اوگرا پٹرول بحران کی ذمہ دار، ملک کا بیڑا غرق کر دیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

        اوگرا پٹرول بحران کی ذمہ دار، ملک کا بیڑا غرق کر دیا، چیف جسٹس لاہور ...

  

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کیخلاف دائردرخواست پرچیئرپرسن اوگرا کی عدالت میں عدم پیشی پرسخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے قراردیا کہ اوگرا والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے،اوگرا والوں کی وجہ سے ملک میں پٹرول کا بحران ہے،اس محکمہ نے ملک کابیڑا غرق کیا ہوا ہے،چیئرمین اوگرا کا عہدہ انجوائے کرنے کیلئے نہیں، اوگرا چیئرمین کام نہیں کر سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں، جب ادارے کام نہ کریں تو عدالتوں کو نوٹس لینا پڑتا ہے، چیئرپرسن اوگرا کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کرتے ہیں،اگر وہ کام نہیں کر سکتیں تو استعفیٰ دیدیں،اگر یہ بحران کسی ایمرجنسی میں آ جائے اور ایسی ایمرجنسی جس کا تعلق ڈیفنس سے ہو تو ملک تو ایک دن میں کولیپس کر جائیگا۔عدالت نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سمیت دیگرمتعلقہ افسروں کو طلب کرتے ہوئے مزیدسماعت 30 جون پر ملتوی کردی۔کیس کی سماعت شروع ہوئی توڈپٹی اٹارنی جنرل،صوبائی و وفاقی حکومت کے افسران سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسر عدالت میں پیش ہوئے،فاضل جج نے دوران سماعت کہا کہ اگر چیئرپرسن اوگرا اپنی عمر کی وجہ کام نہیں کر سکتی تو کام چھوڑ دیں،یہ مزے لینے کی سیٹ نہیں،اس خاتون کو زرا احساس نہیں ہے،فاضل جج نے استفسار کیا کہ کون ہے یہ خاتون،کیا یہ بیوروکریٹ ہیں؟سوئی گیس کا بیڑا غرق کرنے کے بعد انہیں اب پٹرولیم میں لگا دیا گیا ہے،جب ایگزیکٹو اپنی ڈیوٹی کرنے میں ناکام ہو جائے تو سوسائٹی تباہ ہو جاتی ہے،فاضل جج نے کہا کہ جنہوں نے پٹرول کی قلت کی ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرائیں گے،ذمے داروں کو گرفتار کر کہ جیل ڈالیں گے، سیکرٹری پٹرولیم کہاں ہیں،روسٹرم پر آئیں اور بتائیں آپ کی کیاذمہ داریاں ہیں،فاضل جج نے سیکرٹری پٹرولیم سے استفسار کیا کہ چیئرپرسن اوگرا اگر کام ٹھیک نہ کرے تو اسے ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہے؟جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ کیبنٹ کی منظوری کے بعد عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے،فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے چیرپرسن اوگرا کو ہٹانے کے حوالے سے کوئی سمری کیبنٹ کو بھیجی؟جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ کسی نے کوئی سمری نہیں بھیجی،عدالت نے استفسار کیا کہ پٹرول کی قلت بارے معاملے وزیر اعظم عمران خان کے نوٹس میں کب لایا گیا؟پاکستان میں کتنی لائنسنس ہولڈر کمپنیز ہیں،سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کر کہ طریقہ کار طے کرتے ہیں،فاضل جج نے استفسار کیا کہ کس تاریخ کو پٹرول کی قلت ہوئی مجھے تاریخ بتائیں،جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ یکم جون سے پٹرول کی قلت شروع ہوئی اور ہم اس معاملے کو مارچ سے دیکھ رہے تھے،فاضل جج نے کہا کہ اپریل اور مئی میں آپ نے کیا ایکشن لیے اور کیا کاروائی ہوئی؟سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ ایکشن لینا اوگرا کا کام ہے ہم ایکشن نہیں لے سکتے،جس پر فاضل جج نے کہا کہ لگ رہا ہے اوگرا چیئرپرسن بڑی چیہتی ہیں،اگر چیرپرسن اوگرا کیخلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی تو پھر وہ ضرور کسی کی قریبی ہوں گی،ہم پارلیمنٹ کے معاملے میں مداخلت نہیں کر رہے،فاضل جج نے کہا کہ اوگرا کی چیئرپرسن خاتون کی پاؤں پر مہندی لگی ہوئی ہے جو وہ عدالت نہیں آئیں،وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے جو تحریری جواب دیا ہے وہ مبہم ہے،دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے خلاف سخت ہدیات جاری کیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ ہدایات کیا تھیں جو وزیر اعظم نے جاری کیں؟اس جواب میں صرف اس حد تک ہی لکھا ہے کہ ہدایات جاری کی ہیں،وزیراعظم نے جو میٹنگ کی اس کے منٹس کہاں ہیں؟سرکاری کام زبانی کلامی نہیں ہوتے،جن کو ٹیلی فون کیا گیا اس کا بھی ریکارڈ موجود ہوتا ہے،تمام دستاویزات جواب کیساتھ کیوں نہیں لگائے گئے؟شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار مروا دیتے ہیں،پرنسپل سیکرٹر ی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن رہے ہیں،پٹرول کی صورتحال آج بھی ٹھیک نہیں ہوئی،وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے جواب سے عدالت مطمئن نہیں،ہم اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن بھی بنا سکتے ہیں اور پھر اسکی رپورٹ کی روشنی میں کاروائی ہو گی،میری عمر بھی 55سال سے زائد لیکن میرے سمیت میرا سارا سٹاف کام کر رہا ہے، جو لوگ کام نہیں کر سکتے تو خدارا وہ چھوڑ دیں اور کسی قابل کو آنے دیں،فاضل جج نے کہا کہ آئندہ سماعت پروزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،فاضل جج نے وفاقی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر کوئی بلیک میں پٹرول بیچ رہا ہے تو اسکے خلاف کیا کاروائی ہو سکتی ہے؟جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی سمیت دیگر دفعات کے تحت کروائی ہو سکتی ہے،دوران سماعت آئی جی پنجاب پولیس نے عدالت کوبتایا کہ پیٹرول شارٹ کرنے اور زخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں،فا ضل جج نے کہا کہ یہ بتائیں اگر پیٹرول بلیک میں فروخت ہو رہا ہے تو اس پر کون کون سے چارجز لگتے ہیں،جب پیٹرول بلیک میں فروخت ہو رہا تھا تو پنجاب حکومت کے کس ادار ے نے کیا کارروائی کی،کیا کوئی ایسا قانون ہے جس کے تحت صوبائی انتظامیہ کے عہدے دار کارروائی کرسکیں،آئی جی پنجاب نے کہا کہ پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت 16 ایف ائی ار درج کی ہیں،جس پر فاضل جج نے آئی جی پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں پولیس نے جوکاروائی کی ہے وہ بہت ہے؟آپ کا مطلب ہے کہ صرف دو چار شہروں میں حالات خراب ہیں باقی پورے ملک میں پٹرول ٹھیک قیمت پر فروخت ہو رہا ہے،آئی جی پنجاب اور ہوم سیکرٹری پنجاب کچھ بتا نہیں پا رہے،حکومت اور ریگولیٹری اتھارٹی کی ذمہ داری ہے کہ معاملات حل کرے،فاضل جج نے استفسار کیا کہ سیکرٹری استیبلشمنٹ کیوں نہیں آئے؟جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ کورونا کی وجہ سے نہیں عدالت میں پیش نہیں ہو پائے،جس پر فاضل جج نے کہا کہ کورونا کے خدشات تو ہمیں بھی لاحق ہیں مگر ہم تو کام کر رہے ہیں،عوام کے پیسوں پر مراعات لیتے ہیں کام نہیں کر سکتے توعہد ہ چھوار دیں،عدالت نے مذکورہ بالاریمارکس کیساتھ کیس کی مزید سماعت 30جون پر ملتوی کردی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ اول -