکتا کہ اسے تقریباً سارے ہی انڈین نیوز چینلوں نے بطور بریکنگ نیوز کے دکھایا ہے۔ اس سے چند گھنٹے پہلے انڈین میڈیا نے اپنے ایک کرنل اور دو جوانوں کی ہلاکت کی خبر دی تھی۔ سرگ باشی کرنل سنتوش کا تعلق انڈین آرمی کے ایک مشہور انفنٹری گروپ (بہار رجمنٹ) سے تھا۔ برسبیل تذکرہ لفظ ”بہار“ کا تعلق موسم بہار (Spring) وغیرہ سے نہیں کہ اس میں حرف ب کے نیچے زیر ہے، زبر نہیں۔ یعنی یہ لفظ بِہار ہے، بَہار نہیں۔ اور صوبہ بِہار انڈیا کے صوبجات متحدہ آگرہ و اودھ کا حصہ ہے۔ انڈین آرمی کی ایک انفنٹری رجمنٹ کی بیشتر نفری چونکہ صوبہ Biharسے لی جاتی ہے، اس لئے اس رجمنٹ کا نام بِہار رجمنٹ ہے…… اسی رجمنٹ کے ایک سپوت کو کل لداخ میں چینیوں نے مار ڈالا تھا۔

ان تین فوجیوں کی اموات کے بعد یہ خبر آئی کہ دراصل یہ تعداد 3نہیں 20ہے کیونکہ 17فوجی جو چینیوں کے ساتھ جسمانی جھڑپ میں مارے گئے تھے وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ لداخ میں رات کو جب درجہ ء حرارت بہت نیچے گر گیا اور ان زخمیوں کا کوئی پرسانِ حال نہ ہوا تو یہ سارے کے سارے 17جوان ٹھٹھر کر مر گئے۔ اس کے علاوہ اسی شب بہت سے انڈین ٹروپس نے جان بچانے کے لئے دریائے گلوان میں چھلانگیں لگا دیں۔ ان کی تعداد اور ان کے انجام کی خبریں تاحال کسی نیوز چینل پر نہیں آئیں۔

یہ انتہائی وحشت ناک خبر سن کر بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے گھر پر اپنے چیف آف ڈیفنس سٹاف (جنرل بپن راوت) کو طلب کیا۔ ان کے ساتھ تینوں سروس چیفس بھی تھے، اس سانحے پر بحث و مباحثہ ہوا، آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کی باتیں ہوئیں اور محفل برخاست ہوگئی کیونکہ نریندر مودی اپنے وزیر دفاع سے پرسشِ احوال کے لئے بے تاب تھے۔ راج ناتھ سنگھ نے نجانے ان کو کیا بتایا کہ مودی نے چپ سادھ لی اور اتنا فرمایا: ”سنا ہے چینیوں کا جانی نقصان بھی ہوا ہے؟……“ وزیر داخلہ کا جواب تھا کہ چین یہ کہہ رہا ہے کہ: ”پہل ہم نے کی ہے۔ ہمی نے رات کے اندھیرے میں چین کی پٹرولنگ پارٹی کو انٹرسیپٹ کیا اور اس کے بعد جو ہوا وہ بھی آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ چین کا نقصان البتہ صدر شی کو معلوم ہو گا!“

جب یہ خبریں آ رہی تھیں تو میں نے انڈین میڈیا کی بغور مانیٹرنگ شروع کر دی۔ NDTV میں کرنل (ر) اجے شکلا بتا رہا تھا: ”چین یہ دہائی دے رہا ہے کہ پہلی ہماری طرف سے ہوئی ہے وگرنہ چینی حکومت اور فوج (PLA) تو اس سٹینڈ آف کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کر رہی تھی“۔…… وہ تو خیریت گزری کہ کسی انڈین چینل نے جنرل جی ڈی بخشی سے رابطہ نہ کیا کہ جنہوں نے پچھلے دنوں لداخ اور سکم میں انڈین آرمی کی شکست کی خبر سن کر اپنی ایک مونچھ (3انچ لمبی اور ایک انچ چوڑی) کتر کر پھینک دی تھی…… یہ خبر بھی آ رہی ہے کہ اپنے 20آدمیوں کی ہلاکت اور کافی تعداد کے لاپتہ ہونے کی خبر سن کر انہوں نے نہ صرف کہ دوسری مونچھ پر بھی قینچی پھیر دی ہے بلکہ سر پر زیرو کی مشین پھیر کر ”فارغ البال“ ہو چکے ہیں …… بھگوان جانے اس خبر میں کہاں تک صداقت ہے!

انڈیا کی 13لاکھ آرمی میں لڑنے کا حوصلہ باقی رکھنے والی فوج کی اکثریت سکھ اور گورکھا ٹروپس پر مشتمل ہے۔ اگر آج ان دونوں قوموں کو انڈین آرمی سے نکال دیا جائے تو باقی ”کچرے“ کو ٹھکانے لگانے میں کسی ہمسائے کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ انڈین آرمی میں اب تک جو مسلمان آفیسرز سینئر رینک تک پہنچے ان میں سے ایک تو لیفٹیننٹ جنرل حسنین ہیں اور دوسرے میجر جنرل کریم ہیں جن کی فوجی ملازمت کا بیشتر عرصہ انڈین ڈیفنس ریویو (IDR) کی ادارت میں گزرا اور جنرل حسنین اگرچہ کشمیر میں کور کمانڈر رہے لیکن ان کو معلوم ہے کہ کشمیر میں 9لاکھ فوج میں اکثریت کن عناصر کی ہے۔ 1965ء اور 1999ء کی پاک بھارت جنگوں میں ہندو جنرل جے این چودھری اور ہندو جنرل مالک کی ”حربی کارکردگی“ ہمارے سامنے ہے۔……اور1971ء کی جنگ میں تو انڈین آرمی کی کمانڈ ایک پارسی (جنرل سام مانک شا) کے ہاتھ میں تھی۔

قارئینِ گرامی! درج بالا خبریں تو آپ نے انڈین اور پاکستانی میڈیا پر دیکھی اور سنی ہوں گی۔ لیکن آپ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ:

1۔ اس انڈو۔ چائنا ملٹری جھڑپ پر پاکستان کا ردِ عمل کیا ہو گا؟

2۔کیا انڈیا، ایل او سی (LOC) یا ورکنگ باؤنڈری پر اپنی ”چھیڑ چھاڑ“ کے حجم میں کوئی اضافہ بھی کر سکتا ہے یا صورتِ حال جوں کی توں رہے گی؟

3۔کل (16جون 2020ء) آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں پاکستان ملٹری کے جو کرتا دھرتا شریک گفتگو ہوئے (چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف، نیوی چیف، ائر فورس چیف) اس میں کن کن آپریشنل (یا نان آپریشنل) امور پر تبادلہ خیال کیا گیا؟

4۔اس سے پہلے سروسز چیفس کی اکٹھی ملاقاتیں، جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹر میں ہوتی تھیں لیکن اس بار یہ اجلاس ISIہیڈ کواٹر میں کیوں ہوا؟

5۔کیا جنرل فیض حمید کو جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹر میں طلب نہیں کیا جا سکتا تھا؟ وہ کیا ثبوت اور کیا شواہد تھے جو آئی ایس آئی چیف نے سروسز چیفس (اور چیئرمین JCSCکو دکھائے اور بریفنگ دی؟

6۔بہت سے پاکستانی اور بھارتی مبصر یہ کہتے تھے کہ انڈیا اور چین میں جنگ نہیں ہوگی اور مذاکرات کے بعد ”امن“ قائم ہو جائے گا۔ تو کیا وجہ ہے کہ اب یہ کشیدگی بڑھتی چلی جاتی ہے؟ اور چین لداخ اور سکم میں اپنے موقف پر کیوں ڈٹا ہوا ہے؟

7۔اگر کل کلاں جنگ (یا کشیدگی) کا دائرہ پھیلتا ہے تو کیا امریکہ (ہمیشہ کی طرح) انڈیا کی مدد کو آئے گا یا اس بار تیسری عالمی جنگ وغیرہ کی شروعات کرنے سے گھبرائے گا؟

8۔کیا روس، آنے والی جنگ میں چین کی طرف داری کرے گا؟

9۔امریکہ نے بحرالکاہل میں اپنے تین طیارہ بردار بیڑوں کو کیوں اکٹھا کر لیا ہے؟ دو بیڑے بحرالکاہل کے مغربی سواحل پر سطحِ آب پر موجود ہیں اور تیسرا بیڑا مشرقی ساحل پر (لاس اینجلز کے نزدیک) پہنچا دیا گیا ہے۔ کیا اس تیسرے بیڑے کی موجودگی،شمالی کوریا کے خلاف کسی ممکنہ حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ ان تینوں طیارہ بردار بحری بیڑوں پرہر بحری جہاز (شپ) پر 60،60 ہوائی جہاز موجود ہیں۔ان کے جواب میں چین کے پاس فی الحال دو طیارہ بردار ہیں لیکن امریکی طیارہ برداروں پر موجود طیاروں کے آپریشنز کو کاؤنٹر کرنے کے لئے چین نے حال ہی میں کئی جدید طیارہ شکن میزائلوں کے تجربات بھی کئے ہیں اور علاوہ ازیں اینٹی شپ میزائلوں کی ایک جدید کھیپ بھی چین کے ساحلی علاقوں میں موجود ہے۔ کیا یہ سب کچھ ساؤتھ چائنا سی (South China Sea) میں امریکہ کے ساتھ بحری مڈ بھیڑ کا پیش خیمہ ہے؟

10۔ کیا پاکستان کی عسکری لیڈرشپ آنے والی پاک بھارت جنگ میں اپنی تینوں سروسوں (آرمی، نیوی، ائر فورس) کی مشترکہ آپریشنل سٹرٹیجی پر غور و خوض کرنے کے لئے ISI ہیڈکوارٹر کے اجلاس میں شریک ہو رہی ہے؟

درجِ بالا دس سوالات اضطراری طور پر میرے احاطہ ء فکر میں آ رہے ہیں۔ اس فکر کی اساس ملکی اور بین الاقوامی خبریں ہیں۔ عین ممکن ہے ہم جس خبر کے کوئی معانی نکال رہے ہوں، متحارب فریق بالکل نہ نکال رہا ہو۔ ممکن ہے اگر انڈین چھیڑ چھاڑ آئندہ ایام میں جاری رہی تو آنے والا موسم اس علاقے میں انڈین ٹروپس کے لئے بہت ناسازگار ہو۔ انڈیا نے جب سے درۂ قراقرم پر قبضہ کیا ہے اور سیاچن گلیشیئر کی غالب بلندیوں (Heights) پر آکر اگلوز میں خیمہ زن ہوا ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کسی لارج سکیل گرم آپریشن کے لئے تیاریاں کر رہا ہے۔ انڈیا کے لداخی ٹروپس، PLA کے تبتی ٹروپس کے مقابل صف آراء ہونے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ انڈین آرمی کے ماؤنٹین ڈویژن، چین کے کوہستانی ٹروپس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔PLA کے لاکھوں ٹروپس، سنووار فیئر (Snow Warfare) میں انڈین ٹروپس پر صریح سبقت رکھتے ہیں۔ چار پانچ برس پہلے انڈیا نے ایک نئی ماؤنٹین کور(تین ڈویژن) کھڑی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ کور ابھی معرضِ قیام میں ہے۔ اس کے لئے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں اور دوسرے آلاتِ جنگ (Equipment) کی خرید کا سلسلہ جاری ہے۔ کورونا وائرس نے پاکستان کو ہی نہیں، انڈیا کو بھی مالی اعتبار سے شدید متاثر کیا ہے اور کررہا ہے۔

ایسے میں ایک کوہستانی کور (Corps) کا قیام کارے دارد ہے۔ اور ویسے بھی انڈین آرمی کے اعلیٰ عہدیداروں نے لداخ اور اقصائے چین کی ٹیرین (Terrain) کا سروے کرنے کے بعد سفارش کی تھی کہ جب تک زیرِ قیام کور کی نقل و حرکت کے لئے روڈ موبلٹی کا اہتمام نہیں کیا جاتا، صرف ہوائی جہازوں کے ذریعے 15000فٹ کی بلندی پر حربی آپریشنوں کو بروئے عمل لانا ممکن نہیں ہوگا۔ انڈین آرمی کی غالب اکثریت میدانی علاقوں اور گرم آب و ہوا کی خوگر ہے اور اسے پاکستان سے جنگ لڑنے کی تربیت دی جاتی ہے، چین سے نہیں …… آنے والے دنوں میں چین یہ دیکھے گا کہ لداخ (دولت بیگ اولدی اور قراقرم) میں انڈیا نے جو فوجی مستقر (فضائی اور زمینی) تعمیر کر رکھے ہیں یا معرضِ تعمیر میں ہیں، ان سے CPEC کو کیا خطرات لاحق ہیں؟…… اور یہ سوال ایک بہت اہم سوال ہے!

مزید :

رائے -کالم -