اقتصادی رابطہ کمیٹی، انسداد کورونا، ٹڈی دل سمیت متعدد اداروں کیلئے تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس منظور

  اقتصادی رابطہ کمیٹی، انسداد کورونا، ٹڈی دل سمیت متعدد اداروں کیلئے تکنیکی ...

  

اسلام آباد(آن لائن) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ا ین ڈی ایم اے کو 7ارب 9کروڑ روپے سے زائد اور پنجاب میں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے 100ملین روپے سمیت متعدد اداروں کیلئے تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدی۔ وزیراعظم کے مشیر خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کااجلاس بدھ کوکیبنٹ ڈویژن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کئی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ جس کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کیلئے حکومت کی جانب سے ضمانت شدہ قرضوں کیخلاف مارک اپ کی مد میں فرائض کی انجام دہی کیلئے 3.2 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ پاکستان اکیڈمی برائے دیہی ترقی (پی اے آر ڈی) پشاور کیلئے 25,206,953روپے کی رواں مالی سال کیلئے منظوری دی گئی۔1300ملین روپے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کیلئے منظور کئے گئے، اسی طرح اسلام آباد میں تعینات پاکستان رینجرز (پنجاب) کے اہلکاروں کیلئے داخلی سکیورٹی ڈیوٹی الاؤنس کی ادائیگی کیلئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو 235 ارب روپے کی منظوری دی گئی جبکہ کویڈ 19کے حوالے سے میڈیا مہم کے اخراجات پورا کرنے کیلئے وزارت اطلاعات ونشریات کیلئے 500ارب روپے، 100ملین روپے پنجاب میں ٹڈی دل کے کنٹرول کیلئے سازوسامان کے حصول کیلئے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی (این ڈی ایم ایف) کیلئے منظور کئے گئے جبکہ این ڈی ایم اے کیلئے 7.947ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ کوورنا وائرس کی روک تھام کیلئے سازوسامان کے حصول اور فنڈز کی منتقلی کے حوالے سے چین میں پاکستان فارن مشن کے ذریعے ہنگامی بنیادوں پر سازوسامان حاصل کیا جاسکے۔ وزارت داخلہ کی درخواست پر سول آرمڈ فورسز کی صلاحیتوں کی ترقی کیلئے 4.5ارب کی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے مختلف اخراجات کی مد میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کیلئے 80ملین روپے منظور کئے،جبکہ 8000فٹ اوراس سے زائد بلندی پر واقعہ مختلف پوسٹوں میں ہیڈکوارٹرز فرنٹیئر کور کے پی (شمال) کی جانب سے استعمال ہو نیوالے مٹی کے تیل کی خریداری کیلئے 100ملین روپے منظور کئے گئے۔ نجکاری ڈویژن کیلئے ملازمین سے متعلق ملازمین کے اخراجات کیلئے 8.093ملین روپے کی منظوری دی گئی۔ افغان طلباء کو سکالر شپس دینے کیلئے وزارت وفاقی تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کیلئے ٹی ایس جی ایس کی مد میں 1192.325ملین اور 358.6ملین روپے کی دو رقوم کی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے زلزلہ تعمیر نو و بحالی اتھارٹی (ایرا)کیلئے اس کے ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ سے ہٹ کر 30.807ارب روپے کے واجب الادا قرضہ جات کیلئے ویلیو ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھاری رقم بھی منظور کی گئی،ای سی سی کی جانب سے قبل ازیں قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات پر دو چینی قرضہ جات کو حکومتی قرضوں میں منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ ا ی سی سی نے پاکستان مشین ٹول فیکٹری کو سٹرٹیجک پلانز ڈویژن کے حوالے کرنے کی بھی منظوری دی،پی ایم ایف ٹی کو فعال بنانے کی غرض سے ایسپی ڈی کو قرضہ کی مد میں پانچ سو ملین روپے فراہم کئے جائینگے،وفاقی حکومت پی ایم ٹی ایف کا انتظامی کنٹرول ایس پی ڈی کو منتقل ہونے تک تمام قرضہ جات ادا کرے گی، علاوہ ازیں ای سی سی نے روزگار کی فر ا ہمی اور مزدوروں کو بیروزگار ہونے سے بچانے کیلئے سٹیٹ بینک پاکستان کی ری فنانس سکیم کیلئے ”رسک شیئرنگ فیسلیٹی“ کی بھی منظوری دی، اس سکیم کے تحت ستمبر 2020ء تک کاروبار چلانے کیلئے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کی جاتی ہے، اس سے قبل اس کی آخری تاریخ تیس جون 2020ء تھی، ایس ایم ای شعبہ کیلئے نقصان کی مد میں موجودہ شرح کو چالیس فیصد سے بڑھا کر ساٹھ فیصد کردیاگیا تاکہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کو فروغ دیا جاسکے نئی تبدیلیوں کے تحت قرضہ کا حجم 800 ملین روپے تک پہنچ گیا، جسے سکیم کے تحت فا ئدے کیلئے استعمال کیاجاسکتا ہے اس سے قبل حجم کی حد 2ارب روپے تھی۔

ای سی سی

مزید :

صفحہ اول -