آمدنی اور خرچ میں تفاوت،بجٹ کیسے ٹیکس فری ہو سکتا ہے

آمدنی اور خرچ میں تفاوت،بجٹ کیسے ٹیکس فری ہو سکتا ہے

  

ملتان سے شوکت اشفاق

گزشتہ کئی دہائیوں سے وفاقی بجٹ پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے،پچھلی حکومتوں میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے اور آج تبدیلی لانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کو بھی وہی حالات درپیش ہیں،حکومت سے وابستہ لوگوں سے پوچھا جائے توہ سوچے سمجھے بغیر بجٹ میں دئیے گئے اعداد و شمار کو نہ صرف صحیفہ آسمانی ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں اور اسے تاریخی قرار دیتے ہیں اور حکومت سے اختلاف و اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اسے الفاظ کا گورکھ دھندہ،کھیل اور اعداد و شمار کا ہیر پھیر قرار دیتے ہیں۔بحث و مباحثہ،الزام تراشی،سوال و جواب،جواب در جواب اور وضاحتوں میں مالی سال ختم ہوجاتا ہے اور پچھلے بجٹ کی تلخیوں کو بھول کر نئے سرے سے شروعات کردیتے ہیں لیکن آج تک کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آسکا ۔موجودہ بجٹ کے بارے میں بھی کم و بیش یہی کچھ ہورہا ہے او ل تو اعداد و شمار کے اس خزینے کو سمجھنے کیلئے وقت اور عقل چاہئے اگر نہیں تو پھر خاموشی ہی بنتی ہے کیونکہ یہ ملک کے زمینی حقائق کے برعکس ہے،جی ڈی پی دو سالوں میں سکڑ کر 260ارب ڈالر رہ گئی ہے جو گزشتہ سال283ارب ڈالر تھی جبکہ 2018ء میں یہ 325سے زیادہ تھی،ٹیکس جمع کرنے کی مد میں 1600ارب روپے کی کمی ہوئی ہے اگر انہی حکومتی اعداد و شمار کو مان لیا جائے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ قومی پیداوار میں کمی ہوئی ہے جس میں چینی،گندم،چاول،دالیں اور دوسری اجناس شامل ہیں لیکن حکومت کے اقتصادی بزر جمہر یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور اب وہی اعداد و شمار میں بھونڈے طریقے سے چھپا رہے ہیں اور دعویٰ کررہے ہیں کہ بجٹ ٹیکس فری اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔گزشتہ مالی سال میں 3900ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا دعویٰ کیا گیا جبکہ اگلے مالی سال کیلئے یہ حدف 4800ارب روپے کردیا گیا ہے جس میں 900ارب روپے کا فرق ہے،اگر نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،بہت سے شعبوں کے ٹیکس میں چھوٹ بھی دی گئی ہے تو پھر یہ اتنا بڑا ٹیکس ہدف کیسے حاصل کریں گے،اس پر حکومتی راوی خاموش ہیں۔البتہ ملکی تاریخ میں دوسری مرتبہ جی ڈی پی منفی میں گئی ہے،پہلے یہ 1951ء میں ہوچکا ہے اس وقت مغربی و مشرقی پاکستان میں رہنے والی متعدد کاروباری شخصیات نے اثاثے بیچ کر نقل مکانی کرلی تھی اور بے دریغ پیسہ غیر ممالک میں منتقل کیا تھا مگر اب کی مرتبہ تو ایسا کچھ یہاں نہیں ہوا اور حکومت کے دعوؤں کے مطابق غیر ملکی اور غیر ممالک میں رہائش پذیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کررہے ہیں تو پھر ایسا کیوں ہوا ہے۔ اگر کوویڈ 19کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تو پھر زیادہ دور نہ جائیں اسی ساؤتھ ایشیا ریجن میں ایسے ممالک ہیں جو منفی گروتھ میں نہیں گئے۔مگر ہماری معیشت یہ بتاتی ہے کہ رواں سال مالی خسارہ 10فیصد سے بڑھ سکتا ہے جو معیشت اور بجٹ کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دے گا جو ملکی مسائل اور عوامی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا، پہلے ہی عالمی کساد بازاری کے الزامات کی وجہ سے عام لوگوں کی آمدنی میں 50ٰٖٖفیصد کمی ہوچکی ہے اور مزید یہ کہ ملکی معیشت میں اب بھی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والی زراعت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ایک طرف ٹڈی دل نے کاشتکاروں کی کمر توڑ رکھی ہے تو دوسری طرف حکومت اسے ٹھیک اس طرح نظر انداز کررہی ہے جس طرح وہ کرونا کو کررہی ہے،اس حوالے سے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا اور محض110ارب روپے ٹڈی دل سے بچاؤ اور زراعت کیلئے رکھے گئے ہیں جو ایک انتہائی معمولی رقم ہے،اب بھی وقت ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات کا دوبارہ تعین کرتے ہوئے اس پر توجہ کرے ورنہ گندم کے ساتھ ساتھ دوسری اجناس بھی درآمد کرنی پڑیں گی اور اس کی مد میں جو زر مبادلہ خرچ ہوگا اس کا تصور ابھی سے کرلیں،غیر ملکی کرنسی کے ذخائر پہلے ہی کم ہورہے ہیں اور ترسیلات زر میں بھی کمی ہورہی ہے ایسی صورت میں ملکی پیداوار پر توجہ کرنا ہی معاشی ترقی کی منزل ہوسکتی ہے ورنہ کرونا نے دنیا کی معیشت کا جو حال کیا ہے ہم بھی اس سے بچ نہیں پائیں گے،پہلے ہی حکومت نے کرونا کو سنجیدہ نہیں لیا۔حالانکہ عالمی ادارہ صحت اور مختلف عالمی ایجنسیوں نے پاکستان کی حکومت کو وارننگ دی تھی کہ وہ ریجن میں کرونا کے حوالے سے صیحح اقدامات نہیں کررہے ہیں جو ان کیلئے نقصان کا باعث ہوسکتی ہے، اب امپریل کالج آف لندن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ جولائی میں اس کا پیک اور وسط اگست تک یہ کم ہونا شروع ہوگا اگر حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہ کئے اورسخت ترین لاک ڈاؤن نہ کیا تواموات لاکھوں تک جاسکتی ہیں۔ابھی جون میں یہ عالم ہے کہ سرکاری ہسپتالوں تو پہلے ہی بھر چکے ہیں اب پرائیوٹ ہسپتالوں میں بھی جگہ نہیں مل رہی اور خصوصا وینٹی لیٹر دستیاب نہیں ہیں یعنی ادویات کے ساتھ ساتھ اب ہسپتالوں کے کمرے بھی لاکھوں میں بک ہورہے ہیں،توقع تھی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات کریں گی لیکن ان کی خاموشی بتا رہی ہے کہ یہ کاروبار کرنے والے بھی حکومتی بنچوں میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ جس طرح گندم اور چینی والے بیٹھے ہوئے ہیں اور چینی اب بھی 85سے 90روپے کلو فروخت ہورہی ہے باوجود اس کے کہ عدالت نے 70روپے فی کلو فروخت کرنے کا حکم جاری کیا ہے،اب پٹرول کی طرح چینی بھی غائب ہورہی ہے۔حیرت اور افسوس کی بات یہ کہ ضلعی انتظامیہ اس پر توجہ نہیں دے رہی اور عوام جل بھن کر سوشل میڈیا پر حکومت کیخلاف باتیں بنا بنا کر خاموش ہوجاتے ہیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت کو خبر ہونی چاہیے کہ دنیا کی کوئی زمینی طاقت آج تک عوام کے ساتھ نہیں لڑ سکی

چاہے وہ بدترین مارشل لاء ہی کیوں نہ ہو،اب بھی وقت ہے کہ سنجیدہ عوامی مسائل پر بھرپور توجہ دی جائے ورنہ اسی کرونا کے دنوں میں عوامی غیض و غضب باہر نہ نکل آئے کیونکہ بے روزگاری اور کرونا کا خوف بڑھ رہا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -