گومل زام کمانڈ ایریا پراجیکٹ کی تکمیل میں نا اہلی برداشت نہیں کی جائیگی، محمد جاوید

گومل زام کمانڈ ایریا پراجیکٹ کی تکمیل میں نا اہلی برداشت نہیں کی جائیگی، ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)کمشنر ڈیرہ محمد جاوید مروت نے کہا ہے کہ گومل زام کمانڈ ایریا پراجیکٹ کی تکمیل میں تساہل اور نا اہلی برداشت نہیں کی جائیگی۔ پانی میں سیلٹ(گار) کے کنٹرول اور خاتمے کیلئے مربوط لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ لوگوں میں پانی کے استعمال اور مناسب فصلیں اگانے سے متعلق شعور و آگاہی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ گومل زام ڈیم عوامی مفاد کا منصوبہ ہے لہذا مختلف واٹر کورسز کے ٹیل انڈرز تک اسکے ثمرات کو یقینی بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اپنے دفتر کے جرگہ ہال میں گومل زام ڈیم اور کمانڈ ایریا پراجیکٹ سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹرز گومل زام، گومل زام کمانڈ ایریا پراجیکٹ، اسسٹنٹ کمشنر ٹانک، ان لینڈ ریوینیوکے علاوہ محکمہ آبپاشی،زراعت،واپڈا اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ وارن کینال کی تکمیل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔سیلٹ کو کنٹرول کرنے کیلئے لیولنگ کے طریقہ کار کو استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ سیلٹ ایجیکٹر کا طریقہ کار بھی استعمال کیا جا سکتا ہے مگر اس سے پانی کے ضیاع کا بھی خدشہ رہتا ہے لہذا سسٹم کی تکمیل اور سیلٹ کی صورتحال واضح ہونے کے بعد ہی حتمی طریقہ کار زیر استعمال لایا جائے گا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ چیک ڈیمز کی تعمیر اور ایفارسٹیشن سے سائل ایروژن میں نمایاں کمی واقع ہو گی۔ پراجیکٹ میں مجموعی طور پر 110واٹر کورسز شامل کیے گئے ہیں جن سے ایک لاکھ ایکڑ تک زمین سیراب ہو گی۔ ڈیم سے ٹوٹل 17میگا واٹ بجلی کی پید اوار جاری ہے جس میں سے 50فیصد مین گرڈ کو فراہم کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر کمشنر ڈیرہ نے ہدایت کی کہ دو روز کے اندر پراجیکٹ سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کر کے پیش کی جائے جس میں گومل زام ڈیم مکمل پراجیکٹ سٹرکچر، متعلقہ محکموں کا کردار، کارکردگی، ڈیزائن، پراجیکٹ میں موجود خامیوں اور اصلاحات سے متعلق آ راء شامل ہوں جبکہ لوگوں میں پانی کے استعمال اور مناسب فصلوں سے متعلق شعور و آگاہی سے متعلق بھی پلان تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں احسن طور پر سرانجام دیں کیونکہ یہ عوامی مفاد کا منصوبہ ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -