سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، ترقیاتی بجٹ، 209ارب، 3ارب کا کورونا ایمرجنسی فنڈ قائم،زرعی شعبے کیلئے 10ارب، شعبہ صحت کیلئے 28ارب مختص، سندھ کا 12کھرب 14ارب روپے کا بجٹ پیش

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، ترقیاتی بجٹ، 209ارب، 3ارب کا کورونا ...

  

کراچی (نعیم الدین، غلام مرتضی)اپوزیشن کے شور شرابے میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کے نئے مالی سال 2020-21کے لیے 12کھرب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کر دیاہے۔وفاق اور پنجاب کے برعکس سندھ حکومت نے گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ209 ارب روپے، زرعی شعبے کے لئے 10 ارب، تعلیم کے لئے 23 ارب،صحت کے لیے 28 ارب اور آبپاشی کے لئے 17 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بدھ کو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی سربراہی میں جاری اجلاس میں بجٹ پیش کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ مشکل حالات میں میرے لیے فخر کا مقام ہے کہ میں 8ویں بار بجٹ پیش کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا اور ٹڈی دل کی وجہ سے صوبہ انتہائی مشکلات کا شکار ہے، سندھ کے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر بجٹ بنایا گیا ہے۔ اللہ تعالی کابے حد شکر گزار ہوں کہ ہمیں ہمت، طاقت اور استطاعت عطا فرمائی کہ ہم کووڈ -19 کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ 3.0بلین روپے سے کورونا وائرس ایمرجنسی فنڈقائم کیا گیا ہے،جس میں 1.3 بلین روپے سندھ حکومت اورتقریبا1.7 بلین روپے صوبائی ملازمین کی جانب مہیا کئے گئے۔ اس رقم کے استعمال کی نگرانی اور منظوری چیف سیکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے سپرد ہے۔ اس کمیٹی میں نجی شعبے کی موثر موجودگی کے ذریعے تمام امور میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایاگیا۔کووڈ -19 سے نبردآزما تمام طبی عملے کیلئے ایک رواں بنیادی تنخواہ کی شرح سے ہیلتھ رسک الانس کی منظوری دی جاچکی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اللہ تعالی کابے حد شکر گزار ہوں کہ ہمیں ہمت، طاقت اور استطاعت عطا فرمائی کہ ہم کووڈ -19 کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔ ہم کووڈ - 19 کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک طویل اور صبر آزما سفر سے گذر رہے ہیں۔یہ وبا بین الاقوامی سرحدوں کے آرپار جنگل کی آگ کے مانند دنیا کے 200 سے زاید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔سندھ حکومت نے کووڈ- 19 سے نمٹنے کیلئے اپنے وسائل کو قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ اور معیشت کو سہارا دینے پر خرچ کرنے کے لیے اقدامات کئے ہیں۔کووڈ- 19 بنیادی طور پر موجودہ نظام صحت کے لیے ایک خطرہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے یہ بڑھ اور پھیل رہا ہے یہ زندگی کے دیگر تمام شعبوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ اس نظر نہ آنے والے دشمن سے مقابلے کے لیے دنیا نے اپنے وسائل کی سمت تبدیل کی ہے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وبا نے دنیا کو ساکت وجامد کر دیا ہے اور شہروں کو حقیقتاً ویرانوں میں بدل دیا ہے۔اس خطرے سے نمٹنے کیلئے لاک ڈان کو دنیا بھر میں واحد قابل عمل حکمت عملی کے طور پر اختیارکیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے کووڈ-19 کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی طور پر اختیار کی گئی حکمت عملی کی پیروی کی ہے۔ سندھ وہ پہلا صوبہ تھا جہاں لاک ڈاؤن پر عملدرآمد اور اطلاق کے لیے اقدامات عمل میں لائے گئے۔26 فروری 2020 کو جیسے ہی صوبے میں پہلا کیس نمودار ہوا تو فوری طور پر اسکولوں کو بند کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ایسی تمام جگہوں پر جہاں لوگ جمع ہو سکتے تھے ہم نے وہاں 23 مارچ 2020 سے لاک ڈاؤن نافذ کیا۔دوسرے صوبوں نے بھی رفتہ رفتہ اس طرز عمل کی پیروی کی۔باقی ملک میں بھی لاک ڈاؤن کے نفاذ کا طرز عمل اختیار کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ 3.0بلین روپے سے کورونا وائرس ایمرجنسی فنڈقائم کیا گیا ہے،جس میں 1.3 بلین روپے سندھ حکومت اورتقریبا1.7 بلین روپے صوبائی ملازمین کی جانب مہیا کئے گئے۔ اس رقم کے استعمال کی نگرانی اور منظوری چیف سیکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے سپرد ہے۔ اس کمیٹی میں نجی شعبے کی موثر موجودگی کے ذریعے تمام امور میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایاگیا۔کووڈ -19 سے نبردآزما تمام طبی عملے کیلئے ایک رواں بنیادی تنخواہ کی شرح سے ہیلتھ رسک الانس کی منظوری دی جاچکی ہے۔ اس رسک الاؤنس کو اب تمام ہیلتھ پروفیشنلزکے لیے توسیع دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ / ہاس جاب آفیسرز کو بالترتیب گریڈ 17/18 کی ابتدائی بنیادی تنخواہ مارچ 2020 سے کووڈ- 19 وبا کے خاتمے تک دی جائے گی۔ 2020-21 میں ہیلتھ رسک الاؤنس پر 1.0 بلین روپے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ صوبے میں کورونا ٹیسٹنگ کی استطاعت کو بڑھا کر 11450 روزانہ کر دیاگیا ہے۔تمام اضلاع میں 81 قرنطینہ مراکز جن میں 8266 بستر وں کی گنجائش موجود ہے قائم کیے گئے ہیں۔ جون 2020 تک یہ گنجائش 8616 تک بڑھا دی جائے گی۔ طبی سہولیات اور خدمات کی بروقت اور درست فراہمی کے لیے سندھ حکومت نے میڈیکل پروکیورمنٹ کمیٹی قائم کی ہے۔ اس کمیٹی نے ضروری مشینری آلات اور اوزاروں کی 2.43 بلین روپے کی خریداری کی ہے، جس میں 1.5 بلین روپے کورونا ایمرجنسی فنڈ سے اور 891.8 ملین روپے پی ڈی ایم اے فنڈ کے شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم عوامی خدمات کی فراہمی کا ایک موثر نظام وضع کرنے کے خواہاں ہیں، جس کے تحت صوبے کے عوام کو بہترین ممکنہ خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں موجودہ آمدنی کے کل اخراجات 139.1 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ جب کہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص رقم 23.5 بلین روپے ہے۔ اگلے مالی سال 2020-21 کے لیے ترقیاتی کاموں میں کچھ اہم منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ محکمہ صحت کا بجٹ دو بڑے حصوں میں تقسیم ہے ہیلتھ سروسز اور میڈیکل ایجوکیشن مالی سال 2019-20 کے لیے محکمہ صحت کے بجٹ کا تخمینہ 120.486 بلین روپے تھا۔ اگلے مالی سال 2020-21 کے لیے بڑھا کر 139.178 بلین روپے کر دیاگیا ہے۔ پولیو، ٹی بی،ہپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں سے بچا کے لیے 9 پروگراموں کے لیے اگلے مالی سال 2020-21 میں 7 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام کے لیے 559.4 ملین روپے،صحت سمیت مختلف محکموں میں اسسٹنٹ اور غذایت کی کمی کے لیے ایک ملٹی سیکٹورل ایکسلریٹڈ ایکشن پلان کے تحت 5.5 بلین روپے مختص، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کے لیے 1.2 بلین روپے، ہپاٹائٹس کی روک تھام کے لیے 1.9 بلین روپے، زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی صحت سے متعلق صحت کے پروگرام کے لیے 267.9 ملین روپے، ای پی آئی پروگرام کے لیے 2.3 بلین روپے،نیپا کراچی میں 200 بستر والے موذی بیماریوں پر قابوں پانے والے اسپتال کے لیے ایک بلین روپے،صحت سے متعلق 22 صحت کی سہولیات کو اپ گریڈ اور آپریشنل کرنے کے لیے ایک بلین روپے، لیاری جنرل اسپتال کراچی کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو اپ گریڈ کر نے کے لیے 234.6 ملین روپے ، سندھ میں کالعدم تنظیموں کی صحت کی سہولیات کو ٹیک اوور کرنے کے لیے 521.1 ملین روپے رکھے گئے ہیں،رواں مالی سال کے دوران انڈس ہسپتال کراچی کے لیے خصوصی گرانٹ کے طور پر 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔2 بلین روپے موجودہ آپریشن اور 2 بلین روپے انڈس اسپتال کی توسیع کے لیے ہیں ۔صحت کی سہولیات کے لیے پلانٹ اور مشینری کی خریداری کے لیے 1.5 بلین روپے،صحت کی سہولیات میں فرنیچرز اور فکسچر کی خریداری کے 250 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن میں اکیڈمک اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیز کے لئے کافی فنڈز کی گرانٹ مدد کے طور پر مہیا کی گئی۔ ایجوکیشن اور بورڈز کو امتحانات کی فیس کی مد میں فنڈز کی ادائیگی کی گئی۔شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور میں بے نظیر بھٹو چیئر پروجیکٹ قائم کیا گیا۔ممکنہ طور پر آئندہ مالی سال 2020-21 میں مکمل ہوجائے گا۔ آئندہ مالی سالی 2020-21یونیورسٹیز کے لئے 5.0ملین روپے کی گرانٹ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ 2.0بلین تعلیمی بورڈز اور 1.2بلین روپے سندھ تعلیمی بورڈز کے ان طالبعلموں کی اسکالرشپ کے لئے جو کہ گریڈ A-1حاصل کریں رکھے گئے ہیں۔ 392.0 ملین روپے دیگر مختلف کیڈٹ کالجز کے لئے مختص کئے گئے ہیں، 259.0ملین روپے پبلک اسکولوں کے لئے جبکہ 50.0ملین روپے (Program for result) بہتر کارکردگی کے لئے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کوویڈ 19اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے تعلیمی نقصان کو کم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔زیادہ تر یونیورسٹیز نے آن لائن کلاسز کے انعقاد کی تیاری شروع کر دی ہے تاہم مندرجہ ذیل اقدامات کووڈ 19کے اثرات کو کم کرنے کے لئے شروع کئے گئے ہیں۔جناح سندھ میڈیکل یونیوررسٹی میں ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے لئے کوویڈ 19آن لائن کورسز کا انعقاد جے پی ایم سی JPMCمیں فیکلٹی آف پیتھالوجی کی تکنیکی معاونت سے لیول IIIکورونا لیبارٹری کا قیام جو کہ 20اپریل2020سے فعال ہے۔لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز جام شورو نے PCR400کٹس خریدی، کورونا کے ممکنہ مریضوں کی فری ٹیسٹنگ کی گئی۔ ڈائینگنوسٹک اینڈ ریسرچ لیباریٹری حالیہ دنوں میں ایک ہزار سے چھ ہزار تک یومیہ ٹیسٹ کر رہی ہے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی منظوری سے تجرباتی بنیادوں پر Convalescent Plasma-19کی کلیکشن شروع کی جاچکی ہے۔ کووڈ 19کی معین ترتیب اور تبدیلی ہیئت (Mutation) کی نشاندہی کی کوششیں یونیورسٹی کو کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگی۔حکومت سندھ کے تعاون سے پنجوانی سینٹر فا رمالیکیولر میڈیسن یو نیورسٹی آف کراچی میں کووڈ 19کی ٹیسٹنگ کے لئے یومیہ 800ٹیسٹ کے لئے لیب کا قیام،شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شہید بینظیر آباد اور یونیورسٹی آف سندھ جامشورو میں Sanitizer Liquidکی بوتلیں تیار کی گئی ہیں جنہیں اسپتالوں اور ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں تقسیم کیا گیا۔ قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نواب شاہ میں واک تھرو گیٹ تیار کئے گئے جنہیں کئی اداروں اور شہر کے سول اسپتال کو عطیہ کیا گیا۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ آریجہ کیمپس میں لاڑکانہ کے ممکنہ متاثرہ کووڈ 19کے مریضوں کے لئے قرنطینہ مرکز کا قیام عمل میں لیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ اسکل ڈیولپمنٹ اور روز گار کے مواقعوں کی فراہمی کے ضمن میں بے نظیر بھٹو شہید یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کو مستقل کر دیاگیا ہے۔ 12 سال سے قائم اس بورڈ نے تقریبا 404,235 نوجوانوں کو تربیت دی ہے۔25000 نوجوانوں کو نجی اور سرکاری شعبے کے توسط سے

مختلف روز گار تجارت میں تربیت دی جائے گی۔ان تجارتی شعبوں میں آرٹیفشل انٹیلجنس، ڈرپ، ایریگیشن، واٹر ٹریٹمنٹ اور پیوریفکیشن شامل ہیں۔ یہ تربیت مفت فراہم کی جارہی ہے اور اس حکومت سندھ تمام اخراجات برداشت کرتی ہے ۔ہر ٹرینی کو 2500 روپے بطور وظیفہ ہر مہینے دیئے جائیں گے۔ سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی نے پورے سندھ میں 22 مزید اداوں کی منظوری دی۔600 خواتین کو مالی طور پر با اختیار بنانے کی تربیت، آئی بی اے(IBA) کراچی کے تعاون سے 1600 افراد کی تربیت۔ 33 اساتذہ کو انٹرپرئنور شپ کی تربیت اور 50 اداروں میں قابلیت پر مبنی تربیت کا متعارف کرانا شامل ہے۔ اگلے مالی سال 21-2020کے لیے اسٹیوٹا (STEVTA) کے تحت مختلف اہداف سیٹ کیے گئے ہیں۔70,000 نوجوانوں کو کوویڈ-19 کی صورتحال کے حوالے سے تربیت کے مواقع فراہم کرنا شامل ہیں۔ این اے وی ٹی ٹی سی(NAVTTC) کے تعاون سے کامیاب جوان ہنر مند پاکستان پروگرام پر عملدرآمد اور جدید اپرنٹسشپ سسٹم کا نفاذشامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کا مقصد سندھ میں محفوظ تیز اور قابل اعتماد نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہے، اس شعبے کے فروغ کے لئے 17اسکیموں میں 6.4بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ لازمی طور پر وہیکل انسپیکشن اینڈ سرٹیفیکیشن سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ حکومت کراچی سرکلر ریلوے پروجیکٹ جس کی لاگت 207.5ہے۔ جس سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل ہوں گے۔ حکومت سندھ نے 3 بلین روپے کے سی آر روٹ کے ساتھ ریلوے کراسنگ پر انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج کی تعمیر بی آر ٹی ایس اورنج لائن 4 کلومیٹر طویل راہداری BRT Connectingگرین لائن کے لئے مختص کئے ہیں۔ اس منصوبے کی جون 2020 تک تکمیل متوقع ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کے فنڈز سے BRTSگرین لائن بھی دسمبر 2020میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ اپنی بجٹ تقریر میں شعبہ زراعت کے حوالے سے بتایا کہ اس شعبے کو اس سال دوہرے مسائل کا سامنا ہے۔ایک جانب کووڈ 19کے مسائل تو دوسری طرف ٹڈی دل کی موجودگی سندھ کی معیشت پر خطرے کی طرح منڈلارہی ہے۔ ٹڈی دل کی ان سرگرمیوں کے نتیجے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ خریف کی فصل 2020کو 30319ٹنزکاپیداواری نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔ ربیع کی فصل 2020-21کے مالی سال کے مطابق اس میں تقریبا 340077کا نقصان ہوسکتا ہے۔ اس تباہ کن منظر نامے میں سندھ حکومت زرعی شعبہ میں بہتری لانے کے لئے پر عزم ہے۔ جس کے لئے آئندہ مالی سال 2020-21میں 14.8بلین روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے مد مقابل مالی سال 2019-20میں 10.6بلین روپے مختص کئے گئے۔ موثر کنٹرول آپریشنز کے لئے وسیع پیمانے پر نگرانی کے عمل کے لئے فیلڈ ٹیموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹڈی دل کے غولوں سے نمٹنے کے لئے گاڑیوں، ٹریکٹر، سولر پاور اور اسپرئرز اور ہینڈ اسپریئرز میں اضافہ کیا گیا ہے۔ فیلڈز کی ٹیموں کو نگرانی بڑھانے اور موثر طریقے سے ٹڈی دل کنٹرول آپریشنز کرنے کے لئے GPSکی فراہمی کی جا رہی ہے۔مجموعی پیداوار کو بڑھانے اور معیشت کو چلائے رکھنے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔کچھ اہم اقدامات کو اجاگر کیا جا رہا ہے جس میں خستہ حال موجودہ مشینری کی مرمت کے لئے 440ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ زرعی شعبہ میں بہتری کے لئے 110ملین روپے واٹر کورسز کی مرمت و بحالی کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ لاکھوں روپے مالیت کی خستہ حال مشینر ی سندھ کے مختلف ورک شاپس میں رکھی ہے۔اس مشینری کی فعالیت و مرمت کے لئے بجٹ میں 200ملین روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے جسمانی نشوونما میں کمی کے پروگرام کے تحت سندھ حکومت نے 450ملین روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کی وجہ سے اب تک 35576ہیکٹر رقبے پر مختلف فصلیں بشمول کاٹن، سبزیاں، گنے، چارہ، مرچ، اور دیگر کو نقصان پہنچا۔وفاقی حکومت کی جانب سے بہت ہی دھیما رد عمل سامنے آیا۔ محکمہ زراعت کو بر وقت اور فوری اقدامات اٹھانے پڑے۔ محکمہ زراعت نے 1000اسپریئرز، 300سولو پاوراسپریئرز،6ٹریکٹرز پر نصب اسپریئرز اور 25گاڑیوں کے ساتھ گاڑیوں پر نصب ہونے والے 70اسپریئرز خریدے۔ ایک اور 21گاڑیوں کا ایک بیڑہ بھی اس میں شامل کیا گیا۔125000لیٹرز لمڈا ECکیڑے مار ادویات کو خریدا گیا جو کہ استعمال ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر 7389757ہیکٹر رقبہ پر سروے کیا گیا۔ 38893ہیکٹر متاثرہ رقبے پر 13جون 2020تک اسپرے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر ایکسٹینشن ونگ کو جاری کردہ فنڈز 335.095 ملین روپے،گاڑیوں،اسپریئرز، کیڑے مار ادویات کی خریداری، POL اور فیلڈ اسٹاف کی سہولت کے لئے DPP GOPکو جاری کردہ فنڈز 10.000 ملین روپے،پی او ایل POLکی خریداری ائر کرافٹ اور کیڑے مار ادویات کے لئے. متاثرہ ضلع کے DCsکے لئے جاری کرد ہ فنڈز 16.000 ملین وپے،گھوٹکی، سانگھڑ، تھرپارکر،، عمر کوٹ، خیر پور کے علاقوں کو صحرا کی ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے NDMAکو جاری فنڈز 2.500 روپے،1.00ملین ڈپٹی کمشنرز میں تقسیم ہوئے ایگری کلچر ایکسٹینشن ونگ کو جاری کردہ فنڈز 286.400 ملین روپے،21گاڑیوں کی خریداری GPSگاڑی اسپریئرز کی تنصیب کے ساتھ اور Pesticide EC as per NAP پاک فوج کے تعاون سے سروے اینڈ کنٹرول آپریشن زرعی اور ریگستانی علاقوں میں کیا جارہا ہے۔پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ حکومت پاکستان کو ضلع گھوٹکی، کشمور، خیر پور اور سکھر میں جاری کنٹرول آپریشن میں معاونت فراہم کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم بڑے پیمانے پر نگرانی اور کنٹرول کے لئے فیلڈ ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹڈی دل کے غولوں سے نمٹنے کے لئے گاڑیوں، ٹریکٹر مانٹڈ سولو پاور اسپریئرزاور ہینڈ اسپریئرزکو بڑھایا جائے گا۔ ٹڈی دل کی موثر نگرانی کرنے اور کنٹرول آپریشنز کے لئے فیلڈ میں موجود ٹیموں کو GPSآلات فراہم کئے جائیں گے۔حکومت سندھ کی جانب سے 6ائر کرافٹس ULVاسپریئرز، کیڑے مار دواں سمیت ULV LambdaCyhalothrine Emulsified Concentrate (EC) کی وافر مقدار میں فراہمی اور ضروری فیلڈ ٹیموں کی تعیناتی کا وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے فضائی آپریشن جاری رکھنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کاوشوں سے قومی ایکشن پلان وضع کیا ہے جس کا مقصد موجودہ افزائش گاہوں کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل کے بیج اور انڈوں کو بھی تباہ کرنا ہے۔ آئندہ سیزن میں ٹڈیوں کی دوبارہ افزائش اور ان سے بچا کے لئے حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ اس منصوبے کی کل لاگت 930.9ملین روپے ہے جس میں حکومت پاکستان کا حصہ 204.0ملین روپے۔سندھ حکومت کی جانب سے 726.8ملین روپے ہے۔ اس منصوبے کے تین مراحل ہیں:موسم سرما۔ بہارفروری سے جون 2020افزائش،موسم گرما۔ مون سون جولائی سے دسمبر 2020،موسم سرما۔ بہارجنوری سے جون 2021 افزائش شامل ہیں۔ مالی سال 2020-21میں محکمہ سماجی بہبود کا بجٹ 1.8بلین روپے سے بڑھا کر 27.1 بلین روپے کیا گیا ہے، جو کہ مجموعی طور پر 1360فیصد اضافہ ہے۔ اس سے قبل ذکر کیا گیا ہے کہ 20بلین روپے سندھ پیپلز سپورٹ پروگرام کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیگر منصوبو ں میں 100ملین روپے کی لاگت

سے ڈویژنل سطح پر ایس او ایس(شیلٹر ہومز) کا قیام،دارالخشنود کے لئے 3 ملین روپے اور سندھ چیرٹی رجسٹریشن کمپنیوں کے لئے 5 ملین روپے مختص کرنا،شانتی نگر اور ملیر کراچی میں 50ملین روپے کی لاگت سے 2لاسٹ اینڈ فانڈ چلڈرن سینٹرز کا قیام،12.5ملین روپے کی لاگت سے 10نئی گاڑیوں کی فراہمی،دادو اور گمبٹ کے ٹی بی پیشنٹس ایسوسی ایشن کے لئے 1ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ میں اضافہ،دارالامان کی سیکیورٹی میں اضافے کے لئے 7ملین روپے کا اجرا،سندھ سینئر سٹیزنز ویلفیئر فنڈ کے لئے 30ملین روپے مختص کرنا اور دوران ملازمت فوت ہوجانے والے ملازمین کے لواحقین کی مالی امداد کے لئے 15ملین روپے مختص کرنا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد ترقیاتی اسکیمیں شروع کی ہیں جو کہ مکمل ہونے کو ہیں۔ جن میں سول سوسائٹی آرگنائزیشن کورنگی کے ذریعے فائدہ حاصل کرنے والے اسٹریٹ چلڈرن کی بحالی کے لئے دارالاطفال کا قیام و استحکام، میر پور خاص اور جیکب آباد میں 100افراد کی گنجائش کے حامل دارالامان کا قیام، کراچی میں 10افراد کی گنجائش کے حامل ڈرگ ایڈکٹ افراد کی بحالی کے مرکز، اور دارالامان سکھر کی مرمت اور سہولیات میں بہتری کے منصوبے شامل ہیں۔سندھ کابینہ کے21نومبر 2019کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں مغربی پاکستان کے فیملی کورٹ ایکٹ 1964میں ترامیم کی گئی ہیں جن کے تحت آئندہ مالی سال 2020-21 میں تمام غیر سرکاری تنظیموں اور نان پرافٹ تنظیموں کے سندھ چیرٹی رجسٹریشن ایکٹ 2019کے تحت رجسٹر کی جائیں گی۔سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ پی پی پی کے تحت نجی شعبے کے باعث معیاری سروسز کی فراہمی،رسائی اور شکایات میں بہتری آئی ہے۔سندھ حکومت نے پی پی پی کے تحت 38.75کلومیٹرز طویل ملیرایکسپریس وے پروجیکٹ متعارف کروا کر ایک اور وعدہ پورا کیا ہے۔اس پروجیکٹ کے لئے شفاف اور موثر عالمی نیلامی کا عمل مکمل کیا گیا۔یہ پروجیکٹ 27.5بلین روپے کی نیلامی پر دیا گیا۔اس شفاف نیلامی کے نتیجہ میں سندھ حکومت کو اربوں روپے کی بچت حاصل ہوئی۔اس پروجیکٹ کی تکمیل سے ایک گھنٹہ سے زائد کا سفر 25منٹ میں طے ہو سکے گا۔یہ پروجیکٹ شہر کراچی کا مضبوط ذریعہ مواصلات بننے کے ساتھ ساتھ شہر کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط کرے گا۔جبکہ ارد گرد کے علاقوں میں ترقی کے نئے سفر کا آغاز ہوگا۔دریائے سندھ پر 2.75 کلومیٹر طویل گھوٹکی کندھ کوٹ پل کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے انشا اللہ یہ پروجیکٹ ڈھائی سال کی مدت میں مکمل ہوگا۔دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ 150کلومیٹر سے کم ہو کر انداز30کلومیٹر ہوجائے گا۔پل کی تعمیر سے گھوٹکی اور کندھ کوٹ کے شہریوں کے لئے معاش کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ ان دونوں اضلاع میں تیل و گیس کی بڑی کمپنیاں پاور پروجیکٹ اور کھاد کے پلانٹس موجود ہیں۔رواں مالی سال کے دوران خریداری کا پانچواں مرحلہ مکمل ہونے کے بعد 139پبلک سیکٹرا سکولز پی پی پی موڈ پر ہیں، جن میں 70000سے زائد طالب علم زیر تعلیم ہیں۔نتظام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اچھی شہرت کے حامل تنظیموں کو دیا گیا ہے۔محکمہ تعلیم و خواندگی کے مقامی اہلکار، ارد گرد کی کمیونیٹیز، اسٹاف، طالب علم عملہ اور اسکو ل انتظامی کمیٹی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔اس اقدام سے آئین پاکستا ن کے آرٹیکل 25E اور سندھ حکومت کی جانب سے منظور کردہ سندھ رائٹ آف چلڈرن فری اینڈ کپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2013پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی پی پی کے تحت نجی شعبوں کے حوالے کی گئی صحت کی 161سہولیات کے ذریعے سالانہ تقریبا6ملین مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔پی پی پی موڈ کے تحت چار ریجنل بلڈ سینٹرز RBC)عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ موجودہ وبائی صورتحال میں جہاں تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خون کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں یہ سنٹرز مریضوں کو بلا رکاوٹ خون فراہم کر رہے ہیں۔سندھ حکومت نے منفرد پی پی پی موڈ کے تحت چند بڑے منصوبوں کو آئندہ مالی سال 2020-21میں شامل کیا ہے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے ایشیائی ترقیاتی بنک کے پی پی پی یونٹ اور آفس آف دی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ(OPPP)کی معاونت سے 50ایم جی ڈی میونسپل ویسٹ واٹر ریسائیکلنگ پروجیکٹ بنایا ہے۔یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہوگا جو کہ صنعتی علاقوں کے سیوریج کے پانی کو صنعتی استعمال میں تبدیل کرے گا۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ضروریات واٹر سپلائی کے بنیادی ڈھانچے کے استعمال، مرمت، ترقی، تبدیلی اور قیام کے لئے کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے مائننگ اور توانائی کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے لئے قدم اٹھائے ہیں۔ اسی طرح 1590میگا واٹ نئے پاور پلانٹ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا گیا۔جس میں تھر کول پلانٹ بلاک 2کو صنعتی پانی کی فراہمی شامل ہے۔اس سلسلے میں حکومت سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ کے تحت فراہمی آب کا بڑا منصوبہ ترتیب دیا۔جو کہ مالی سال کے اختتام تک یک سال کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہوجائے گا۔ حکومت سندھ تین روڈ زکی ترقی، مرمت اور بہتری کے لئے مشاورتی خدمات حاصل کرے گی۔جن میں لنک روڈ کورنگی ایکسپریس وے ماری پور سے Yجنکشن اور()انٹر چینج آئی سی آئی پل شامل ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد اس اہم روڈ پر مخصوص اوقات میں ٹریفک کے دبا ؤکو کم کرنا ہے۔مجوزہ لنک روڈ کورنگی ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ کورنگی کے لئے متبادل راستہ فراہم کرتا ہے۔ ہنگامی صورتحال میں پاکستان ائر فورس کی ساتھرن ائر کمانڈ کو کورنگی تک راستہ فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون (ڈی ایس ای زیڈ) کے عظیم منصوبے کے لئے 1530ایکڑ اراضی کے حصول کا عمل جاری ہے۔دھابیجی اسپیشل اکنامک زون نہ صرف سندھ بلکہ قومی معیشت کے لئے بھی کئی حوالوں سے مفیدثابت ہوگا۔روزگار کے مواقع پیدا کرنا، صنعتی ترقی اور نیشنل جی ڈی پی پر اچھے اثرات مرتب ہونا شامل ہے۔منصوبے سے حکومت سندھ کے لئے ریوینیو میں شیئر کی صورت میں خاطر خواہ آمدنی ہونے کی توقع ہے۔

مزید :

صفحہ اول -