عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

  عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔گرفتار ملزمان پر قتل سمیت قتل کی سازش تیار کرنے، قتل میں معاونت اور سہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے جبکہ 2 گرفتار ملزمان خالد شمیم اور محسن علی نے 7 جنوری 2016 کو مجسٹریٹ کے روبرو اعترافی بیانات ریکارڈ کرائے تاہم دوران ٹرائل اپنے بیانات سے مکر گئے۔تینوں ملزمان پر 2مئی 2018 کو فرد جرم عائد کی گئی جب کہ 4 ملزمان بانی متحدہ، محمد انور، افتخار حسین اور کاشف کامران کو اشتہاری قرار دیا گیا۔ دوران سماعت استغاثہ کے 29 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، کیس کے برطانوی چیف انویسٹی گیٹر نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا جب کہ مقتول کی اہلیہ سمیت دیگر برطانوی گواہوں نے ویڈیو لنک پر بیانات ریکارڈ کرائے جن میں پڑوسی عینی شاہدین، پولیس حکام، فارنزک ایکسپرٹ اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر شامل ہیں۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے برطانیہ کو دوران ٹرائل جرم ثابت ہونے کے باوجود ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعد کیس میں پیشرفت ہوئی اور برطانیہ نے باہمی قانونی معاونت کے تحت شواہد فراہم کیے۔ملزمان کی ٹریول ہسٹری، موبائل فون ڈیٹا، فنگر پرنٹس رپورٹ، مقتول کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بطور شواہد ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔ملزمان کی جانب سے عارف خان، محمد بخش مہر اور ذیشان چیمہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ایف آئی اے کی جانب سے خواجہ امتیاز بطور اسپیشل پراسیکیوٹر پیش ہوتے رہے اور برطانوی ماہر قانون ٹوبی کیڈ مین کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے سماعت مکمل ہونے پر 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج 18 جون کو سنایا جائے گا۔

عمران فاروق

مزید :

صفحہ آخر -