صوبائی حکومت نے بھی بجٹ میں کراچی کو نظر انداز کر دیا: حافظ نعیم الرحمن

    صوبائی حکومت نے بھی بجٹ میں کراچی کو نظر انداز کر دیا: حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وفاق کی طرح صوبائی حکومت نے بھی بجٹ میں کراچی کو نظر انداز کردیا،سندھ حکومت واضح کرے کہ اس کے ترقیاتی بجٹ میں کراچی کا کتنا حصہ ہے؟،اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو وفاق سے ایک خطیر رقم ملتی ہے جس کا مقصد صوبے میں تعمیر و ترقی ہونا ہے مگر سندھ حکومت اس رقم کو بھی ضائع کردیتی ہے،صوبہ سندھ کو وفاقی گرانٹ اور دیگر ذرائع سے آمدنی کے بعد بھی خسارے کا بجٹ سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، قومی خزانے میں 70فیصدریونیوجمع کراتا ہے،کراچی ملک کی اقتصادی شہ رگ ہے اور جسے میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دے کر اس کی اہمیت اور ڈھائی کروڑ آبادی کی ضروریات کے لحاظ سے وسائل فراہم کیے جانے چاہیئے تاہم اسے ایک بار پھر نظر انداز کر دیا ہے۔ کراچی کے عوام برسوں سے مسلسل مسائل کا شکار ہیں۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے باوجود شہر میں کوئی باقاعدہ ٹرانسپورٹ کا نظام موجود نہیں۔ اورنج لائن،گرین لائین سمیت کئی ترقیاتی منصوبے مسلسل تعطل کا شکار ہیں۔ سندھ حکومت کراچی سے ریونیو تو بہت جمع کرلیتی ہے لیکن کراچی کو کچھ دینے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف صوبہ سندھ کے بجٹ میں کراچی کو نظر انداز کردیا گیا ہے تو دوسری طرف کورونا وائرس سے بچاؤ اور پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے بھی کراچی کے لیے سندھ حکومت کے کوئی خاطر خواہ اقدامات سامنے نظر نہیں آرہے ہیں۔ پورے ملک کے ایک تہائی اور سندھ کے 80فیصد کورونا کے مریض کراچی میں ہیں، کراچی پر صحت کے مسائل کے حوالے سے بہت دباؤ ہے، ہسپتالوں کی حالت ِ زار سب کے سامنے ہے،کورونا وائرس کی وبا کو تین ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا لیکن سندھ حکومت صحت کے نظام میں بہتری لانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اورآئندہ بھی بظاہر اس حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت دکھائی نہیں دیتی جو کہ انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔#

مزید :

صفحہ آخر -