موجودہ حکومت نے قرض لینے کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

موجودہ حکومت نے قرض لینے کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

  

،ہر روز 18ارب روپے قرض لئے

اسلام آباد سے سہیل چودھری

کورونا کی مہلک وبا کے بے قابوانداز میں پھیلاؤ، ملکی زراعت پر ٹڈی دل کے بار بار بھرپور حملوں کے بعد بدحال عوام کے لئے وفاقی بجٹ 2020-21 میں بھی کوئی خاص ریلیف لے کر نہیں آیا۔ اگرچہ کورونا کی بدولت دنیا کے بیشتر ممالک کی معیشت سست روی کا شکار نظر آتی ہے اور بہت سے مغربی ممالک میں بھی جی ڈی پی کی شرح افزائش منفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ پاکستان میں بھی جی ڈی پی کی شرح افزائش منفی میں جانے کے رجحان کو عالمی معیشت کے رجحان سے جوڑا جا رہا ہے لیکن یہ مماثلت پاکستان کی معیشت کے محرکات سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتی۔ ایسا لگتا ہے کہ بجٹ 2020-21ء کا عام آدمی کی زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔ بجٹ کے اعداد و شمار کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی معیشت کی اصلاحات کے لئے عوام پر جو سختیاں نازل کی تھیں اس کے نتائج وفاقی بجٹ میں تو نظر نہیں آئے۔ عوام کے لئے اس بجٹ میں کوئی ریلیف نظر نہیں آ رہا۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں ماضی کو حکومتوں کو معاشی بدحالی کا ذمہ دار قرار دیا تاہم وہ اپنی حکومت کی معاشی کارکردگی پر اٹھنے والے سنگین نوعیت کے سوالات کا جواب نہیں دے پائے۔ حکومت کی معاشی کارکردگی میں جو واحد چیز قابل تعریف نظر آتی ہے وہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں نمایاں کمی کرنا ہے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت 20ارب ڈالر کی رقم کا خطیر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھوڑ کر گئی تھی۔ موجودہ حکومت اسے کم کرکے 3ارب ڈالر تک لے آئی ہے تاہم اس کی ایک بڑی وجہ مینوفیکچرنگ اور انڈسٹری کے شعبہ میں درآمد ہونے والے خام مال کی کمی بھی ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت بھی سست روی کا شکار ہوئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی معیشت کے پرانے ماڈل کے تحت ہی معاشی اصلاحات متعارف کر ائیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومتوں پر سب سے زیادہ تنقید قرضے لینے پر کی یہ بجا ہے کہ ن لیگ کی حکومت 30ہزار ارب روپے کے قرضے چھوڑ کر گئی تھی لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ موجودہ حکومت 22ماہ کی مدت ہی میں ان قرضوں کو 42ہزار ارب روپے پر لے گئی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت روزانہ 5ارب روپے، ن لیگ کی حکومت روزانہ 8ارب روپے اور پی ٹی آئی کی حکومت روزانہ 18ارب روپے قرض لے رہی ہے۔ ن لیگ کی حکومت میں بجٹ خسارہ 20300ارب روپے تھا اور اس بار بجٹ خسارہ 30437روپے ہے۔ گردشی قرضہ12سو ارب روپے سے 2ہزار ارب روپے ہو گیا ہے۔ پبلک شیئر اداروں میں پچھلے دور میں 14سو ارب روپے کا خسارہ تھا جو اب بڑھ کر 28سو ارب روپے پہنچ گیا ہے جبکہ حکومت نے ٹیکس آمدن میں 25فیصد اضافے کا ہدف رکھا ہے جو کہ ایک سراسر مذاق نظر آتا ہے۔ اس سے بھی بڑا مذاق 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ ہے جس کے لئے صرف 1.5ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 1.5ارب روپے کی رقم سے 700گھر تعمیر ہو جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے کہ موجودہ معاشی ٹیم ملکی معیشت کے خاتمہ کی آخری رسومات ادا کرنے کی غرض سے آئی ہے اس لئے ان کے نام ای سی ایل پر ڈالے جائیں جبکہ اپوزیشن رہنما میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت منی بجٹ لائے گی۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح دارالحکومت میں کورونا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن جاری ہے۔ کراچی کمپنی اور ملحقہ علاقے میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے جبکہ شہر میں مزید ”ہاٹ سپاٹ“ کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔جڑواں شہروں میں بہت سی سیاسی شخصیات کورونا مثبت آنے کے بعد قرنطینہ میں ہیں جبکہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رسید سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا کی وبا مسلسل پھیل رہی ہے اور مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد میں خطرناک اضافے کا رجحان نظر آرہا ہے۔ امریکی مشکوک خاتون سنتھیارچی کے خلاف اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے ایف آئی اے کو پرچہ درج کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ اس پنڈورا باکس سے مزید کیا کیا سامنے آتا ہے جبکہ ہندوستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر تناؤ بدستور قائم ہے اور امریکہ بھی افغانستان سے اپنے انخلاء کے بعد وہاں ہندوستان کے کردار کا خواہاں ہے اسی تناظر میں پاکستان نے پہلی بار افغانستان کے لئے اپنے خصوصی نمائندہ سابق جہاندیدہ سفارتکار صادق خان کو تعینات کیا ہے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض اور محمد صادق کے ہمراہ افغانستان کا دورہ بھی کیا اور کابل میں افغان قیادت سے تفصیلی بات چیت بھی کی۔ افغانستان میں اس حوالے سے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ دارالحکومت میں 2بھارتی سفارتکار گاڑی کی ٹکر مارنے کی پاداش میں گرفتار اور پھر سفارتی استثنا کے بعد رہا ہو گئے لیکن پاک بھارت صورت حال کشیدہ ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت اور چینی سکینڈل کی سماعت جاری ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -