لاک ڈاؤن سخت نہیں ”سلیکٹو“ ہو گا

لاک ڈاؤن سخت نہیں ”سلیکٹو“ ہو گا

  

سیاسی ایڈیشن+ لاہور کی ڈائری

لاہور سے چوہدری خادم حسین

کرونا وباء کے حوالے سے جو محتاط انداز ے لگائے گئے وہ درست ثابت ہو رہے ہیں اور اب تو مرکزی کنٹرول کے انچارج وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اس سے قبل خود وزیر اعظم عمران خان بھی جون اور جولائی کو خطرناک مہینے قرار دے چکے تھے اس حوالے سے لاک ڈاؤن میں سختی، لاک ڈاؤن ایک ایشو بنا رہا سندھ حکومت حق میں تھی اور ایسی اطلاعات تھیں کہ پنجاب میں جو نرمی کی گئی، اس پر پھر سے غور ہو گا کہ سخت اقدامات متوقع ہیں لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے موقف پر قائم رہے وہ ہفتہ رفتہ کے دوران دو روزہ دورے پر لاہور آئے اور یہاں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس کے دوران انہوں نے لاک ڈاؤن میں سختی والی تجویز کو مسترد کر دیا اور اپنے موقف ہی کو دہرایا کہ عوام کو حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے کہ کرونا پھیلنے سے رک سکے، وزیر اعظم نے سخت لاک ڈاؤن کی جگہ ”سلیکٹو“ لاک ڈاؤن کی تجویز دی اور اپنی ہدایات کو دہراتے ہوئے کہا کہ جہاں متاثرہ افراد کی تعدا د بڑھے وہاں لاک ڈاؤن کیا جائے اجلاس میں بہرحال یہ بتایا گیا کہ عوامی سطح پر احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل نہیں کیا جاتا، حالانکہ جرمانے بھی کئے جا رہے اور خلاف ورزی پر دوکانیں بھی سربمہر کی گئیں وزیر اعظم نے مزید سختی کی ہدایت کی۔ پنجاب کے وزیر صنعت میاں اسلم اقبال نے تاجر اور صنعتکار حضرات سے کہا کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل کریں کہ آئندہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پورا بازار بند کر دیا جائے گا، اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم کو حالات کے حو الے سے بریفنگ دی، وزیر اعظم سے ملاقات خوشگوار رہی اور وزیر اعظم عمران خان نے سردار عثمان بزدار کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ وہ بہتر کام کر رہے ہیں، وزیر اعظم نے ٹڈی دل کے حوالے سے بھی ایک اجلاس کی صدارت کی اس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے ان کو بتایا کہ اتھارٹی نے پورے ملک میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے سپرے کیا، سروے بھی کیا اور اس پریشانی کا بھی ازالہ کیا جا رہا ہے وزیر اعظم اس دوران ڈاکٹر اعجاز حسن کی رہائش پر گئے اور انہوں نے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر چوہدری اعتزاز احسن (ڈاکٹر اعجاز حسن کے بھائی) بھی موجود تھے وزیر اعظم نے ان کے ساتھ بھی تعزیت کی، یوں یہ بھی ایک ملاقات ……کی تاہم سماجی رہی سیاست پر کوئی بات نہ ہوئی۔ وزیر اعظم نے لاہور میں بتایا کہ وہ دوسرے صوبوں میں بھی جائیں گے، پہلے مرحلے پر سندھ کا دورہ کریں گے۔

کرونا وباء کے باوجود نیب کی کارروائیاں جاری ہیں۔ نیب کی طرف سے عدالتوں میں اپنے کیسوں اور تفتیشی کارروائی کا دفاع بھی کیا گیا، نیب کی درخواست پر قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کے دوسرے صاحبزادے سلیمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے گئے اور نیب نے کہا ہے کہ سلمان شہباز کو انٹرپول کے ذریعے واپس لایا جائے گا، صوبائی قائد حزب اختلاف اور دوسرے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع ہو گئی، سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ان کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کئے کہ وہ صوبائی بجٹ اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ پنجاب بجٹ برائے 2020-21ء گزشتہ روز پیش کر دیا گیا، اس میں بھی وفاق کی پیروی میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے اور اسی طرح تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہ کرنے کا اعلان کیا گیا، یہ بجٹ مجموعی طور پر 2240ارب مالیت کا ہے۔

دوسری طرف مرکزی صدر مسلم لیگ (ن) اور قائد حزب اختلاف کرونا سے متاثر ہو کر گھر پر قرنطینیہ میں تھے کہ ان کی اہلیہ تہمینہ درانی کا ٹیسٹ بھی مثبت آ گیا اور وہ بھی گھر ہی پر قرنطینیہ کئے ہوئے ہیں جبکہ ان کا گھریلو ملازم بھی متاثر ہوا ہے اور ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔

لاہور میں تاحال احتیاطی تدابیرپر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن بھی بڑی مارکیٹوں تک تھا، جبکہ نہ صرف چھوٹی مارکیٹیں بلکہ بازار بھی کھلے رہے اسی طرح ماسک والی احتیاط کا بھی مکمل اطلاق نہیں ہوا، شہری ماسک کے بغیر ہی پھرتے اور سماجی فاصلوں کو نظر انداز کرتے رہے ہیں، اس سلسلے میں صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو اب وزیر اعظم کی ہدایات پر عمل کرنا ہو گا ادھر کرونا ٹیسٹ کی زیادہ فیس اور ہسپتالوں میں مناسب سلوک نہ ہونے کی شکایات بھی مل رہی ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ نجی طور پر ٹیسٹ کی فیس 8ہزار سے نو ہزار دو سو روپے تک وصول کی جاتی اور نتیجہ بھی تاخیر سے دیا جاتا ہے جبکہ ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی فرد نے ایک لیبارٹری سے نتیجہ مثبت آنے کے بعد دوسری لیبارٹری سے دوبارہ ٹیسٹ کرایا تو وہ منفی تھا یوں نتائج کے الگ الگ ہونے کی شکایات بھی مل رہی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے چینی 70روپے فی کلو فروخت کرنے کی ہدایت پر عمل نہیں ہو سکا اور مارکیٹ میں بدستور 85سے90روپے تک بک رہی ہے۔ پرچون فروشوں کا موقف ہے کہ ان کو تھوک فروشوں سے چینی سستی ملے گی تو وہ بھی سستی بیچیں گے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن اور انتظامیہ کے درمیان ایک نئی کشمکش شروع ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کا رپور یشن نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کی پیشکش کے جواب میں 62روپے فی کلو چینی خریدنے کی پیشکش کی کہ وہ جائیز اخراجات کے بعد سستی بیچ سکیں۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ وہ عدالتی حکم کے مطابق 70روپے فی کلو دیں گے۔ چنانچہ ابھی تک صارف کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ادھر جہانگیر ترین گروپ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ان کی طرف سے مختلف شہروں میں فیئر پرائس شاپس پر70روپے فی کلو چینی کی فروخت شروع کر دی ہے۔ صارف تاحال مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں کہ بجٹ کے بعد مہنگائی اور بڑھ گئی۔ فارمی انڈے120روپے درجن ہو گئے، حالانکہ گرمی سخت ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -