چین کا مؤقف اصولی، بھارتی ہٹ دھرمی سے معاملہ خونی تصادم تک جا پہنچا: شاہ محمود قریشی

  چین کا مؤقف اصولی، بھارتی ہٹ دھرمی سے معاملہ خونی تصادم تک جا پہنچا: شاہ ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین اور بھارت کی سرحدی تنازع پر کہا ہے کہ چین کا مؤقف اصولی ہے بھارت کی ہٹ دھرمی سے معاملہ خونی تصادم میں تبدیل ہوچکا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سابقہ خارجہ سیکریٹریز، سفراء، ماہرین بین الاقوامی تعلقات سمیت وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے شرکت کی، اجلاس میں افغان امن عمل،خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال سمیت اہم خارجہ پالیسی امور پرمشاورت کی گئی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کچھ دنوں سے چین اور بھارت کے مابین کشمکش بڑھتی دکھائی دے رہی تھی جس پر چین نے کوشش کی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے گفتگو کے ذریعے حل ہوجائے جس کیلئے اس کا مؤقف بھی اصولی ہے لیکن بھارت نے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی چین کی پیشکش کوسنجیدہ نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہی 9 مئی کو چپقلش ہوئی جو خونی تصادم میں تبدیل ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت کے درمیان خونی تصادم ایک غیر معمولی واقعہ ہے،کئی دہائیوں کے بعد یہ صورت دیکھنے میں آ رہی ہے اور یہ سب بھارت سرکار کی ہندتوا سوچ کا کیا دھرا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تبت اور لداخ کا 3500 کلومیٹر کا علاقہ بھارت اور چین کا متنازعہ سرحدی علاقہ ہے، اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے ہضم کر لے گا تو شاید یہ چین کیلئے قابل قبول نہ ہو۔وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے جبکہ بھارت کی ہندتوا پالیسیوں نے پورے خطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا دیا۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جب دنیا کورونا جیسی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے میں مصروف ہے وہاں بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80 لاکھ نہتے مظلوم کشمیریوں کو بدستور استبداد کا نشانہ بنا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے،جن میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے جبکہ بھارت کا یہ جارحانہ رویہ عالمی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ وزیر خارجہ نے، خارجہ پالیسی ترجیحات کے حوالے سے مشاورتی کونسل کے ممبران کی طرف سے دی جانے والی گراں قدر تجاویز پرشکریہ ادا کیا۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -