خیبر پختونخوا کا 861ارب روپے حجم کا بجٹ کل پیش کیا جائیگا

خیبر پختونخوا کا 861ارب روپے حجم کا بجٹ کل پیش کیا جائیگا

  

پشاور(آن لائن) خیبر پختونخوا کا آئندہ نئے مالی سال کے 861ارب روپے کے حجم کا بجٹ کل (جمعہ کو) پیش کیا جائے گا۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں او رپنشن میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ ٹیکسز میں ریلیف دیا گیا ہے جبکہ بعض ٹیکسز کادائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے آئندہ نئے مالی سا ل میں 83ترقیاتی منصوبوں کے لئے 11ارب 51کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے 14نئے منصوبوں کے لئے تین ارب 36کروڑ 18لاکھ 41ہزار روپے جبکہ 69جاری منصوبوں کے لئے آٹھ ارب 14کروڑ 91لاکھ 57ہزار روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کرونا باعث کے باعث صحت کابجٹ گیارہ کروڑ روپے سے بڑھا کر پندرہ ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے روڈ سیکٹر کا بجٹ 23ارب روپے سے بڑھا کر 25ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، صحت انصاف کارڈ کادائرہ صوبے بھر میں پھیلانے کے لئے سولہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نئے مالی سال کا صوبائی بجٹ صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا پیش کرینگے کرونا وائرس کے باعث بیشتر اراکین اسمبلی بجٹ سیشن میں شرکت نہیں کرینگے۔ بجٹ سیشن کے لئے صحافیوں، مہمانوں، اور عام افراد کے اسمبلی میں داخلے پرپابندی عائد کی گئی ہے۔ بندوبستی اضلاع کے لئے 708ارب روپے جبکہ قبائلی اضلاع کے لئے 153ارب روپے مختص کے گئے ہیں۔ قبائلی اضلاع کے لئے 72ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام جبکہ بندوبستی علاقوں کے لئے 193ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ نئے مالی سال کا بجٹ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 39ارب روپے کم ہے۔ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں صوبے کی آمدنی کا تخمینہ 900ارب روپے جبکہ اخراجات کاتخمینہ 855ارب روپے لگایا گیاتھا تاہم نظر ثانی شدہ تخمینہ جات میں صوبے کے بجٹ کا حجم 900سے کم ہو کر 646ارب روپے پر آ گیا آئندہ نئے مالی سال میں تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے 265ارب روپے، ہنگامی حالات کے لئے 98ارب روپے، پنشن کے لئے 86ارب روپے، سبسڈی پر 3ارب روپے، قرضوں کی ادائیگی کے لئے 24ارب روپے، کرونا سے نمٹنے کے لئے 39ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا

مزید :

صفحہ آخر -