مالی بحران سے ٹیکسٹائل انڈسٹری معاشی طور پر تباہ ہوگئی،اکرم رانا

مالی بحران سے ٹیکسٹائل انڈسٹری معاشی طور پر تباہ ہوگئی،اکرم رانا

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کورونا وائرس سے مالی بحران ٹیکسٹائل انڈسٹری معاشی طور پر تباہ ہوگئی، لاک ڈاؤن کے اثرات سے کراچی کے ہمارے 10 ہزار سے زائد ٹیکسٹائل سے وابستہ ممبران مالی مشکلات کا شکار ہوگئے، جہاں 4 افراد کام کرتے تھے وہاں پر ایک فرد کام کر رہا ہے ان خیالات کا اظہار ٹیکسٹائل پلازہ اونرز ایسو سی ایشن کے صدر محمد اکرم رانانے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے مزید کہا کہ جو رمضان کا سیزن تھا وہ لاک ڈاؤن کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے۔ تاجروں کی پورے سال کی محنت رمضان کے سیزن میں کور ہوتی ہے۔ رمضان میں آخری چند روز میں کاروبار کرنے کا موقع ملا لیکن ٹارگٹ مکمل نہ ہو سکا انہوں نے مزید کہا کہ دکانداروں چھوٹے تاجروں کو حکومت کی جانب سے مالیاتی پیکچ میں ریلیف فراہم نہیں کیا گیا بجلی کے بل بھی پرانے تناسب سے ہی آرہے ہیں۔ بلڈنگ میں آگ لگنے کے باعث میٹر جل گئے تھے جو ابھی تک تبدیل نہیں کئے گئے ہیں پانی کے مسائل ہیں جس سے تاجر سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ ٹیکسٹائل پلازہ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری انتخاب علی راؤ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں تاجروں کو ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ ایکسپورٹ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ چھوٹے تاجروں کو بجٹ میں ریلیف فراہم کرنا چاہئے تھا کیوں کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے تاجر اور دکاندار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں تاجر ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -