نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی اسمبلی کے سامنے احتجاج کی تیاریاں مکمل

نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی اسمبلی کے سامنے احتجاج کی تیاریاں مکمل

  

پشاور(سٹی رپورٹر)صوبے میں لاک ڈان کے باعث مالی بحران کے شکار نجی تعلیمی اداروں کی تین ماہ سے بندش اور ریلیف پیکیج کے عدم اجراکیخلاف پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) کے زیراہتمام کل 19جون بروزجمعہ خیبرپختونخوااسمبلی کے سامنے احتجاج کیلئے تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں صوبہ بھر کے نجی تعلیمی ادارے کے مالکان، پرنسپلز،اساتذہ اورطلبہ ایس اوپی کے تحت تاریخی دھرنادینگے جس میں تاجربرادری کی شرکت بھی متوقع ہے اس سلسلے میں نجی سیکٹرسے وابستہ تمام افراد کوایک بجے اسمبلی کے باہرپہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس حوالے سے PENکے صوبائی صدرسلیم خان نے رابطے پربتایاکہ صوبائی حکومت کی ہدایت پرکوروناکے پیش نظر 13مارچ سے تعلیمی ادارے بند ہیں صوبے میں تقریبا 24لاکھ بچے آٹھ ہزار600 پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور انہی اداروں سے ڈیڑھ لاکھ اساتذہ و دیگر عملہ کا بھی روزگا ر وابستہ ہے تمام تجارتی مراکز اسوقت کھلے ہیں تاہم سکولوں کی بندش کے باعث اداروں کوبہت سے مسائل اور اور مشکلات کا سامنا ہے جن میں مالی بحران سب سے سنگین ہے۔ انہوں نے کہاکہ 90فیصدنجی تعلیمی ادارے کم فیس والے ہیں اوران کی بقاخطرے میں ہے اس کے ساتھ ان سکولوں سے وابستہ ہزاروں اساتذہ ودیگرملازمین بے روزگار ہو کرچھولے فروشی اور ٹیکسی چلانے پرمجبورہوچکے ہیں عمارتوں کے مالکان بھی کرایہ کی عدم ادائیگی پر سکولوں کی عمارتیں خالی کروا رہے ہیں اگر یہ سکول بند ہو گئے تو خدانخواستہ صوبے میں تعلیمی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے سلیم خان نے کہاکہ حکومتی حلقوں کیساتھ ان کے کئی بار مسائل پر گفت وشنیدہوئی تاہم نجی سیکٹرکی مشکلات پرکوئی بھی سنجیدگی نہیں دکھارہاہے اسلئے باامرمجبوری ہم نے19جون کو صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر احتجاجی دھرنے کااعلان کیاہے جس کیلئے تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اورصوبے کے تمام اضلاع سے قافلے جمعہ کو ایک بجے اسمبلی کے باہر پہنچیں گے جہاں نمازجمعہ ڈیڑھ بجے ہم اسمبلی کے سامنے باجماعت اداکرینگے انہوں نے کہاکہ حکومت اب بھی سنجیدگی کامظاہرہ کرے اورپرائیویٹ سکولز کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان کرے حکومت کو چاہئے کہ پرائیویٹ اداروں کیلئے بنائے جانیوالے اداروں ای ای ایف اورایف ای ایف کے پاس موجوداربوں روپے میں سے نجی تعلیمی اداروں کوریلیف دے جبکہ تعلیمی اداروں کو ایس اوپی کے تحت فوری کھول دئیے یجائیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -