ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اب سزا، جرمانہ ہوگا، سندھ حکومت نے مجھ سے مشاورت کئے بغیر لاک ڈاؤن کیا، ملک کو بند کریں گے تو اڑھائی کروڑ دیہاڑی دار بھوک سے مرنے لگیں گے : عمرا ن خان

ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اب سزا، جرمانہ ہوگا، سندھ حکومت نے مجھ سے مشاورت ...

  

کراچی، اسلام آباد، لاہور، (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ والے علاقوں میں لاک ڈاون کررہے ہیں، ایس او پیز کی خلاف ورزی پرسزائیں اور جرمانے ہوں گے۔کراچی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ افراد دہاڑی دارہیں اگر کورونا کی وجہ سے ملک بند کردیں تو وہ بھوک سے مرنا شروع ہوجائیں گے، بھارت میں 34 فیصد لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت میں چلے گئے، امریکا اور بھارت میں کیسز میں اضافہ ہورہا ہے لیکن وہاں لاک ڈاؤن نرم کردیا گیا ہے، پاکستان میں لوگ کورونا وائرس کو سنجیدہ ہی نہیں لے رہے، اس لئے کورونا وبا کے پھیلاؤ والے علاقوں میں لاک ڈاون کررہے ہیں،اب کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سزائیں اور جرمانے ہوں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افسوس کورونا کے حوالے سے سیاست کی گئی، این سی سی میٹنگ میں اتفاق رائے سے فیصلے ہوتے ہیں، ہرفیصلے سے متعلق صوبوں کو آن بورڈ لیا جاتا ہے، میٹنگ میں مرادعلی شاہ بات مانتے ہیں اور بعد میں بلاول بھٹو کچھ اور بیان دیتے ہیں، پہلے دن سے کہہ دیا تھا لاک ڈاؤن سخت نہیں ہونا چاہیے، جب سندھ نے لاک ڈاؤن کیا تو مجھ سے مشاورت نہیں کی، سندھ نے لاک ڈاؤن کیا تو باقی صوبوں نے بھی سب بند کردیا۔عمران خان نے کہا کہ وفاق صوبوں سے بھرپور تعاون کررہا ہے، لاک ڈاؤن سے لے کر ایک ایک چیز پر تمام صوبوں کو ساتھ لے کرچلے، ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کس صوبے میں ہماری حکومت ہے اورکس میں نہیں، اپوزیشن کے صوبوں سے پوچھ لیں ہم نے سامان کی تقسیم میں کسی سے کوئی نا انصافی نہیں کی، این ڈی ایم اے نے تمام صوبوں میں یکساں سامان تقسیم کیا، کسی صوبے میں کوئی فرق نہیں کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میئر سسٹم دنیا میں کامیاب ترین سسٹم ہے، میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں، مشرف دور میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے گئے لیکن اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو گورننس چلی گئی، اس کے بعد صوبوں نیاختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں کیے، کئی چیزیں جو 18 ویں ترمیم میں جلد بازی میں غلط کی گئیں ان کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ ہم نے خیبر پختونخوا میں ویلج کونسل قائم کرکے نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ملکی تاریخ کا بہترین بلدیاتی نظام لارہے ہیں، بلدیاتی نظام سے شہروں کے میئر عوام خود منتخب کریں گے، براہ راست انتخابات کے بغیر کراچی اور لاہور کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ صوبوں میں پانی کی تقسیم کیلئیٹیلی میٹری نظام لائیں گے، ٹیلی میٹری نظام کوجان بوجھ کر نہیں چلنے دیا جاتا، ٹیلی میٹری نظام کو کون خراب کررہا ہے اس کی انکوائری کررہے ہیں دریں اثناماسک نہ پہننے والے افراد کے خلاف سخت ایکشن کا فیصلہ کر لیا گیا،وزیراعظم کی ہدایت پر عوامی نمائندے حلقوں میں متحرک ہوگئے ہیں۔ انتظامیہ کو سخت کاروائی، جرمانے اور سزاؤں کا اختیار دیدیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار کا کہناہے کہ ماسک نہ پہننے والوں سے سختی سے نمٹا جائیگا،ضلعی انتظامیہ حکومتی ایس او پیز پر عملدر آد کروائے گی،کوئی شخص ماسک کے بغیر نکلا تو کاروائی ہو گی۔کاروائی ہونے پر کسی قسم کی سفارش نہیں مانیں گے۔دریں اثنا کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مزید چار سیکٹرز کو سیل کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے سیکٹر آئی ایٹ تھری، فور اور آئی ٹین ون اور ٹو کو سیل کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق آئی ایٹ اور آئی ٹین مراکز بھی بند رہیں گے جب کہ ان علاقوں کو سیل کرنے کے احکامات کا اطلاق منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے ہو گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان متاثرہ علاقوں کی ناکہ بندی کے لیے پولیس، رینجرز اور فوج سے مدد طلب کی گئی ہے۔۔لاہور شہر میں کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر شہر کے 100 سے زائد علاقوں میں جزوی لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر علاقوں میں تمام کاروباری مراکز، مارکیٹیں، ریسٹورنٹ اور ہوٹل بھی بند کردئیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب کی رپورٹ کی روشنی میں شہر کے جن علاقوں کو قناتیں، بیئرئیر اور خاردارت تاریں لگا کر بند کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں کرفیوں کا سما ہے۔ جبکہ داخلی راستوں پر پولیس تعینات کردی ہے۔ دوسری طرف محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں کورونا سے متاثرہ علاقوں کو سیل کر کے دفعہ 144 نافذ کر دی۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے کورونا سے متاثرہ علاقوں کو 30 جون تک سیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق سیل کیے گئے علاقوں میں شاپنگ مالز، مارکیٹیں، پبلک پرائیوٹ دفاتر بند رہیں گے اور عوام کی آمدورفت سمیت پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت نہیں ہو گی لیکن صرف ایک شخص ذاتی سواری ضرورت کے تحت استعمال کر سکے گا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں پھل، سبزی، دودھ،کریانہ، پیٹرول پمپ، تندور صبح 9 سے شام 7 بجے تک کھلے رہیں گے جب کہ میڈیکل اسٹورز، لیبارٹری پورا ہفتہ 24 گھنٹے کھلی رہیں گی۔

عمران خان

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)بدھ کے روز ملک بھر میں کورونا سے مزید105 افراد جاں بحق اور 4 ہزار 922 کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے تاہم ملک میں صحتیاب ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی اور آج مزید 2047 افراد اس وائرس سے مکمل شفایاب ہوگئے۔سندھمیں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا کے 2115 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔جبکہ وائرس سے مزید 30 افراد کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد سندھ میں اموات کی تعداد 916 ہوگئی ہے۔صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 2 ہزار 361 نئے کیسز اور ایک روزمیں 68 اموات کا اضافہ ہوا۔سرکاری سطح پر اعداد و شمار بتا کے مطابق صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2 ہزار 361 نئے مریضوں کی تشخیص ہوئی جس کے بعد یہ مجموعی تعداد 58 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں مزید 68 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 1081 سے بڑھ کر 1149 تک پہنچ گئیں۔ادھر اسلام آباد میں بھی عالمی وبا کے نئے کیسز کے آنے کا سلسلہ جاری رہا اور 385 مزید لوگ اس وائرس سے متاثر ہوگئے جبکہ 7 اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔ گلگت بلتستان میں بھی کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تشخیص ہوئی اور مزید 21 لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ گلگت بلتستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والے ان نئے کیسز کے بعد اب تک متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار 143 سے بڑھ کر ایک ہزار 164 ہوگئی ہے۔علاوہ ازیں آزاد کشمیرمیں 24 گھنٹوں میں 40 نئے مریض وائرس سے متاثر ہوئے۔ان نئے مریضوں کے سامنے آنے کے بعد وہاں مجموعی طور پر متاثر ہونے والوں کی تعداد 663 سے بڑھ کر 703 تک پہنچ گئی۔

پاکستان ہلاکتیں

بیجنگ، واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ووہان کے بعد اب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں نئے سرے سے مہلک وبا کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شہر کی بڑی ہول سیل مارکیٹ سے 5 روز کے دوران 100 مریض سامنے آنے کے بعد چین نے پورے بیجنگ میں سافٹ لاک ڈاؤن لگا دیا ہے۔چین کے دارالحکومت بیجنگ کے تمام سکولز بند کر دیے گئے ہیں جب کہ بیجنگ سے چین کے دوسرے شہروں کو جانے والے ہر شخص کو قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔بیجنگ حکومت کی ڈپٹی سیکریٹری چین بی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ شہر کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ سے دوبارہ سر اٹھانے والے وائرس سے 5 روز کے دوران 100 سے زائد مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طورپر صرف رہائشی کمپاؤنڈز کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جسے اب پورے شہر میں پھیلا دیا گیا ہے۔دوسری طرف دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 82 لاکھ 64 ہزار 399 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 4 لاکھ 46 ہزار 135 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 34 لاکھ 96 ہزار 769 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 54 ہزار 594 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 43 لاکھ 21 ہزار 495 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 19 ہزار 132 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 22 لاکھ 8 ہزار 400 ہو چکی ہے۔امریکا کے اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں 11 لاکھ 86 ہزار 227 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 16 ہزار 695 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 9 لاکھ 3 ہزار 41 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ 28 ہزار 834 تک جا پہنچی ہے جبکہ یہ وائرس 45 ہزار 456 زندگیاں نگل چکا ہے۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموات 7 ہزار 284 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 45 ہزار 458 ہو چکی ہے۔بھارت میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔بھارت میں کورونا وائرس سے 11 ہزار 921 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 54 ہزار 161 ہو گئی۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 41 ہزار 969 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 98 ہزار 136 ہوچکی ہے۔اسپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 91 ہزار 408 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جب کہ اس وبا سے اموات 27 ہزار 136 پر رکی ہوئی ہیں۔اٹلی میں کورونا وائرس کی وبا سے مجموعی اموات 34 ہزار 405 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 2 لاکھ 37 ہزار 500 رپورٹ ہوئے ہیں۔پیرو میں کورونا وائرس کے باعث 7 ہزار 56 ہلاکتیں اب تک ہو چکی ہیں جبکہ یہاں کورونا کیسز 2 لاکھ 37 ہزار 156 رپورٹ ہوئے ہیں۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -