جوانوں کی قربانی رائیگا ں نہیں جائیگی، مودی، راہو ل کی بھارتی وزیراعظم پر شدید تنقید

  جوانوں کی قربانی رائیگا ں نہیں جائیگی، مودی، راہو ل کی بھارتی وزیراعظم پر ...

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) لداخ میں چین کے ہاتھوں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی مودی سرکار پر برس پڑے۔ جبکہ بھارتی سرکار نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، مرنے والوں میں ایک کرنل، تین نائب صوبیدار، تین حوالدار، ایک نائیک اور 12 سپاہی شامل ہیں۔ جبکہ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی ہلاکت پریشان کن اور تکلیف دہ نقصان ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے لکھا کہ وزیراعظم نریندرا مودی خاموش کیوں ہو؟ وہ کہاں چھپا بیٹھا ہے؟ بہت ہوگیا! ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کیا ہوا تھا۔دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے لداخ میں چینی فوج سے جھڑپ میں 20 فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہمارا ملک امن کا خواہاں ہے۔یاد رہے کہ یہ 15 جون کو وادی گلوان میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر ہونے والی جھڑپ پر انڈین وزیراعظم کا باقاعدہ طور پر پہلا بیان ہے۔ٹی وی پر اپنی تقریر میں نریندر مودی نے کہا کہ قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے جوانوں کی قربائی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہمارے لیے ملک کی سالمیت اور خودمختاری اور اتحاد سب سے اہم ہے۔ انڈیا امن چاہتا ہے لیکن اگر اسے اشتعال دلایا گیا تو وہ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شااور 15 ریاستوں اور مرکزی علاقوں کے وزرائے اعلیٰ نے وادی گلوان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔انڈین وزیراعظم کے دفتر نے اس تقریر سے قبل اس معاملے پر جمعے کو کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔لاک ڈاؤن کے باوجود انڈیا میں چین کے خلاف علامتی مظاہرے کئے گئے۔ بھارتی خبر رساں ادرے کے مطابق بھارت کے مختلف شہروں میں چند لوگوں نے مل کر لداخ کی وادی گالوان میں انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان مہلک تصادم اور کم از کم 20 بھارتی فوجیوں کے مارے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا۔انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت میں ایک چین مخالف مظاہرہ کیا گیا جس میں چینی صدر کی تصاویر نذر آتش کیا گیا اور چین مخالف نعرے لگائے گئے۔مقامی گروپ تہذیب بچاؤ فورم کے اراکین نے اس میں شرکت کی اور انھوں نے بھیروے رنگ کے لباس پہن رکھے تھے۔انھوں نے چین کے خلاف اور بھارت کے حق میں نعرے لگائے اور انھوں نے چین میں بنی مصنوعات کے بائیکاٹ کے پوسٹرز بھی اٹھا رکھے تھے۔اسی طرح ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم 'مددگار پریوار' تنظیم کے اراکین نے چین کے خلاف مظاہرہ کیا۔اسی طرح بدھ کے روز دہلی کے تین مورتی پولیس سٹیشن کے پاس چین کے خلاف علامتی مظاہرے کی کال دی گئی ہے۔ اور یہ کال ہندو سخت گیر تنظیم سودیشی جاگرن منچ کی جانب سے دی گئی ہے۔

مودی

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لا ئن)امریکہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے بھارت اور چین کو ثالثی کی پیشکش کر دی،ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ہلاکتوں پر انتہائی تشویش ہے، دوبڑوں کے درمیان اختلافات خطے کیلئے انتہائی خطرناک ہے،ایسے واقعات مسئلے کا حل نہیں، دونوں ممالک کی قیادت کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے۔امریکی میڈیا کے مطاق محکمہ خارجہ کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اور بھارت کی افواج کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والے مہلک ترین تصادم میں 20 سے زائد بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ پر امن طریقوں سے اپنے اختلافات کو حل کریں۔ بھارت اور چین دونوں نے کشیدگی کو کم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور ہم موجودہ صورت حال کے پر امن حل کی حمایت کرتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکی ترجمان نے کہا ہم ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے ثالثی کی خواہش کا اظہار کیا ہے،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین اور بھارت خطے کے بڑے ممالک ہیں،دو بڑوں کے درمیان کشیدگی خطے کیلئے انتہائی خطرناک ہے،فوجی ہلاکتوں پر انتہائی تشویش ہے یہ مسئلے کا حل نہیں ہے،دونوں بڑوں کو جتنا جلدی ممکن ہو سکے مذاکرات کی میزپر آنا چاہیے تا کہ مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔

امریکہ، ثالثی

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ایک روز قبل بھارتی فوجیوں کو مارنے کے بعد چینی وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصب کو ٹیلیفون کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت چین کے علاقائی خودمختاری کے عزم کو ہلکا نہ لے اور موجودہ صورتحال کو غلط رخ نہ دے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزیرخارجہ وانگ ای اور بھارتی وزیرخارجہ سبرامنیئم جے شنکر میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ ٹیلیفونک رابطے کے دوران چینی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت گلوان واقعات کی مکمل تحقیقات کرائے اور واقعات کے ذمہ داروں کو سخت سزا دے۔انہوں نے کہا کہ بھارت سرحدی خلاف ورزیاں بند کرے اور دوبارہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہونے کو یقینی بنائے۔ بھارت چین کے علاقائی خودمختاری کے عزم کو ہلکا نہ لے اور موجودہ صورتحال کو غلط رخ نہ دے۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق بھارتی وزیرخارجہ نے سرحدی تنازعات پر بات چیت اور پْرامن حل کا کہا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ وادی گلوان ہمیشہ سے چین کا حصہ ہے دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔واضح رہے کہ چینی اور بھارتی فوج کے درمیان لداخ میں کشیدگی برقرار ہے اور مسلسل جھڑپوں کے واقعات بھی ہورہے ہیں۔

چینی وزیر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -