خیبر پختون خوا کا نئے سال کا بجٹ جمعہ کو پیش ہو گا،

خیبر پختون خوا کا نئے سال کا بجٹ جمعہ کو پیش ہو گا،

  

یہ بھی خسار ے کا ہے

ہفتہ رفتہ بجٹ کا سیزن ہے، اس دوران وفاق اور صوبوں کا سالانہ تخمینہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اپوزیشن نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ مسترد کر دیئے ہیں اور اسمبلیوں میں ان پر بھرپور تنقید اور ردعمل کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ وفاقی اور صوبوں کے بجٹ کسی بڑی ترمیم کے بغیر ہی منظور کر لئے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پرسوں 19جون کو پیش کیا جائے گا۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ کا حجم 860 ارب روپے سے زائد متوقع ہے، صوبائی حکومت کا قرضوں پر انحصار ہوگا۔خیبرپختونخوا کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کو خسارے کا سامنا رہے گا، رواں مالی سال کے غیر ضروری منصوبوں و اخراجات پر کٹ لگایا جائیگا،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اے ڈی پی کے لیے 250 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔محکمہ صحت ذرائع کے مطابق کورونا کے باعث صحت کا بجٹ 11 ارب سے بڑھا 15 ارب کرنے پرغور کیا جا رہا ہے، روڈ سیکٹر کا بجٹ 23 ارب سے بڑھا کر 25 ارب تک بڑھانے کا امکان ہے،وفاق اور پنجاب کی طرز پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، صحت انصاف کارڈ کا دائرہ صوبہ بھر میں پھیلانے کے لیے 16 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزبھی شامل ہے۔قبل ازیں 12جون کو پیش کئے جانے والے وفاقی بجٹ میں خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لئے 56ارب روپے کی خصوصی گرانٹ مختص کی گئی تھی جسے ہر سطح پر سراہا گیا اور کہا گیا کہ وفاقی اور صوبے کی حکومت میں قبائلی باشندوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے جو وعدے اور اعلانات کئے تھے ان پرعمل درآمد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ایک اور بات جو اس دوران سامنے آئی وہ قبائلی اضلاع کو این ایف سی میں مناسب حصہ دینے پر حکومت سندھ کی جانب سے بعض اعتراضات اٹھائے گئے اور کئی بار تو یوں محسوس ہوا جیسے سندھ اور کے پی کے آمنے سامنے آ گئے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے اس حوالے سے سندھ حکومت کے اعتراضات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کی طرف سے اپنے وعدے کے مطابق تین فیصد حصہ نہ دینا افسوسناک ہے بجٹ سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی تھی ہمارے وزیراعلیٰ محمود خان نے انضمام شدہ اضلاع کے تین فیصد حصہ کی بات اٹھائی اور سندھ سمیت تمام صوبوں سے اس پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا چونکہ اسی بنیاد پر قبائلی اضلاع کو ضم کیا گیا تھا صوبائی مشیر کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری ضم شدہ اضلاع پر واویلا بہت کرتے ہیں لیکن سندھ حکومت این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے کے مطابق قبائلی عوام کو تین فیصد حصہ کیوں نہیں دے رہی۔

بجٹ کی اس گہما گہمی میں عالمی وبا کورونا بھی اہم ترین معاملہ ہے جس پر صوبائی حکومت دن رات ایک کئے ہوئے ہے لیکن یہ جان لیوا مرض ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے، کورونا کے ساتھ ساتھ ٹائیفائڈ،ملیریاسمیت عام موسمی بخار بھی سر اٹھا رہے ہیں، صوبائی دارالحکومت سمیت چھوٹے بڑے شہروں کے سرکاری و نجی ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں،بعض مقامات پر ناقص انتظامات اور طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کی شکایات بھی مل رہی ہیں لیکن حکومتی نمائندے مریضوں بالخصوص کورونا متاثرین کی بحالی کے لئے سرگرم ہیں۔ اس حوالے سے صوبائی مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل خان وزیر کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت ٹاسک فورس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جہاں کورونا کیسز زیادہ ہوں گے وہاں سمارٹ لاک ڈاون کیا جائیگا۔ اس سلسلے میں کئی علاقوں کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے۔صوبے میں کورونا کی ٹیسٹنگ استعداد تقریبا 3500 تک بڑھائی گئی ہے اور مزید بڑھائی جارہی ہے۔ صحت کے شعبے کو مزید موثر بنانے کے لیے پرائیوٹ ہسپتالوں کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعلی محمود خان خود تمام انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں، ڈاکٹرز اور طبی عملہ ہماری نسلیں بچانے کے لئے فرنٹ لائن سے لڑ رہا ہے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ پٹرول مافیا اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومتی کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ صوبہ بھر میں ذخیرہ اندوزوں اور مقررہ نرخ سے زیادہ ریٹ پر پٹرول فروخت کرنے والے پمپس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ وزیراعلی محمود خان کے واضح احکامات ہیں کہ ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ ان احکامات کی روشنی میں گزشتہ دن تمام اضلاع کی انتظامیہ نے 262 پٹرول پمپس کا معائینہ کیا۔ کاروائی کے دوران خلاف ورزی کرنے والے 14 پٹرول پمپس پر 56 ہزار پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ 132 پٹرول پمپس کو وارننگ جاری کی گئی ہے۔ گزشتہ 12 دنوں کے دوران ٹوٹل 15614 پٹرول پمپس کا معائنہ کیا گیا ہے۔ جن میں 3970 پٹرول پمپس کو وارننگ جاری کی گئی اسی طرح 4519 پٹرول پمپس پر 26 لاکھ 52 ہزار 73 روپے جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔ جبکہ صوبہ بھر میں ٹوٹل 437 پٹرول پمپس سیل کئے گئے ہیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی صوبہ بھر میں کاروائیاں جاری ہیں 12ہزار952 کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں جن میں 3ہزار 878 افراد کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر وارننگز جاری کی گئیں۔جبکہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والے 1ہزار157 افراد پر 6لاکھ68ہزار700 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے اسی طرح 420 یونٹس/کاروبار سیل کردیئے گئے۔ دوسری جانب صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کا اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ہوا۔ اجلاس میں صوبہ بھر میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال کے علاوہ صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بعض شعبوں میں ان ایس او پیز کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان ایس او پیز پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنانے،اضلاع کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے اور جن مقامات پر ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو رہی ہو ان مقامات کو بند کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں عوامی مقامات میں فیس ماسک نہ پہننے پر جرمانے عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں بنائے گئے لائحہ عمل کی منظوری دیدی گئی جسے حتمی منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائیگا۔ اجلاس کو کورونا کیسزسے مؤثر انداز سے نمٹنے کیلئے صوبے کے تدریسی ہسپتالوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے سلسلے میں اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف تدریسی ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے مختص بستروں، انتہائی نگہداشت یونٹس، ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس سمیت ونٹیلیٹرز اور تربیت یافتہ سٹاف کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے جس سے صورتحال میں کافی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

جہاں تک افغانستان میں امن و امان کا تعلق ہے تو حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں اور افغان صدر نے واضح اعلان کیا ہے کہ دوحہ مذاکرات کے فیصلوں کے مطابق باقی تین ہزار طالبان قیدی بھی جلد رہا کر دیئے جائیں گے، اس اعلان کے بعد کابل سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے اور چونکہ پاکستان بالخصوص خیبر کاامن افغانستان سے جڑا ہوا ہے اس لئے ہمارے ہاں بھی امن و امان کی صورت حال خاصی تسلی بخش ہے، ابھی دو روز قبل پشاور پولیس نے چار ایسے دہشت گردوں کو گرفتار کیا جو صوبائی دارالحکومت سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر بڑے شہروں میں تخریبی سرگرمییوں کی تیاری کر رہے تھے ان دہشت گردوں کا تعلق ایک مذہبی جماعت سے ہے جس کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں

مزید :

ایڈیشن 1 -