بی این پی مینگل حکومت سے الگ لیکن کیا فیصلہ بدل سکتے ہیں اور ان کے بعد اب عمران خان کو کب اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا؟ اختر مینگل نے واضح کردیا

بی این پی مینگل حکومت سے الگ لیکن کیا فیصلہ بدل سکتے ہیں اور ان کے بعد اب ...
بی این پی مینگل حکومت سے الگ لیکن کیا فیصلہ بدل سکتے ہیں اور ان کے بعد اب عمران خان کو کب اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا؟ اختر مینگل نے واضح کردیا

  

کراچی (ویب ڈیسک) جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے بی این بی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل مل بیٹھ کر حل کرنا چاہتے ہیں ،مسائل کے حل کیلئے حکومت کو وقت دیا مگر سنجیدگی نظر نہیں آئی،ہماری علیحدگی کے بعد بھی حکومت کے پاس اکثریت ہے، دیگر اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑتے ہیں تو وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا، حکومت سے علیحدگی پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا فیصلہ ہے اسے میں بھی تبدیل نہیں کرسکتا۔پروگرام میں وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، ن لیگ کے رہنماخرم دستگیر اور وزیراطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ بھی شریک تھے۔

علی محمد خان نے کہا کہ امید ہے بی این پی مینگل کے ساتھ معاملہ حل ہوجائے گا، تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی شاید ان کی تسلی کے مطابق کام نہیں ہوا، ضرورت پڑی تو عمران خان خود اختر مینگل کی ناراضی دور کرنے چلے جائیں گے، مراد علی شاہ وزیراعظم عمران خان کا استقبال کرنے چلے جاتے تو ان کی عزت بڑھتی۔

خرم دستگیر نے کہا کہ وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے، منی بل پر ووٹنگ میں حکومت ہار گئی تو خودبخود گر جائے گی، پی ٹی آئی نے جمہوریت، معیشت اور خارجہ پالیسی کا جو جنازہ نکالا اسے کندھا دینا مشکل ہوگیا ہے، پی ٹی آئی حکومت کا مسخرہ پن اب آدم خوری تک آگیا ہے، پی ٹی آئی حکومت جہانگیر ترین کے جہاز میں بنی ہے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اسمبلیو ں میں شور شرابا ہماری روایت بن گئی ہے، پی ٹی آئی حکومت خود ہل جل رہی ہے مگر سندھ حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی باتیں کررہی ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -